سفارتی تعلقات پر سمجھوتہ نہیں ہوگا: خارجہ پالیسی کو مقامی سیاست کی نذر کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا انتباہ

04:40 PM, 10 Mar, 2026

اسلام آباد : وفاقی حکومت نے پاکستان کی خارجہ پالیسی اور دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر جاری غیر ذمہ دارانہ تبصروں پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں واضح کیا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر "ریڈ لائن" کھینچ دی گئی ہے۔
 وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت اور اہم دفاعی ریاست ہے۔ خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے باعث وزیراعظم نے اپنا دورہ روس بھی ملتوی کر دیا ہے، کیونکہ پاکستان کا ہر قدم عالمی امن اور قومی مفاد کے تابع ہے۔ انہوں نے آرٹیکل 19 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ہر شہری کو اپنی بات کہنے کا حق ہے، لیکن ریاست کی سلامتی اور خارجہ امور پر غیر مستند گفتگو کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگر کسی نے ان حدود کو پار کیا تو قانون حرکت میں آئے گا۔
 وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے تشویش ظاہر کی کہ زیادہ ویوز (Views) حاصل کرنے کے لیے لوگ "بھیڑ چال" کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک ہمارے میڈیا کے تبصروں کو "ریاستی پالیسی" سمجھا جاتا ہے، جو کہ سفارتی تعلقات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
 حکومت نے واضح کیا ہے کہ خارجہ امور پر صرف دفترِ خارجہ (Foreign Office) کا موقف ہی حتمی تصور ہوگا، اور کسی بھی فرد کو ذاتی پسند و ناپسند یا سیاسی ایجنڈے کی بنیاد پر حساس ممالک کے خلاف بات کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مزیدخبریں