افواہوں کی جنگ اور قومی ذمہ داری

09:13 AM, 10 Mar, 2026


ریاست ، حکومت ، افواج پاکستان ، سلامتی کے ادارے اور پوری قوم اس وقت دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے۔ عالم اسلام کی واحد ایٹمی صلاحیت کی حامل ریاست پاکستان اس وقت بدترین دہشتگردی کا شکار ہے۔ ہمیں عیار، سفاک اور مکار دشمن کا سامنا ہے ،اس نے سامنے آکر وار کیا تھا ، پوری دنیا نے دیکھا اسے پاکستان کی افواج نے کیسے دھول چٹائی اور ہمیں ستر سال سے آنکھیں دکھانے والا دشمن گزشتہ سال مئی میں ذلت آمیز شکست کے بعد سے آج تک کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا اب اس نے طریقہ واردات بدل لیا ہے۔ اب وہ سامنے آ کر وار نہیں کرتا بلکہ بزدلانہ حملے کرتا ہے۔ وہ صرف سرحدوں اور ہمارے شہروں پر حملے نہیں کرتابلکہ ذہنوں میں شکوک کے تیر بھی اتارتا ہے۔ وہ بارود سے زیادہ افواہوں پر انحصار کرتا ہے اور بندوق سے زیادہ بیانیے کو ہتھیار بناتا ہے۔کبھی مذہب کے نام پر نوجوانوں کو ورغلایا جاتا ہے تو کبھی فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دی جاتی ہے، کبھی حقوق کے خوبصورت نعروں میں نفرت کی چنگاریاں چھپا دی جاتی ہیں اور کبھی آزادی کے نام پر انتشار کا زہر گھول دیا جاتا ہے۔
 اس کی ہر چال کا مرکز ایک ہی ہے ، عالم اسلام کی واحد ایٹمی طاقت اور مستحکم ریاست پاکستان کو کمزور کرنا اوریہ دشمن صرف جغرافیے پر حملہ نہیں کرتا، یہ نظریے پر حملہ کرتا ہے۔ یہ صرف چوکیوں کو نشانہ نہیں بناتا، یہ قوم کے اعتماد کو نشانہ بناتا ہے۔ یہ ہماری صفوں میں شکوک کے بیج بوتا ہے، ریاست اور عوام کے درمیان بداعتمادی پیدا کرتا ہے، سلامتی کے اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرتا ہے اور معصوم جانوں کو اپنے مکروہ کھیل کا ایندھن بناتا ہے۔دشمن کی سب سے بڑی کامیابی اس وقت ہوتی ہے جب ہم خود اپنے بارے میں بدگمان ہو جائیں۔ جب ہم سنی سنائی باتوں کو سچ مان لیں، جب ہم تحقیق کے بجائے جذبات کی بنیاد پر فیصلے کریں، جب ہم سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ کو حقیقت سمجھ کر آگے بڑھا دیں۔ دشمن کو بندوق کی گولی سے زیادہ خوشی ہماری باہمی نفرت سے ملتی ہے۔
وقت آگیا ہے کہ اب ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ کی نوعیت بدل چکی ہے۔ اب محاذ صرف سرحدوں پر نہیں، گھروں کے اندر، موبائل فون کی سکرینوں پر اور ذہنوں کے اندر قائم ہو چکے ہیں۔ ہر شہری اب صرف تماشائی نہیں بلکہ اس جنگ کا فریق ہے۔ ہمارا ہر لفظ، ہر شیئر، ہر تبصرہ اس جنگ میں ایک کردار ادا کرتا ہے۔یہ وقت الزام تراشی کا نہیں، خود احتسابی کا ہے، یہ وقت تقسیم کا نہیں، اتحاد کا ہے،اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا دشمن کا ہتھیار ہے۔ ہمیں اختلاف کو مکالمے میں اور تنقید کو اصلاح میں بدلنا ہوگا۔پاکستان کی بنیاد قربانیوں پر رکھی گئی تھی۔ اس سرزمین نے دہشت گردی کی ایک طویل اور خونی لہر کا مقابلہ کیا ہے۔ ہمارے سپاہیوں نے سرحدوں پر جانیں قربان کیں، ہمارے شہریوں نے بازاروں، مساجد اورسکولوں میں اپنے پیارے کھوئے۔ یہ قوم کمزور نہیں ہے، مگر اسے کمزور دکھانے کی کوشش ضرور کی جا رہی ہے۔ہمیں اپنے اداروں پر تنقید کا حق ہے، مگر اس حق کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرنا ہوگا۔ 
اس ضمن میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمیں سوال اٹھانے کا اختیار ہے، مگر ان سوالوں کو دشمن کے بیانیے کا حصہ نہیں بننے دینا۔ ہمیں آزادی اظہار عزیز ہے، مگر اس آزادی کو انتشار کا ذریعہ نہیں بننے دینا۔دشمن چاہتا ہے کہ ہم تھک جائیں، بکھر جائیں، ایک دوسرے سے بدظن ہو جائیں۔ مگر قومیں اس وقت ہارتی ہیں جب وہ امید ہار دیتی ہیں۔ اگر ہم شعور، اتحاد اور ذمہ داری کا دامن تھام لیں تو کوئی سفاک، عیار اور مکار دشمن ہمیں شکست نہیں دے سکتا۔یہ ملک صرف زمین کا ٹکڑا نہیں، یہ ہماری پہچان ہے، ہماری تاریخ ہے، ہمارے بزرگوں کی امانت ہے اور ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل ہے۔ اس کی حفاظت صرف فوج کی ذمہ داری نہیں، یہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ آئیے عہد کریں کہ ہم دشمن کی ہر چال کو ناکام بنائیں گے۔ ہم افواہوں کے بجائے تحقیق کو اپنائیں گے، نفرت کے بجائے برداشت کو فروغ دیں گے، اور تقسیم کے بجائے اتحاد کو مضبوط کریں گے کیونکہ جب قوم بیدار ہو جائے تو سب سے بڑا دشمن بھی بے بس ہو جاتا ہے۔

مزیدخبریں