امریکی بیوروکریسی کیلئے پاکستان میں تربیت

07:42 PM, 10 Mar, 2025

معاملہ ترقی یافتہ ملکوں کا ہو یا غیر ترقی یافتہ کا دنیا بھر میں بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کبھی ایک پیج پر کم ہی نظر آتے ہیں۔ دونوں کا اپنا اپنا میدان ہے لیکن بیوروکریسی کے پاس وسائل کم ہوتے ہیں جبکہ اسٹیبلشمنٹ کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہوتی یوں بھی وہ وسائل پیدا کرنے میں خودمختار ہوتی ہے۔ بیوروکریسی کو مہیا وسائل کے اندر رہ کر کام کرنا پڑتا ہے پس جب بھی کبھی دونوں مقابل آئے پلہ انہی کا بھاری نظر آیا جو وسائل سے مالامال اور جن کی طاقت لامحدود ہوتی ہے۔ انہیں دونوں طبقات کے درمیان آج کل تازہ ترین معرکہ آرائی امریکہ میں ہو رہی ہے جہاں غیر مرئی طاقتوں نے شکست ہونے کے باوجود اسے یوں لیا ہے کہ انہیں ایک راﺅنڈ میں شکست ہوئی ہے، مکمل شکست نہیں ہوئی۔
اس محاذ آرائی کو گزشتہ دہائی میں بڑھتا دیکھا گیا۔ اس زمانے میں جب سی آئی اے دہشت گردوں کے تعاقب میں پورے ایشیا میں آپریشن کر رہی تھی اس کے کنٹریکٹر بھیس بدلے مختلف ممالک میں موجود تھے۔ ریمنڈ ڈیوس نامی ایک شخص رنگے ہاتھوں لاہور میں پکڑا گیا۔ وہ دو افراد کو قتل کر چکا تھا اور جس گاڑی میں اسے فرار کرایا جا رہا تھا ایک شخص اس کی زد میں آکر ہلاک ہو گیا۔ یوں تین افراد کا قاتل نظروں میں آیا اور اسے زیر حراست لے لیا گیا۔ امریکہ کی طرف سے سفارتکار ثابت کرنے کی سر توڑ کوششیں کی گئیں جبکہ ہماری وزارت خارجہ اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے واضح لفظوں میں تردید کر دی کہ ریمنڈ ڈیوس سفارتکار نہیں ہے، اس موقع پر جھوٹ ، مکر اور فریب کاری کی انتہا دیکھنے میںآئی جب امریکی صدر باراک اوبامہ نے بھی بیان جاری کیا کہ ریمنڈ ڈیوس سفارتکار ہے جو کہ وہ نہیں تھا۔
پاکستان میں اس وقت امریکہ کے سفیر کیمرون منٹر تھے جنہوں نے اس معاملے میں کچھ پس و پیش سے کام لیا، انہیں اپنے ملک اور اپنے اداروں سے شکوہ تھا کہ اگر سفارتکاروں کے پردے میں کچھ لوگ کسی مشن پر پاکستان میں کام کر رہے تھے تو اس حوالے سے انہیں اعتماد میں لینا ضروری تھا جبکہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کا موقف اس کے برعکس تھا۔ یہ لڑائی کافی بڑھ گئی۔ ریمنڈ ڈیوس تو اعلیٰ ترین سطح پر مداخلت کے بعد رہا ہو کر امریکہ پہنچ گیا لیکن اسی حوالے سے شروع ہونے والی لڑائی ختم نہ ہوئی بلکہ بڑھ گئی۔ امریکی سفیر نے معاملے کو امریکی حکومت کے ساتھ اٹھایا اور وہ پاکستان میں متعین سی آئی اے چیف کو واپس بھجوانے میں کامیاب رہے۔ غیر مرئی طاقتوں نے ہار نہ مانی اور حساب چکانے میں لگے رہے، بالآخر وہ کیمرون منٹر کو برطرف کرانے بلکہ ہمیشہ کیلئے اس کا کیرئیر ختم کرانے میں کامیاب ہو گئے۔
یہ سلسلہ مختلف ادوار میں چلتا رہا، مختلف ممالک میں کبھی ایک کی جیت ہوتی تو کبھی دوسرے فریق کی لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کا راستہ روک کر جب بائیڈن کو اقتدار میں لایا گیا تو زود رنج امریکی صدر نے یہ بات دل میں رکھ لی اور وقت کا انتظار شروع کر دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ جب انتخابی میدان میں اترے تو انہیں مختلف بے قاعدگیوں اور مختلف الزامات کے تحت انتخابات سے باہر رکھنے کی کوششیں شروع کر دی گئیں اور انہیں عدالتوں سے سزا دلوا کر ناک آﺅٹ کرنے کا حربہ تک استعمال کیا گیا۔ ٹرمپ کو سزا تو سنا دی گئی لیکن وہ اپنی حکمت عملی اور اس کے بروقت استعمال سے انتخابات سے آﺅٹ ہونے سے محفوظ رہے۔ ان کے بارے میں اس حوالے سے جو کچھ کہا جاتا ہے اس کا پاکستان میں رائج زبان میں ترجمہ کیا جائے تو مطلب کچھ یوں نکلتا ہے کہ انہوں نے امریکہ میں اپنی وکالت کیلئے بہترین وکلاءکا پینل تو کیا اس کے ساتھ ساتھ جج بھی کر لئے۔ امریکی ججوں پر اس طرح کے الزام شاذو نادر ہی لگتے ہیں لیکن یہ کبھی دیکھنے میں نہیں آیا کہ الزام ثابت ہو جائے ملزم مجرم ڈکلیئر بھی ہو جائے لیکن پھر اسے انتخابات لڑنے کیلئے اہل بھی سمجھا جائے۔ یہ سہولت حاصل کرنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ طوفان کی طرح یوں آگے بڑھتے گئے کہ کوئی ان کا راستہ نہ روک سکا حتیٰ کہ پولنگ سے قبل وہ قاتلانہ حملے میں بھی بچ گئے۔ 
امریکی صدر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے سے قبل کے پندرہ ایام میں ہوم روک مکمل کر لیا، لسٹیں تیار کر لی گئیں کہ کس کس کو کب کہاں کہاں سے فارغ کرنا ہے۔ دفتر پہنچنے کے پہلے روز انہوں نے وہ اکھاڑ پچھاڑ کی جس کی نظیر امریکی تاریخ میں کم ملتی ہے۔ وہ خوب جانتے تھے کس کس نے انہیں اقتدار سے دور رکھنے کیلئے کیا کیا کوششیں کی پس انہوں نے بیک جنبش قلم اپنے مخالفین کے سر قلم کر دیئے اور ان کی جگہ اپنے اعتماد کے افراد تعینات کر دیئے۔ امریکی خلائی مخلوق خاموشی سے سب کچھ دیکھتی رہی اور شاید اب وہ اس طرح وقت کا انتظار کر رہی ہے جس طرح کبھی ڈونلڈ ٹرمپ وقت کا انتظار کر رہے تھے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ان کے ایما پر ایلون مسک کے ذریعے تمام بیوروکریسی کو ایک ای میل بھجوائی جس میں ہر ایک سے پوچھا گیا ہے کہ وہ بتائے اس نے نئی حکومت کے آنے کے بعد پہلے ہفتے میں وہ کون سے کام کئے ہیں جن سے ریاست امریکہ اور امریکی عوام کا بھلا ہوا ہے۔
اس ای میل میں یہ بھی کہا گیا کہ جو افسر اس ای میل کا خاطرخواہ جواب نہیں دے گا سمجھا جائے گا کہ وہ نکما ہے اس نے کچھ نہیں کیا۔ ایسے افسران کو کسی بھی وقت فارغ کیا جا سکتا ہے۔ اس ای میل کے جاری کئے جانے کے بعد افراتفری کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے جس کے نتیجے میں اکھاڑ پچھاڑ کا دوسرا راﺅنڈ شروع ہو گا۔
پاکستانی بیوروکریسی امریکی بیوروکریسی کی نسبت بہت عقلمند اور سمجھدار نظر آتی ہے۔ دو برس ہوئے ہیں آئی ایم ایف نے شرط عائد کی کہ حکومت پاکستان کے تمام سرکاری افسران کے اثاثے منظرعام پر لائے جائیں۔ ان کی طرف سے متعدد مرتبہ یادہانیاں بھی کرائی جاتی رہیں لیکن اس پر کوئی عمل نہ ہوا۔ دو برس گزر گئے اس عرصہ میں بہت سوں نے بہت کچھ ٹھکانے لگا دیا ہو گا لہٰذا اب خبر آئی ہے کہ ایک پورٹل بنایا جائے گا جس میں سب کے اثاثے دیکھے جا سکیں گے، گویا اب بھی گنجائش موجود ہے کہ مزید چھ ماہ کام کو اسی طرح گھسیٹا جائے۔ امریکی بیوروکریٹس کو ایڈوانس کورس کیلئے پاکستان آنا چاہئے تاکہ وہ ہماری عقل و دانش سے فائدہ اٹھا سکیں۔

مزیدخبریں