تہران : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے پاس "کئی حیران کن اقدامات" موجود ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
عراقچی نے سوشل میڈیا پر کہا کہ آپریشن ایپک مسٹیک کے بعد تیل کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہو گئی ہیں اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکا ایران کے تیل اور جوہری تنصیبات کے خلاف سازشیں کر رہا ہے تاکہ مہنگائی کو قابو میں رکھا جا سکے۔
تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے عالمی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ سود کی شرح میں ممکنہ اضافے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خدشات کے باعث اسٹاک مارکیٹیں مندی کا شکار ہو گئی ہیں اور سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کے لیے امریکی ڈالر کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت تقریباً 30 فیصد بڑھ گئی ہے اور فی بیرل قیمت تقریباً 120 ڈالر تک پہنچ گئی۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت 104.5 ڈالر فی بیرل تک اور امریکی خام تیل کی قیمت 101.8 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جس کے نتیجے میں پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول سمیت دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔