ایرانی استقامت سے امریکہ و اسرائیل حیران

09:12 AM, 10 Mar, 2026

عالمی سیاست کی تاریخ میں ایسے لمحات بارہا آئے ہیں جب کسی قوم کو بیرونی دباؤ، جنگ اور معاشی پابندیوں کے باوجود اپنی قومی وحدت اور عزم کے ذریعے دنیا کو حیران کرنے کا موقع ملا۔ ایران کے خلاف حالیہ امریکہ۔اسرائیل کشیدگی اور جنگ نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ کسی بھی قوم کی اصل طاقت اس کے ہتھیاروں یا معاشی وسائل سے زیادہ اس کے عوام کے حوصلے، اتحاد اور قربانی کے جذبے میں ہوتی ہے۔ ایران کے معاملے میں بھی یہی حقیقت نمایاں طور پر سامنے آئی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے جب ایران کے خلاف حملوں کا آغاز کیا تو انکا اندازہ تھا کہ مسلسل معاشی پابندیوں، سیاسی دباؤ اور سفارتی تنہائی کے باعث ایرانی ریاست اور معاشرہ اندر سے کمزور ہو چکا ہوگا۔
 امریکہ اور اسرائیل کو امید تھی کہ فوجی دباؤ اور نفسیاتی جنگ کے نتیجے میں ایرانی عوام حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور اندرونی انتشار پیدا ہو جائے گا۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس نکلی۔ ایرانی قوم نے جس صبر، استقامت اور اتحاد کا مظاہرہ کیا اس نے نہ صرف امریکہ اور اسرائیل بلکہ انکے اتحادیوں کو بھی حیران کر کے رکھ دیا۔ جب بھی ایران کو بیرونی خطرات کا سامنا ہوا تو وہاں کی عوامی یکجہتی مزید مضبوط ہوئی ہے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد سے ایران مسلسل پابندیوں، جنگی خطرات اور سفارتی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، مگر اس تمام عرصے میں ایرانی معاشرے نے اپنی سیاسی اور قومی شناخت کو برقرار رکھا ہے۔ حالیہ بحران میں بھی یہی روایت دہرائی گئی۔
جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف حملوں کا دائرہ وسیع کیا تو مغربی دنیا میں یہ توقع کی جا رہی تھی کہ ایران کے اندر سیاسی تقسیم شدت اختیار کرے گی۔ انہیں یہ امید بھی تھی کہ بیرون ملک مقیم سابق شاہی خاندان کے نمائندے رضا شاہ پہلوی کی واپسی کیلئے عوامی حمایت پیدا ہو گی لیکن ایرانی سڑکوں پر جو مناظر دیکھنے کو ملے وہ ان تمام اندازوں کے بالکل برعکس تھے۔ جنگ کے دوران لاکھوں ایرانی شہری سڑکوں پر تو ضرور نکل آئے، مگر کسی بیرونی شخصیت کے استقبال کیلئے نہیں بلکہ اپنے شہداء اور سپریم لیڈر کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد جو عوامی ردعمل سامنے آیا اس نے یہ واضح کر دیا کہ ایرانی معاشرے میں مذہبی اور قومی قیادت کے ساتھ جذباتی اور نظریاتی وابستگی کس قدر گہری ہے۔
یہ منظر امریکہ اور اسرائیل کیلئے ایک بڑا سٹرٹیجک جھٹکا ثابت ہوا۔ مغربی حکمت عملی اکثر اس مفروضے پر مبنی ہوتی ہے کہ شدید معاشی پابندیاں اور فوجی دباؤ کسی بھی ملک کے اندرونی استحکام کو توڑ سکتے ہیں۔ لیکن ایران کے معاملے میں یہ حکمت عملی بار بار ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ایران کی دفاعی تیاریوں نے بھی مخالف قوتوں کو حیران کیا۔ کئی برسوں سے ایران اپنے میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی اور علاقائی دفاعی نیٹ ورک کو مضبوط بنا رہا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل ان ایرانی صلاحیتوں کو کم تر سمجھتے رہے، لیکن حالیہ جنگی حالات نے ظاہر کیا کہ ایران نے نہ صرف اپنی دفاعی پوزیشن مضبوط کی بلکہ ایک مؤثر جوابی صلاحیت بھی تیار کر رکھی تھی۔
ایران کی عسکری حکمت عملی صرف روایتی جنگ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے غیر روایتی اور سٹرٹیجک طریقوں کو بھی استعمال کیا۔ خطے میں موجود اتحادی گروہوں اور جغرافیائی اثر و رسوخ نے بھی ایران کو ایک وسیع دفاعی دائرہ فراہم کیا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کیلئے یہ جنگ توقع سے کہیں زیادہ پیچیدہ ثابت ہوئی۔ تاہم ایران کی اصل طاقت اسکی عسکری صلاحیت نہیں بلکہ اسکی عوامی مزاحمت ہے۔ ایرانی معاشرے میں قربانی اور مزاحمت کا تصور گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔ ایران۔عراق جنگ کے دوران بھی ایرانی قوم نے آٹھ سال تک شدید مشکلات برداشت کیں مگر اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
ایرانی قوم کے اسی ڈی این اے نے حالیہ بحران میں بھی ایرانی عوام کو حوصلہ دیا۔ معاشی مشکلات، پابندیوں اور جنگی خطرات کے باوجود ایرانی معاشرہ ٹوٹنے کے بجائے مزید متحد دکھائی دیا۔ یہ وہ عنصر ہے جسے امریکہ اور اسرائیل درست انداز میں سمجھ نہیں سکے۔ بین الاقوامی سیاست میں اکثر بڑی طاقتیں یہ سمجھتی ہیں کہ ٹیکنالوجی اور عسکری برتری انہیں فوری کامیابی دلا سکتی ہے۔ لیکن تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ جب کوئی قوم اپنے ملک کے دفاع کیلئے متحد ہو جائے تو بیرونی طاقتوں کیلئے اسے شکست دینا آسان نہیں ہوتا۔ ویتنام، افغانستان اور عراق کی مثالیں اس حقیقت کی گواہ ہیں۔
ایران کے معاملے میں بھی یہی صورتحال سامنے آتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایران نے نہ صرف فوجی سطح پر مزاحمت کی بلکہ سفارتی اور نفسیاتی محاذ پر بھی اپنے مخالفین کو حیران کر دیا۔ عوامی یکجہتی کے مظاہروں نے یہ پیغام دیا کہ بیرونی دباؤ کے باوجود ایرانی قوم اپنی خودمختاری اور قومی وقار پر سمجھوتہ کرنے کیلئے تیار نہیں۔ یہ صورتحال امریکہ اور اسرائیل کیلئے ایک اہم سبق ہے۔ کسی بھی ملک کے بارے میں صرف عسکری یا معاشی تجزیے کافی نہیں ہوتے بلکہ اس کے معاشرتی ڈھانچے، نظریاتی بنیادوں اور قومی شعور کو بھی سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ ایران کے معاملے میں یہی پہلو سب سے زیادہ طاقتور ثابت ہوا۔
حالیہ بحران نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ قوموں کی اصل طاقت انکے اتحاد، صبر اور استقامت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ اور اسرائیل نے شاید یہ سمجھا تھا کہ شدید دباؤ کے نتیجے میں ایرانی معاشرہ ٹوٹ جائے گا، مگر حقیقت اسکے برعکس نکلی۔ ایرانی قوم نے جس اتحاد، حوصلے اور قربانی کا مظاہرہ کیا اس نے امریکہ, اسرائیل اور انکے حمایتیوں کو حیران کر کے رکھ دیا۔ ایران کی یہ مثال اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ جب کوئی قوم اپنے نظریات، قیادت اور قومی وقار کے دفاع کیلئے متحد ہو جائے تو بڑی سے بڑی طاقت بھی اسے آسانی سے جھکا نہیں سکتی۔ یہی استقامت اور قومی یکجہتی ایران کی سب سے بڑی قوت ہے اور مستقبل کی سیاست میں بھی یہی عنصر اسکی پوزیشن کو مضبوط بناتا رہے گا۔

مزیدخبریں