وڈا چودھری ، تھانیداراور پروٹوکول

07:44 PM, 10 Mar, 2025

چوپال سجی ہوئی تھی، سب باری باری حقے کے کش لگار ہے تھے۔چپ سائیں گہری سوچ میں گم تھے۔نتھو نے بولنے کی اجازت چاہی ۔۔۔ توقف کے بعد بولا سائیں جی یہ پھتو مجھ سے پروٹوکول کے بارے میں پوچھ رہا تھا، میں کیاجانو یہ کس بلا کا نام ہے ، مشقتیوں کو اس بارے میں کیا خبر ۔۔۔؟۔۔۔ہم سادہ دیہاتی تو بس یہ جانتے ہیں کہ جب وڈے چوھری جی آتے ہیں تو دو چار محافظ ان کے گرد ہوتے ہیں اور لوگوں کو” ادھر “، ”اُدھر“ کرادیتے ہیں۔یا پھر جب وڈے تھانیدار جی کا علاقے میں روٹ ہوتا ہے تو بھی علاقے کے لوگوں کو سائیڈ پر کرایا جاتا ہے۔ سائیں جی آپ اس بارے میں بتائیں!
سائیں جی نے ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کہ دیکھو بھئی نتھو اور پھتو دیہات ہو یا شہر، ہر جگہ پرکچھ لوگ اور کردار ایسے ہوتے ہیں جو طاقت کے نشے میں ایسے کام کر جاتے ہیں جو ان کو نہیں کرنے چاہئیں۔ سائیں جی دوبارہ بولے تم لوگوں نے ”جنگل کے قانون“ کے بارے میں سنا ہو گا وہ ایک محاورہ ہے جو عام طور پر ایسے حالات یا نظام کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جہاں کوئی قانون یا ضابطہ نہیں ہوتا، اور ہر شخص یا گروہ اپنی طاقت یا خواہش کے مطابق عمل کرتا ہے۔ اس میں نظم و ضبط کی کمی ہوتی ہے اور طاقتور لوگ کمزوروں پر ظلم کرتے ہیں یا اپنے مفاد کے لیے دوسرے افراد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ جیسے جنگل میں طاقتور جانور کمزور جانوروں کو کھا جاتے ہیں، اسی طرح انسانوں کے معاشرتی زندگی میں بھی جب نظام کمزور ہو، تو طاقتور افراد یا گروہ دوسروں کو اپنی مرضی کے مطابق چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جنگل کے قانون میں انصاف یا اخلاقی حدود نہیں ہوتی۔ اس میں مظلوم کا کوئی تحفظ نہیں ہوتا اور طاقتور افراد اپنے فائدے کے لیے دوسروں کا استحصال کرتے ہیں۔
نتھو اور پھتو فی البدیہہ بولے سائیں جی جس طرح جنگل میں شیر بادشاہ ہوتا ہے اس طرح تو طاقتور افراد کے لیے کمزور بھی رعایا کی طرح ہی ہوئے؟۔ سائیں جی دوبارہ گویا ہوئے جب کسی معاشرتی، سیاسی نظام میں اتنی زیادہ افراتفری یا عدم استحکام ہوتا ہے کہ لوگوں میں انصاف کا فقدان ہو، تب اسے ”جنگل کا قانون“ کہا جاتا ہے۔
نتھو اور پھتو آپ لوگوں نے ”وڈے چودھری جی اور وڈے تھانیدار صاحب“ کی بات کی ہے۔ سائیں جی بولے بچو ”وڈے چودھری“ اور ”وڈے تھانیدار“ کا استعارہ ایک ثقافتی اظہار ہے جو ہمارے ہاں ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جو شخص زیادہ طاقتور ہوتا ہے تو اس کو سب لوگ یا تو کہہ دیتے ہیں کہ بھائی جی تسی وڈے چودھری ہو یا پھر وڈے تھانیدار لگے ہوئے ہو۔ یہ دونوں اصطلاحات عام طور پر معاشرتی ڈھانچے میں موجود طاقتور افراد کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو اپنے علاقوں میں حکمرانی، فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور دوسروں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ اصطلاحات کسی نہ کسی صورت میں حکومت یا انتظامیہ کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔ صاحبو! جب معاشرتی یا سیاسی صورتحال میں بد انتظامی، کرپشن یا انحطاط کی بات ہوتی ہے تو ”ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے“ کے مصداق ”جنگل کے قانون“، ”وڈے چودھری اور وڈے تھانیدار صاحب“ کی بات ضرور ہوتی ہے۔ یہ سب باتیں پروٹوکول کی طرف لے کر جاتی ہیں۔
چپ سائیں بولے اسلام تو ہمیں اعتدال، بردباری اور صبر کا درس دیتا ہے لیکن حق سچ یہ ہے کہ اس معاشرے میں کچھ افراد جو طاقتور اور مالی طور پر مضبوط ہوتے ہیں، وہ اکثر اپنے مقام و مرتبے کے مطابق خاص پروٹوکول کی توقع رکھتے ہیں۔ طاقتور لوگ حکومت، سیاست، بزنس یا کسی دوسرے شعبے میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوتے ہیں۔ ان کے پاس فیصلے کرنے کی طاقت، اثر و رسوخ اور لوگوں کی زندگیوں پر اثر ڈالنے کی صلاحیت ہوتی ہے اور صاحب ثروت افراد کے پاس دولت کی فراوانی ہوتی ہے، اور وہ مالی طور پر اتنے مستحکم ہوتے ہیں کہ ان کی زندگی میں کمیابی کا ایک نیا معیار ہوتا ہے۔ ان کے پاس وسائل ہوتے ہیں، جن کی بنیاد پر وہ دنیا کی مختلف سہولتوں کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف یہ نہیں ہوتا کہ ان کے فیصلے یا حکمت عملیوں کو اپنایا جائے بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہر سطح پر خصوصی سلوک کیا جائے، چاہے وہ عوامی سطح پر ہو یا ذاتی ملاقاتوں میں۔
جب ایک سیاستدان یا کاروباری شخصیت کسی تقریب میں شرکت کرتی ہے، تو وہ نہ صرف اپنی حیثیت اور شہرت کی وجہ سے خصوصی سلوک کی توقع رکھتے ہیں بلکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کے لیے مخصوص پروٹوکول، جیسے کہ پہلے داخلے، خصوصی نشستیں، یا دیگر سہولتیں دستیاب ہوں گی۔ ان افراد کا یہ رویہ اکثر ان کی خود اعتمادی یا ”میں خاص ہوں“ کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ دوستو! یہ ایک طرح کا ”نفسیاتی“ تقاضا بھی ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو دوسروں سے ممتاز اور اعلیٰ سمجھتے ہیں۔ ان افراد کو یہ توقع ہوتی ہے کہ ان کے ساتھ خصوصی سلوک کیا جائے، کیونکہ ان کا خیال ہوتا ہے کہ ان کی شخصیت اور مرتبہ کے مطابق ان کا احترام ضروری ہے۔
یہ معاشرتی حقیقت ایک ایسی دنیا کی عکاسی کرتی ہے جہاں طاقت، دولت اور پروٹوکول کے خواہشات کے درمیان ایک پیچیدہ رشتہ ہوتا ہے، اور یہ ان افراد کے لیے ایک طرح کی تسکین یا دراز عمر کی علامت بن جاتی ہے۔
جب کوئی طاقتور شخصیت اپنے علاقے میں کسی حیثیت یا عہدے پر فائز ہوتی ہے، تو وہ نہ صرف اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے علاقے کے معاملات کو کنٹرول کرتی ہے، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ پروٹوکول بھی ان کے کردار کا حصہ بن جاتا ہے۔ اگر یہ کہاجائے کہ چودھراہٹ ایک سماجی اور سیاسی طاقت ہوتی ہے، جسے پروٹوکول کے ذریعے جسمانی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ پروٹوکول ان افراد کو ان کے عہدے یا حیثیت کے مطابق وہ تمام حقوق اور عزت دیتا ہے، جس سے ان کی چودھراہٹ مزید مستحکم ہوتی ہے۔ یہ دونوں عناصر، چودھراہٹ اور پروٹوکول مل کر کسی شخصیت یا خاندان کے اثر و رسوخ کو بڑھاتے ہیں اور انہیں سماجی یا حکومتی سطح پر ایک خاص مقام فراہم کرتے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان توازن ضروری ہوتا ہے تاکہ یہ اثر و رسوخ اور عزت اپنی جگہ قائم رہے۔
صاحبو ! یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب وہ طاقتور شخص اپنی طاقت یا اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے میرٹ کے خلاف کسی شخص کو فائدہ پہنچاتا ہے، تو اسے سفارش کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں، ”وڈا چودھری“ لوگوں کو نوکری دینے، مقدمات کو حل کرنے یا کسی دوسرے طریقے سے مدد فراہم کرنے کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کرتا ہے۔جب وہ طاقتو ر شخص اپنی سفارش یا طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اپنے رشتہ داروں، دوستوں یا مخصوص افراد کو فوائد فراہم کرتا ہے تو یہ اقربا پروری کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں، میرٹ کی جگہ ذاتی تعلقات کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے، جو کہ اکثر معاشرتی ناانصافی کی طرف لے جاتا ہے۔ ایسے عمل کو معاشرتی سطح پر تنقید کا سامنا ہوتا ہے کیونکہ اس میں ناانصافی بڑھتی ہے اور میرٹ کا قتل ہوتا ہے اور صرف تعلقات یا سفارشات کی بنیاد پر لوگوں کو مواقع ملتے ہیں۔
صاحبو! طاقت، دولت اور اختیار ایک امتح©ان ہے۔ یہ ملنے پر ”جنگل کے قانون“، ”وڈے چودھری اور وڈے تھانیدار جی“ کی وہ مثال نہ بنیں جو صبر پر منتج ہو اور برے الفاظ پر ختم ہو۔ حق اور سچ بات یہ ہے کہ طاقت، دولت اور اختیار ملنے پر جھک جائیں۔ یہ یقین رکھیں کہ اللہ کا کرم ہر انسان پر ضرور ہوتا ہے، لیکن وہ اپنے کرم کو خاص طور پر ان لوگوں پر نازل کرتا ہے جو اس کی رضا کے لیے نیک عمل کرتے ہیں، اس پر ایمان لاتے ہیں، اور اس کی ہدایت اور رہنمائی کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ اللہ کا کرم ان لوگوں کے لیے بھی ہوتا ہے جو اپنی غلطیوں پر توبہ کرتے ہیں، صبر کرتے ہیں، اور اللہ کی مدد کے لیے دعا کرتے ہیں۔ سو، لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کریں اور آسانیاں بانٹیں تاکہ آپ کو ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد کیا جائے ۔۔۔ باقی رہے نام اللہ کا۔۔۔!

مزیدخبریں