اسلام آباد : صدر پاکستان آصف علی زرداری نے پاک بھارت حالیہ کشیدگی اور جنگ بندی پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں مستقل امن تب ہی ممکن ہے جب مسئلہ کشمیر کو منصفانہ اور پُرامن طریقے سے حل کیا جائے۔
صدر زرداری نے کہا کہ انہیں ہمیشہ پاک فوج، پاک فضائیہ اور بحریہ کی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا بھرپور اور موثر جواب دیا اور دشمن کی عسکری برتری کا زعم خاک میں ملا دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج قوم کا اتحاد اور حوصلہ مثالی ہے، یہی جذبہ بانیانِ پاکستان کے نظریۂ دو قومی کو تقویت دیتا ہے۔ صدر نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان نے ہمیں اس سے کئی گنا بڑے دشمن کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہونے کا حوصلہ دیا۔
صدر مملکت نے آرمی چیف، ایئر چیف، نیول چیف اور تمام سیکیورٹی اداروں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی بہادری، فرض شناسی اور انتھک محنت نے اس دفاعی معرکے کو کامیابی سے ہمکنار کیا۔ انہوں نے قوم پر زور دیا کہ وہ اس قومی فتح پر شکر ادا کرے اور شہداء کو دعا میں یاد رکھے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر اور سندھ طاس معاہدے جیسے بڑے تنازعات کا حل ہی جنوبی ایشیا میں مستقل استحکام کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
صدر زرداری نے چین، امریکہ، ترکیہ، سعودی عرب اور ایران سمیت تمام دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
آخر میں صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، کسی جارحیت کی ابتدا نہیں کرنا چاہتا، لیکن اپنی خودمختاری اور وقار پر کوئی سمجھوتہ بھی ممکن نہیں۔