عزیزِ گرامی پروفیسر ڈاکٹر نوید جمیل ملک کے حال ہی میں چھپنے والے شاعری کے مجموعے ’’پہچان کا سفر‘‘ کے بارے میں لکھنے سے قبل میں ضروری سمجھتا ہوں کہ عزیزِ گرامی نوید جمیل ملک کا مختصر سا تعاف کراؤں۔ نوید کا تعلق ہمارے شہرِ خوباں راولپنڈی سے ہے۔ راولپنڈی کی مرکزی شاہراہ مری روڈ کے معروف محلہ وارث خان میں عرصہ قدیم سے ان کے خاندان کے لوگ آباد چلے آ رہے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر نوید جمیل ملک سے ایک تو یہ نسبت ہے اور اس سے بڑھ کر دوسری نسبت یہ ہے کہ وہ پچھلی صدی کی ستر کی دہائی میں ایف جی سر سید سکول و کالج میں میرے سکول کے شاگرد رہے ہیں، جہاں اُن کے والدِ گرامی پروفیسر جمیل ملک وائس پرنسپل کے طور پر متعین تھے۔ نوید جمیل ملک کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے پوسٹ گریجویٹ تعلیم سائنسی مضامین میں حاصل کی۔ اَزاں بعد ادبیات اور سوشل سائنسز میں دلچسپی کی بنا پر انہوں نے سوشل سائنسز میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ آج کل وہ یونیورسٹی آف سیالکوٹ میں سوشل سائنسز کے ڈین کے طور پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
عزیزِ گرامی پروفیسر ڈاکٹر نوید جمیل ملک اور ان کی شاعری کے مجموعے کے بارے میں لکھتے ہوئے مجھے اپنی کم مائیگی کا احساس ہے کہ میں کوئی ایسا قلم کار اور صاحبِ علم و دانش نہیں ہوں کہ ان کے کلام کو نقد و نظر کے پیمانوں پر پرکھ سکوں تاہم مجھے فخر و انبساط اور مسرت کا احساس ضرور ہے کہ میں اپنے ایک انتہائی ذہین، قابلِ قدر، شائستہ اطوار، سنجیدہ خو اور راست گو شاگرد رشید کے بارے میں اظہارِ خیال کر رہا ہوں۔ اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیںہے کہ عزیزِ گرامی پروفیسر ڈاکٹر نوید جمیل ملک کا جس خانوادے سے تعلق ہے اس کے لیے میرے دل میں بے پناہ عزت اور احترام ہے۔ ان کے والد پروفیسر جمیل ملک مرحوم اپنے دور کے ایک بڑے شاعر اور ممتاز نقاد تھے، وہ ملک کی معروف درس گاہ سر سید سکول و کالج راولپنڈی میں ہمارے پرنسپل تھے۔ وہ بلاشبہ ایک بڑی با حوصلہ، اعلیٰ ظرف اور مثبت سوچ کی حامل شخصیت تھے، جن سے زندگی کے قرینوں سمیت ہمیں بہت کچھ سیکھنے، سمجھنے اور جاننے کے مواقع ملے۔ ان کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن یہاں اس کی گنجائش نہیں البتہ اتنا ضرور کہوں گا کہ وہ ایک ایسی حلیم الطبع اور شریف النفس شخصیت تھے، جن کو یاد کرتے ہوئے اب بھی
آنکھیں ادب سے جُھک جاتی ہیں۔
عزیزِ گرامی نوید جمیل جنہیں شاعری کا ذوق ورثے میں ملا ہوا ہے کی شاعری کے بارے میں لکھتے ہوئے میں کہنا چاہوں گا کہ کوئی بھی شخصیت جیسی ہو، اس کا پر تو اس کی سوچ، فکر، جذبات اور نگارشات میں ضرور جھلکتا ہے۔ نوید جمیل جیسے خود روشن دماغ، حریت فکر اور دین کی تعلیمات سے لگائو رکھنے والی اُجلی اور ہر طرح کے تصنع اور بناوٹ سے پاک شخصیت کے مالک ہیں، ان کی شاعری میں بھی اس کی جھلک نظرآتی ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ نوید کی شاعری تلاش اور پہچان کے سفر کی شاعری ہے۔ تلاش اور پہچان کا سفر کیا زبردست سفر ہے کہ انسان جب اپنے آپ کو پہچان لیتا ہے تو پھر وہ اپنے رب کو پہچان لیتا ہے اور اس کی رضا، رب کی رضا بن جاتی ہے۔ نوید اس مقام تک پہنچے ہیں یا نہیں لیکن وہ ’’تلاش کا موسم اور پہچان کا سفر‘‘ کے عنوان سے اپنے تعارفی کلمات میں لکھتے ہیں۔ ’’شاعر کا کام پہچان دینا ہوتا ہے۔ میں نے خود کو پہچاننے کے جاں گداز عمل سے گزرنے کے بعد اپنی قوم کو پہچان کا راستہ دکھانے میں اپنا حقیر سا حصہ ڈال دیا ہے۔ اب اگر آپ چاہیں تو اپنی زندگی کے سفر میں پہچان کے اس آئینے میں خود کو دیکھیں اور اپنا ذاتی، قومی، معاشی اور مذہبی تشخص تلاش کریں کہ زندگی بھر نہ تلاش کا موسم وقت کے گزرنے سے ختم ہوتا ہے اور نہ ہی پہچان کے سفر کی منزل اتنی آسانی سے ملا کرتی ہے۔‘‘
نوید کے یہ اشعار تلاش کے موسم اور پہچان کے سفر کی کیا خوبصورت اور دل آویز عکاسی کرتے ہیں:
تیری تلاش کا موسم عجیب موسم تھا
تیری تلاش کے موسم میں سارے موسم تھے
اپنی پہچان کا سفر اتنا آساں تو نہیں
عہد و پیماں کا سفر اتنا آساں تو نہیں
نوید کی شاعری کا کمال یہ ہے کہ یہ ایسی سادہ، شُستہ، رواں دواں اور خوبصورت زبان میں ہے کہ دل میں سما جاتی ہے۔ حمد و نعت کے اشعار خاص طور پر بہت دلآویز اور پُر کشش کہ کوئی تصنع نہیں، کوئی بناوٹ نہیں جیسے اپنے رب ِ کریم اور اس کے پیارے حبیبِ کبریاﷺ کے حضور جھولی پھیلا کر اپنے جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہو۔ حمد کا یہ شعر دیکھیے:
تہی نصیب ہوں، کچھ بھی تو میرے پاس نہیں ہے
میں اپنی جھولی تیرے در پہ آ بھروں اللہ
ان نعتیہ اشعار کے کیا کہنے:
حرا کی آنکھ سے پھوٹا جہاں میں پھیل گیا
وہ نورِ عشق تھا کون و مقام میں پھیل گیا
مجھے نوید ملی ہے کہ اے نوید جمیل
میں جن کے دم سے ہوں زندہ میرے حبیبؐ ہیں وہ
’’سلام بحضور حسین ابنِ علی ؓ‘‘ کا یہ شعر دل میں دُور تک اُتر جاتا ہے:
سلام اس پر، کہ جس کے ذکر سے صبحیں منور ہوں
سلام اُس پر کہ جس کا ذکر کر دے شام کو زندہ
’’پہچان کا سفر‘‘ کے تحت نوید کی شاعری کے اس مجموعے میں حمد ، پانچ نعتیں ، ایک سلام بحضور حسین ابنِ علی ؓ سمیت چھوٹی بڑی بحور کی اڑتالیس غزلیں اور چوالیس نظمیں شامل ہیں۔ غزلوں کے کچھ اشعار پیش کیے جاتے ہیں کہ عشق و محبت کے غزل کے روایتی مضمون کی جگہ نوید نے اپنے خیالات اور جذبات کی ترجمانی کی ہے:
اٹھاؤں ہاتھ دعا کے لیے، تو کیا مانگوں
میں کوئی خوابِ وفا خود سے ماورا مانگوں
میں حرفِ سادہ میں اک داستان کہہ دوں گا
کوئی نہ ہو گا بیاں اس بیان سے آگے
چھوٹی بحر کی منزل کے یہ اشعار:
شیش محل پر اُٹھتے ہیں
شہر میں پتھر اُگتے ہیں
اپنے گھر کے رکھوالے
اپنے ہاتھوں لُٹتے ہیں
پھر یہ کیا خوبصورت اشعار ہیں:
کئی برسوں کی جاں لیوا ریاضت مانگتا ہے
محبت گیت ایسا ہے جو سب گایا نہیں کرتے
ترے بغیر ادھوری کہانی ہے
یہ زندگی کہ ترے نام پہ لٹانی ہے
پھر یہ شعر
جب رچا معرکۂ جوروجفا
ہم نے مظلوم کی حمایت کی
مزے کی بات ہے کہ نوید نے کم ہی غزلوں کے مقطع میں اپنا تخلص استعمال کیا ہے۔
’’پہچان کا سفر‘‘ کی نظموں کی طرف آئیں تو ان کے عنوانات اپنے اندر بے پناہ جاذبیت رکھتے ہیں۔ ان میں سے ’’اپنے گھر، اپنے وطن کے لیے دعا‘‘ کے عنوان سے نظم کے ایک بند پر اختتام کرتے ہیں:
اے خدا، میرے خدا
وقت کے البم میں
میرے گھر، میرے وطن کی
ایسی دلنشین تصویر ہو!
قائد کے فرمانوں کی اک تحریر ہو
اقبال کے خوابوں کی اک تعبیر ہو
قرآن کی تفسیر ہو
’’پہچان کا سفر‘‘ ۔۔ شاعری کا ایک خوبصورت مجموعہ!
09:11 AM, 10 Mar, 2026