ٹرمپ کارڈ 27 ویں ترمیم، کامیابیوں کا سال

07:41 PM, 10 Mar, 2025

شکریہ پاکستان ”تھا جس کا انتظار وہ شاہکار آ گیا“ ٹرمپ کا حکومت پاکستان سے اظہار تشکر، ٹیلیفونک رابطے، 20 جنوری کے بعد ”دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے“ مگر پانسہ پلٹ گیا، حکومت حد درجہ مطمئن جو منتظر تھے وہ پریشان صف دوستاں میں جشن، صف دشمناں میں ماتم، باہر بیٹھے مفرور یو ٹیومرز نے سر پیٹ لیا، سٹی گم ”کسے پڑی ہے کہ جا سناوے ہمارے پی کو ہماری بتیاں“ پیا جی نے کانگریس سے اپنے پہلے خطاب میں ایک خطرناک دہشتگرد شریف اللہ عرف جعفر کو بلوچستان کے سرحدی علاقہ سے گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کرنے پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ ارکان کانگریس نے کھڑے ہو کر دیر تک تالیاں بجائیں، امریکی وزیر خارجہ اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر نے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ٹیلیفون پر اظہار تشکر کیا۔ ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی رابطہ کریں گے۔ یقین آ گیا کہ موجودہ حکومت اور سسٹم آئینی اور قانونی ہے۔ ٹرمپ نے حکومت کی رٹ اور اتھارٹی تسلیم کر لی، خان اپنی ضد پر اڑے بیٹھے ہیں، ٹرمپ نے جو کرنا تھا کر دیا پی ٹی آئی کی امیدیں خاک میں مل گئیں۔ ایک یوتھیے نے امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان سے بانی پی ٹی آئی سے متعلق سوال کیا ترجمان غچہ دے گئے۔ تجدید تعلقات ہو گئی۔ سیانوں نے کہا مشتری ہوشیار باش ڈومور کا پیغام بھی آ گیا۔ افغانستان سے ساڑھے 7 ارب کا اسلحہ برآمد کر کے دینا ہے، دے دیں گے، ٹرمپ نے زندگی میں پہلی بار کسی کا شکریہ ادا کیا ہے۔ 5 سال بعد کسی امریکی صدر نے خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔ ساڑھے تین سال بعد کسی امریکی وزیر خارجہ نے رابطہ کیا۔ پی ٹی آئی کے لابسٹوں کو کروڑوں ڈالر خرچ کر کے کیا ملا سارے بیانئے مٹی میں مل گئے۔ لابسٹ فرموں نے مایوس کیا یو ٹیومرز کو سانپ سونگھ گیا۔ وقت نے ان کے ساتھ وہ کیا ہے جس کی انہیں توقع نہیں تھی۔ خان کو صدمہ پہنچا تینوں آپشن ٹرمپ کارڈ، الیکشن، احتجاج ناکام، چوتھے اور آخری آپشن مقتدرہ سے رابطوں کے لیے ”مشترکہ دوستوں“ کو ہدایات، لیکن تیسرے آپشن یعنی سڑکوں پر احتاج کی بھی تیاریاں۔ 30 مارچ کو پریڈ گراﺅنڈ میں جلسہ کا اعلان، گرینڈ الائنس کے لیے مولانا فضل الرحمان کی منت سماجت اے کاش مولانا مان جائیں مگر ماضی قریب میں ان کے ساتھ جو کیا ہے تاریخ اسے معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے ہنستے مسکراتے شرائط پیش کیں اور عمرے کے لیے چلے گئے واپسی پر بھی لفٹ نہیں کرائی، تانگہ پارٹیوں کے احتجاج سے کیا ہو گا ایک سیٹ والے محمود خان اچکزئی استعفے دلا کر سب کو اوندھے منہ گرانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ بزرجمہر کی آنکھوں پر ڈیڑھ سال قید کے بعد بھی پٹی بندھی ہے۔ کان بند خود فریبی کا شکار ہیں۔ نہیں جانتے کہ آئندہ دنوں میں کیا ہونے والا ہے۔ اب تک پرانی محبت کے طالب ہےں۔ اسی لیے پیچھے نہیں ہٹ رہے پیچھے نہیں ہٹ رہے تو بات نہیں بن رہی۔ بات کیسے بنے، سیانے کہتے ہیں کہ ہر بات کے پیچھے کوئی بات ہوتی ہے اور وہی بات ہوتی ہے۔ بات یہ ہے کہ ملک کو معاشی محاذ پر آگے بڑھانے اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے حکومت اور فوج جو کوششیں کر رہی ہے عوام ان سے مطمئن ہیں، اسی لیے سڑکوں پر نہیںآ رہے حکومت نے گزشتہ دنوں ایک سال مکمل ہونے پر اپنی کامیابیوں اور اپوزیشن کی ناکامیوں کا خوب خوب چرچا کیا۔ کہا گیا مہنگائی 2016ءکے بعد سب سے کم یعنی 1.05 (کمال ہے عوام کو مہنگائی کم ہونے کا پتا ہی نہیں، رمضان المبارک شروع ہوتے ہی اشیائے صرف کی قیمتیں آسمان سے جا لگیں سحر و افطار مشکل ہو گئی۔ حکومت کو قیمتیں بڑھانے والے مڈل مین نہ مل سکے ورنہ حکومت انہیں قیمتیں بڑھانے کی ہرگز اجازت نہ دیتی) مہنگائی کم نہیں ہوئی رفتار کم ہوئی ہے۔ بہت سے شعبوں میں بہتری آئی۔ شرح سود 13 فیصد پر آ گئی۔ افراط زر میں کمی، زر مبادلہ اور ترسیلات زر میں اضافہ برآمدات 35 فیصد بڑھ گئیں۔ عدلیہ میں اصلاحات دور رس اقدام، ارکان اسمبلی اور ججوں کی تنخواہوں میں لاکھوں کا اضافہ ایک اہم وزارت کے بابوﺅں نے اپنی تنخواہیں خود ہی بڑھا لیں غریب عوام کو دیہاڑی ملتی ہے تنخواہ نہیں وہ کیا کریں گے۔ خطوط اور بیانیوں کے باوجود امریکا، آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں سے تعلقات بہتر ہوئے جس سے تنہائی ختم ہوئی، 26 ویں ترمیم کی 
منظوری سے عدلیہ میں اصلاحات کا آغاز ہوا۔ ججوں کی تعداد میں اضافہ سے برسوں سے زیر التوا مقدمات نمٹانے میں آسانی ہوئی۔ سول نافرمانی کی کال، وکلا کی تحریک چلانے کی کوشش ناکام، جوڈیشل ایکٹوازم اور ایڈونچر ازم کی کوششیں دب گئیں، ملک میں معاشی ترقی اور سیاسی استحکام کا اندرونی اور بیرونی اداروں نے اعتراف کیا وزیر اعظم شہباز شریف کو ترقی کی فکر ایک صاحب نے کہا شہباز شریف کو نیند نہیں آتی وہ دوسروں کو بھی سونے نہیں دیتے۔ خان کو رہائی کا جنون، وزیر اعظم نے دہشگردوں کے خلاف آپریشن اور معیشت کی بحالی میں آرمی چیف کے کردار کو سراہا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی کوششوں سے معاشی اشاریے بہتر ہوئے ہیں، 2024 پی ٹی آئی کی ناکامیوں کا سال ثابت ہوا۔ خان کی ہر حکمت عملی ناکام پی ٹی آئی ایک سال بعد بھی گرینڈ الائنس نہ بنا سکی۔ اسلام آباد پر حملے ناکام رہے۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی الیکشن کا سرٹیفکیٹ دینے سے انکار کر دیا مخصوص نشستیں بھی نہ مل سکیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت 26 ویں ترمیم کے سقم دور کرنے کےلئے 27 ویں ترمیم لانے پر کام کر رہی ہے؟ 26 ویں ترمیم میں پی ٹی آئی کے کہنے پر حضرت مولانا نے آئینی عدالت کی بجائے آئینی بینچ کی شق شامل کرا دی تھی لیکن اب ہر دوسرا مقدمہ آئینی بینچ کے پاس جاتا ہے۔ آئینی بینچ میں 13 ججز ہیں۔ اس لیے وزارت قانون کا کہنا ہے کہ عدلیہ کو مزید فعال اور متحرک بنانے کےلئے آئینی بینچ کی بجائے آئینی کورٹ کے قیام کی پارلیمنٹ سے منظوری لی جانی ضروری ہے۔ دوسری طرف علیمہ باجی کا کہنا ہے کہ خان کی رہائی بھی ضروری ہے ایک مشہور ستارہ شناس نے کہا تھا کہ خان 16 مارچ کو جیل میں نہیں ہوں گے بعد میں زائچہ غلط ثابت ہوا خان کا ستارہ گردش میں پھنس گیا چنانچہ وہ بدستور جیل ہی میں رہیں گے۔ فیصل واوڈا دور کی کوڑی لائے ہیں کہ پچاس سالہ پلان تیار کر لیا گیا ہے لیکن اس میں خان کا نام نہیں ہے۔ علیمہ باجی اور بشریٰ بیگم کے جنات کے ذریعے رابطے ہوئے لیکن جواب ندارد۔ پی ٹی آئی کی جیل سے باہر قیادت خود تذبذب کا شکار ہے، بہتوں کا خیال ہے کہ بلا شبہ خان نے عوام کو اپنی جانب متوجہ کیا، لیکن وہ عوام کو جوڑ کر نہ رکھ سکے، وہ اپنے کسی بیانیے پر قائم نہیں رہتے، گارنٹر کہاں سے آئیں گے، ان کی بہن نورین کا کہنا ہے کہ وہ ٹوٹے نہیں ہیں، حقیقت یہ ہے کہ انہیں سنبھال کر رکھا گیا ہے، توڑنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ کوشش کی جاتی تو ٹوٹ چکے ہوتے۔ ادھر جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے ریاست مخالف پروپیگنڈے پر پارٹی کے 25 لیڈروں کو طلب کر لیا ہے۔ کمال ہے پیارے خان کی کسی کو فکر ہی نہیں ہے۔

مزیدخبریں