دو روز قبل 8مارچ کو دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی یہ دن متنازع مباحث کی زد میں رہا تاہم ان مباحث کی شدت ماضی کے مقابلے میں خاصی کم رہی۔ وجہ شاید یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران معاشرے میں خواتین کے حقوق سے متعلق آگاہی میں اضافہ ہوا ہے اور انھیں تحفظ دینے کے لیے باقاعدہ قانون سازی بھی ہوئی ہے جبکہ حکومتی سطح پر متعدد اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ شاید ان تنظیموں کا جذبہ بھی پہلے کی نسبت ماند پڑ گیا ہے جو کبھی بہت شدومد سے یہ دن منایا کرتی تھیں اور غالباً ان لوگوں کا غصہ بھی کسی قدر ٹھنڈا پڑ چکا ہے جو ان تنظیموں کی مخالفت میں آسمان سر پر اْٹھائے رکھتے تھے۔ یوں معاشرہ اب ایک توازن کی طرف گام زن ہے۔ اور یہی توازن سب سے اچھی چیز ہے۔
عورت اور مرد کائنات کی ایک ازلی اور ابدی حقیقت ہیں اور ان دونوں کا وجود ہی کرہ ارض پر زندگی کا ضامن ہے۔ دونوں میں سے کوئی ایک صنف بھی نہ ہو تو زندگی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ نظام شمسی کا تیسرا سیارہ زمین جو ہمارا گھر ہے، یہاں انسانی زندگی ہزاروں سال سے موجود ہے اور اسے مرد اور عورت مل کر ہی آگے بڑھا رہے ہیں۔ پہلے یہ صرف انسان تھے، مرد اور عورت کی تفریق بہت بعد میں آئی لیکن یہ کبھی اتنی گہری نہ تھی جتنی گزشتہ چند برسوں کے دوران ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ دونوں نے اپنے اپنے معاشرتی کردار کو دل سے تسلیم کر رکھا تھا۔
سوال یہ ہے کہ اب ایسا کیا ہوا کہ نوع انسان کی دونوں اصناف میں اختلاف جڑ پکڑنے لگے۔ خاص طور پر عورت کو مرد سے شکایات پیدا ہونے لگیں۔ اس کے جواب میں ایک طبقہ مذہب کو اس تفریق کا ذمہ دار قرار دیتا ہے جبکہ دوسرے طبقے کے نزدیک پدرسری نظام اس تفریق کا ذمہ دار ہے۔ ایک طبقہ مرد کو ذمہ دار گردانتا ہے تو ایک اور طبقے کے مطابق عورت ہی عورت کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ غرض اس حوالے سے مختلف نقطہ ہائے نظر ہیں۔ لیکن بنیادی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا یا اسے دانستہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
بنیادی بات یہ ہے کہ عورت اور مرد میں فرق قدرت نے خود رکھا ہے اور اس کے مطابق ان کے کردار بھی متعین کر دیئے ہیں۔ دونوں اصناف انسان ہوتے ہوئے بھی کئی حوالوں سے مختلف ہیں۔ یہ اختلاف صرف انسانوں تک نہیں بلکہ عالم حیوانات اور عالم نباتات کی ہر نوع میں موجود ہے۔ نباتات کی بات کی جائے تو پودوں میں بھی نر اور مادہ ہوتے ہیں۔ نر پودے صرف زردانے پیدا کرتے ہیں، ان پر پھل نہیں لگتا جبکہ مادہ پیڑ زردانے پیدا نہیں کرتے لیکن پھل دیتے ہیں تاہم بعض پودے ایسے بھی ہیں جن میں دونوں اصناف کے اوصاف پائے جاتے ہیں یعنی وہ زردانے بھی پیدا کرتے ہیں اور پھل بھی دیتے ہیں۔ عالم حیوانات میں بھی اس قسم کے جانور پائے جاتے ہیں جن میں دونوں اصناف کی خوبیاں موجود ہوتی ہیں۔ ایسے جانوروں میں کیڑے مکوڑے اور سمندری مخلوقات شامل ہیں۔ انسان کا تعلق عالم حیوانات کے جس زمرے سے ہے، اسے ممالیا کہا جاتا ہے۔ ممالیا جانوروں کو جانداروں کی سب سے زیادہ جدید یا ترقی یافتہ شکل کہا جاتا ہے۔ ان جانوروں میں نر اور مادہ الگ الگ ہوتے ہیں۔ ممالیا زمرے میں کوئی بھی ایسا جانور نہیں جس میں بیک وقت نر اور مادہ کی صفات موجود ہوں۔
جہاں تک انسان کا تعلق ہے تو ان میں بھی تمام ممالیا جانوروں کی طرح نر اور مادہ الگ الگ ہیں جنھیں مرد اور عورت کہا جاتا ہے البتہ انسانوں میں کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہو جاتے ہیں جن میں دونوں اصناف کی علامات موجود ہوتی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسے لوگوں کو مرد اور عورت سے برتر سمجھا جائے لیکن یہاں معاملہ الٹ ہے۔ کسی ایک شخص میں دونوں اصناف کی علامات ہونا برتری نہیں بلکہ بیماری سمجھی جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کو تیسری جنس کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے اور یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ انسانوں میں سب سے زیادہ مظلوم تیسری جنس ہے۔
اس ساری تفصیل کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مرد اور عورت میں اختلاف قدرت نے خود رکھا ہے، کسی انسان نے نہیں۔ یوں عورت اور مرد انسان ہوتے ہوئے بھی ایک سے نہیں بلکہ کئی حوالوں سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اگر ایک طرف مرد میں انسانی نسل کو آگے بڑھانے کی صلاحیت ہے تو دوسری طرف عورت کو نسل انسانی پیدا کرنے اور اسے پالنے والی صلاحیت سے مزین کیا گیا ہے۔ یہ صلاحیت مرد کے پاس نہیں۔ دونوں کی ساخت اور بناوٹ میں بھی نمایاں فرق ہے۔ دوسری طرف ان میں بہت سی چیزیں مشترک بھی ہیں۔ مرد اور عورت کے درمیان یہ اختلافات اور مشترکات ایک بنیادی حقیقت ہیں اور انھی کی بنیاد پر انسانی معاشرے تشکیل پاتے ہیں۔
خواتین کا عالمی دن اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ عورت کو اس کی ساخت اور ہیئت کے مطابق جو مقام، احترام اور اہمیت حاصل ہے، وہ اسے دی جائے زندگی کے کسی معاملے میں اس کی حق تلفی نہ کی جائے۔ عورت کے بغیر دنیا نامکمل ہے، اسی کے دم سے اس دنیا کی خوبصورتی ہے۔ یہ خوبصورتی قائم و دائم رہنی چاہیے۔
عورت کو بھی ان معاشرتی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے جن کی اس سے توقع کی جاتی ہے۔عورت ماں، بہن، بیٹی، بیوی سمیت ہر حیثیت میں احترام کے قابل ہے۔ اسے اسی دائرے میں اپنے مقام کو مستحکم کرنا چاہیے۔ اسی سے معاشرے کا توازن قائم رہے گا۔ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:
صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے، پا بہ گِل بھی ہے
انھی پابندیوں میں حاصل آزادی کو تو کر لے
ہردن عورت کا دن
09:10 AM, 10 Mar, 2026