زخم بولتے ہیں 

07:51 PM, 10 Mar, 2025

جب زمین کے سینے پر بارود کے زخم ثبت ہوں، جب فضائیں چیخوں کے نوحے گنگنا رہی ہوں، جب اذانوں کی صدائیں دھماکوں میں دب جائیں، جب چراغ کی لو دہشت کے سائے سے لرزاں ہو، جب امیدیں راکھ میں دب جائیں اور خواب خاک میں مل جائیں، تب جان لیجئے کہ وہاں بربریت نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ خیبر پختونحوا اور بلوچستان کی سرزمین پر یہی خون آشام کہانی دہائیوں سے دہرائی جا رہی ہے۔ یہ دو خطے فقط جغرافیائی حدود نہیں بلکہ قربانیوں کے مدفن ہیں، جہاں ہر گلی زخم خوردہ ہے، ہر آنگن بین کرتی ماں کی صدا سے گونجتا ہے، ہر شہر ایک اجتماعی قبرستان میں تبدل ہو چکا ہے اور فضا خوف و دہشت کی زنجیروں میں لپٹی نظر آتی ہے۔ یہاں صرف انسانی اجساد ہی دفن نہیں کیے جاتے، بلکہ خوابوں کے پر بھی نوچ لیے جاتے ہیں، امیدوں کی کلیاں مسل دی جاتی ہیں اور زندگی کے ساز پر خوف کے راگ چھیڑ دئیے جاتے ہیں۔ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ، گمشدگیوں کے اسرار اور انتشار پسند عناصر کی مذموم چالیں اور خیبر 
پختونخوا میں خودکش دھماکوں، سفاک حملوں اور خون آشام دہشت گردی کا لامتناہی سلسلہ، یہ محض خبریں نہیں ہیں بلکہ اس خطے کے باسیوں کا نوحہ ہیں، جن کے سروں پر ہر وقت موت کی تلوار لٹکتی رہتی ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا صرف زمین کے دو ٹکڑے نہیں، بلکہ ایک پوری تاریخ، ثقافت اور مزاحمت کی علامت ہیں۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں غیرت، بہادری اور قربانی کے استعارے صدیوں سے تاریخ میں کنندہ ہیں۔ یہاں کی سنگلاخ وادیوں میں نہ صرف قیمتی معدنیات چھپی ہیں بلکہ ایک ایسا عزم بھی دفن ہے جو ہر بار آزمائش کے بھنور سے گزر کر مزید مضبوط ہوا ہے۔ لیکن یہ سرزمین ایک بار بھر بیرونی طاقتوں کے ناپاک عزائم کی زد میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا یہ سب محض چند شدت پسند گروہوں کی کارروائیاں ہیں، یا اس کے پیچھے ایک پیچیدہ کھیل چھپا ہے اور ریاست اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کیا کر رہی ہے؟
بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا مگر سب سے کم آبادی والا صوبہ ہے، جو جغرافیائی، اقتصادی اور 
سٹریٹجک لحاظ سے بے پناہ اہمیت رکھتا ہے، جہاں سی پیک کے تحت گوادر پورٹ جیسے منصوبے عالمی سطح پر پاکستان کے لیے تجارت کی نئی راہیں کھول سکتے ہیں۔ مگر یہی علاقہ پسماندگی، شورش اور احساسِ محرومی کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے۔ ترقی کے خواب تو دکھائے جاتے ہیں مگر عام بلوچ کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ گوادر دنیا کے لیے تو امید کی کرن ہے مگر وہاں کا ماہی گیر آج بھی بے بسی کی تصویر ہے۔ جب ترقی محض سرکاری کاغذوں تک ہی محدود ہو اور عوام کو اس کے حقیقی ثمرات نا ملیں، تو شدت پسند بیانیے مضبوط ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ دشمن کو ایک ناراض نسل تیار کرنے کے لیے پھر زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی، وہ تو بس ان کے زخموں کو مزید گہرا کرنے کا کام کرتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کی صورتحال بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ یہ خطہ ہمیشہ سے ہی جنگجوؤں کا مرکز رہا ہے، مگر آج کی جنگ مختلف ہے، جو دشمن صرف بندوق کے زور پر نہیں لڑ رہا بلکہ ذہنوں کو قید کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ دشمن ان خطوں میں احساسِ محرومی کو ہوا دے کر اپنے مقاصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہاں دہشت گردی، پراکسی جنگ اور نفسیاتی یلغار کے ہتھکنڈے آزمائے جا رہے ہیں تا کہ ان خطوں کے باسیوں میں خوف کے سائے گہرے کیے جا سکیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف بلوچستان کی سرزمین پر ضرار، نصر اور ردالفساد جیسے بڑے آپریشن کیے، لا تعداد قربانیاں دی گئیں، فوجی کارروائیاں کی گئیں، انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مضبوط کیا گیا مگر پھر بھی سوال وہیں کا وہیں ہے۔ آخر یہ خون آشام سلسلہ تھمتا نظر کیوں نہیں آ رہا؟ جب نوجوانوں کے پاس روزگار موجود نا ہو، جب تعلیم کا معیار پست ہو، جب ترقی صرف مخصوص علاقوں تک ہی محدود ہو، جب نوجوانوں کو ایک باوقار زندگی گزارنے کا موقع نا ملے تو انہیں بندوق اٹھانے پر مجبور کرنے کے لیے دشمن کو کوئی خاص محنت نہیں کرنا پڑتی۔
سوال یہ ہے کہ اس خون آشام سلسلے کو روکنے کی تدبیر آخر کیا ہے؟ کیا ہم صرف مذمتی بیان دے کر، اخباری شہ سرخیوں میں دہشت گردوں کو ’بزدل‘ کہہ کر خود کو تسلی دے سکتے ہیں؟ کیا صرف کارروائیوں کے دعوے، ایوانوں میں بحثیں اور وقتی اقدامات اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ سکتے ہیں؟ یہ وقت محض بیانات، معمولی کارروائیوں اور عارضی مرہم رکھنے کا نہیں بلکہ ایک جامع، مدبرانہ اور دیر پا حکمتِ عملی ترتیب دینے کا ہے جو اس بے رحم سلسلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔ ایک ایسی پالیسی جو محرومیوں کو دور کرے، جو عوام کو شریک اقتدار بنائے، جو انہیں یہ احساس دلائے کہ ریاست ان کی ہے اور وہ ریاست کے ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا محض جغرافیائی سرزمینیں نہیں بلکہ پاکستان کے اجتماعی ضمیر کا امتحان ہیں۔ ان خطوں میں ترقی کو محض سڑکوں، پلوں اور عمارتوں کی تعمیر سے جوڑنے کے بجائے اسے عوامی زندگی میں معاشی اور سماجی بہتری کے ساتھ جوڑنا ہو گا۔ جب تک شدت پسندی کو جنم دینے والے عوامل زندہ رہیں گے، دہشت گردی کبھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو گی۔ غربت، محرومی، نا انصافی اور بیگانگی وہ ایندھن ہیں جو انتہا پسندی کے آلاؤ کو روشن رکھتے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ حقیقی امن کی منزل تک پہنچے وہاں کے نوجوانوں کو ایسا مستقبل دینا ہو گا جس میں وہ بندوق کے بجائے قلم تھامنے کو ترجیح دیں۔ شدت پسندی کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار بندوق نہیں بلکہ تعلیم اور فکری انقلاب ہے۔ یہاں دیکھا جائے تو سب سے بڑی جنگ بیانیے کی ہے۔ دشمن کے پاس اپنی حکمتِ عملی ہے، ایک نظریہ ہے اور وہ بڑی مہارت سے اسے نوجوان نسل کے ذہنوں میں داخل کر رہا ہے۔ دشمن اگر ایک بیانیہ دے رہا ہے تو ریاست کو اس کے متبادل بیانیہ دینا ہو گا، جو روشن خیالی، ترقی اور حب الوطنی پر مبنی ہو۔ امن صرف طاقت کے توازن سے قائم نہیں ہوتا بلکہ جب تک دلوں سے خوف، ذہنوں سے محرومی اور وجودوں سے عدم تحفظ کے سائے نہیں ہٹتے، حقیقی استحکام خواب ہی رہے گا۔ دہشت گردی کے خلاف اب تک ہم نے بیشمار محاذ سر کیے، بے حساب قربانیاں دیں لیکن اصل جنگ تو تب جیتی جائے گی جب خوف، شدت پسندی اور بے یقینی کا خاتمہ ہو گا۔ ہر حملے کے بعد مذمت کے الفاظ دہرانے کے بجائے ایسے اقدامات کریں کہ دہشت گردی محض ایک بھولی بسری داستان بن جائے۔ یہ جنگ وقتی نہیں مگر اس کا انجام یقینی ہے کیونکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے لوگ اس ملک کا حصہ ہیں، ان کی خوشی، ان کا سکون اور ان کی سلامتی ہی پاکستان کی حقیقی ترقی ہے۔

مزیدخبریں