گریٹر اسرائیل کا ناپاک ارادہ

09:10 AM, 10 Mar, 2026

ہر صاحب شعور اپنے ذہن میں نصب میڈ ان فطرت میموری کارڈ کو تعصب کی آلودگی سے پاک کرتے ہوئے یاد کرے کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا تھا گریٹر اسرائیل بننے میں کوئی بھی عرب ریاست راستے کی دیوار نہیں بنے گی۔ اگر کوئی ملک رکاوٹ ڈالے گا تو وہ پاکستان ہو گا یا ایران۔ یہ بات نیتن یاہو نے اس وقت کی تھی جب تیسری دنیا کے مسلم ممالک غزہ کی تباہی اور بچوں کا قتل عام ویڈیو کی صورت بے حس ہتھیلیوں میں جکڑی ہوئی سمارٹ سکرین پر دکھا کر چندہ جمع کر رہے تھے۔ پاکستان میں فرض یا سنت عبادات کے بعد، قل خوانیوں کے مجمع عام میں، مجالس و میلاد میں ایک دعا لازمی مانگی جاتی رہی کہ اے میرے رب فلسطین کو آزادی عطا کر اور اسرائیل کو تباہ کر دے مگر دعا ہمیشہ رد کر دی گئی اور مظالم زیادہ ہوتے گئے۔ اس لیے کہ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات۔ ہم نے عملی طور پر کچھ کیا اور نہ کر سکتے تھے مگر اتنا عمل ضرور ہوا کہ چندہ جمع کر کے ہر مناسب ادارے کی طرف سے اور کچھ مخیر حضرات کی طرف سے سامان سے بھرے ٹرکوں کے ماتھے پر غزہ کے بچوں کی تصاویر لٹکا کر انہیں گم نام راہوں کی طرف روانہ کر دیا۔ امریکا اور اسرائیل ممکنہ اور مجوزہ گریٹر ریاست اور اپنی ناپاک توسیع پر منصوبہ بندی کرتے رہے۔ انہیں یقین تھا کہ کوئی عرب ریاست ان کے لیے مشکلات پیدا نہیں کرے گی اور اگر کرے گی تو وہ مفتیان دین و ملت سے فتویٰ لے لیں گے۔ مفتیان تو جانتے ہیں کہ فتویٰ نہ ماننے والے نکاح کے ٹوٹ جانے سے کتنا بلیک میل ہوتے ہیں۔ پھر ایسا ہی ہوا دونوں شریر ریاستوں نے ایران میں اپنے ایجنٹ مقرر کر دئیے اور وہ غدار بکاؤ مال ہونے کے ساتھ ساتھ امریکا کا ساتھ اس طرح دینے لگے کہ اسے فلاحی ریاست ثابت کرتے ہوئے اپنے ہی سربراہوں کی مخبری کرنے لگے۔ ہزاروں غدار ایران سے پکڑے بھی گئے اور کچھ کو تو جرم ثابت ہونے پر موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ امریکا اور اسرائیل کو ایران سے کم خطرہ تھا اس لیے انہوں نے غداری کے اتوار بازار سے اپنے حصے کے گندے انڈے چن لیے۔ پاکستان کے بارے میں ان دونوں ممالک کی پالیسی مختلف تھی کیونکہ یہاں پر فیلڈ مارشل کی صورت میں ایک بیدار دماغ نظام تحفظ کو قابو میں رکھے ہوئے تھا۔ یہاں انہوں نے وہاں ہاتھ رکھا جن کی باتوں میں آ کر لوگ دین مذہب کے مفاہیم بدلنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ کسی کو ویزے سمیت بلایا گیا اور کسی کو گھر بیٹھے بٹھائے معاشی فکر سے ہمیشہ کے لیے آزاد کر دیا گیا اور پھر حصہ بقدر مقبولیت پا لینے کے بعد انہوں نے ایک بار پھر ایران کو مسلک کے ترازو پر تول کر کافر ریاست ثابت کرتے دیر نہیں لگائی۔ فرقہ واریت کا چورن اس طرح بیچا گیا جیسے اسرائیلی و امریکی آب زم زم کے غسل سے پاک ہو کر احرام باندھنے کو تیار کھڑے ہوں۔ امریکی و اسرائیلی زنبیل سے مرئی و غیر مرئی طور پر نوازے گئے چند یوٹیوبرز نے نیتن یاہو کو ایران کی نفرت میں القابات حریت دے ڈالے اور پاکستانی جماعت اسلامی کی طرف سے پڑھائے گئے خامنائی کے غائبانہ نماز جنازہ کے شرکا کو تجدید ایمان اور پھر سے نکاح پڑھانے کا فتویٰ دے ڈالا۔ غزہ کے لیے چندہ مہم چلانے میں پیش پیش چند گروہوں نے جب ظالم اسرائیل کو مار کھاتے دیکھا تو انہیں ایران کا مسلک یاد آ گیا۔ ایران کے غداروں نے اپنے ہی رہنماؤں کی مخبری کر کے مروایا اور اِدھر قوم کو ایسے دو راہے پر لا کھڑا کیا جہاں ایران کے مقابلہ میں اسرائیل کو اسلام کے زیادہ قریب گردانا گیا۔ گریٹر اسرائیل بننے میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کو مزید مشکل میں تب ڈالا گیا جب تمام مسلم ریاستوں میں امریکی اڈے قائم کرتے ہوئے سعودیہ اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ کرایا گیا جس میں یہ اصول طے ہو گیا کہ پاکستان پر حملہ سعودیہ پر حملہ تصور ہو گا اور سعودیہ پر حملہ پاکستان پر حملہ سمجھا جائے گا، حالانکہ دنیا جانتی ہے پاکستان پر حملہ کرنے کی جرأت کسی ریاست میں ہے ہی نہیں۔ پھر ایران نے امریکی اڈوں پر جوابی حملے کیے تو مشترکہ دفاعی معاہدہ سامنے آ گیا۔ مسلم دنیا اور خاص طور پر پاکستان کو جنگ میں دھکیلنے کا سکرپٹ تو گزشتہ برس ہی لکھ دیا گیا تھا۔ نیتن یاہو نے امریکا کے ساتھ مل کر صرف ایران میں ہی نہیں، پوری مسلم دنیا میں اپنے خونی پنجے گاڑھ رکھے ہیں فرق صرف انداز کے مختلف ہونے کا ہے کہ کہیں وہ لوگ خریدتا ہے اور کہیں منفی ذہن سازی کے لیے پیشواؤں کے دماغ ہموار کرتا ہے۔ نیتن یاہو کی طرف سے کہی گئی گریٹر اسرائیل والی بات فقط ایک سوچ ہی نہیں تھی اس پر عمل بھی شروع ہو چکا ہے اور ہمیں مشترکہ دشمن کا مقابلہ مسلکی اختلافات فراموش کرتے ہوئے کرنا ہو گا کہ پاکستان بنیان مرصوص کی عظیم الشان کامیابی کے بعد ایک مضبوط ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے اور سنجیدہ ریاستوں میں گروہی و مسلکی سیاست کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ ایران نے ویسے بھی اپنی جرأت اور بہادری سے امریکا و اسرائیل کی توقعات پر پانی پھیر دیا ہے اور بے پناہ ردعمل دیتے ہوئے نیا سپریم لیڈر بھی چن لیا ہے۔ رجیم کی تبدیلی اب ایک ایسا خوف ناک خواب بن کر گریٹر اسرائیل کی بنیادوں میں دیمک کی طرح بیٹھا رہے گا جس کی تعبیر فقط اللہ اکبر کے نعرے سے خوف زدہ رہے گی۔

مزیدخبریں