ستارہ شناس کیا کہتے ہیں؟

07:34 PM, 10 Mar, 2025

اسے قسمت کہیں ،پلاننگ کی کمی یا پھر عمران خان کی غیر لچکدار اور انتقامی سوچ کہ عمران خود اور ان کی سیاسی پارٹی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)مسائل سے نکلنے کے بجائے ان میں مزید دھنستے ہی چلے جا رہے ہیں۔ 
ایک کامیاب تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اقتدار سے نکل جانے کے بعد انہوں نے جانے کتنے ہی پینترے بدلے ، وفاق پر لشکر کشی کی کوششیں کیں، غیر ملکی اداروں کو خطوط لکھے، اپنے ہی ملک اور حکومت کو بدنام اور غیر مستحکم کرنے کے لیے بھاری معاوضہ کے عوض لابسٹس کی خدمات حاصل کیں اپنے ہی ملک کے اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں پر الزام تراشی کی، قومی اسمبلی سے اپنے منتخب اراکین کو مستعفی کروایا اور دو صوبوں(پنجاب اور خیبر پختونخواہ)میں قائم اپنی صوبائی حکومتیں تک ختم کر ڈالیں لیکن مطلوبہ ہدف کے حصول سے میلوں دور رہے۔ 
ان تما م ناکامیوں کے تناظر میںبعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جب تک عمران خان کی قیادت میں چلنے والی پاکستان تحریک انصاف ریاست مخالف اقدامات، اپنی منفی سوچ اور منفی رویوں سے توبہ نہیں کرے گی، اس کا دوبارہ حکومت میں آنا تو خیر بہت دور کی بات ہے ان کی مشکلات میں بھی کمی واقع نہیں ہو سکتی۔ 
بہت زیادہ ریسرچ اور مطالعہ کی ضرورت ہی نہیں اگر پی ٹی آئی کی قیادت صرف معروف آسٹرالوجسٹ سامعہ خان کی پیش گوئیوں پر ان کی ٹرولنگ کرنے کے بجائے ان کا سنجیدگی سے جائزہ لینا شروع کر دے تو شائد ان کے آدھے سے زائد مسائل یہاں ہی حل ہو جائیں۔ 
مجھے یاد ہے کہ عمران خان کی اقتدار سے چھٹی اور ان کے مشکلات سے دوچار ہونے کی پیش گوئی تو انہوں نے کافی پہلے ہی کر دی تھی۔ پھر سال 2025 کے بارے میں انہوں نے پیش گوئی کر دی تھی کہ 12جنوری اور 10فروری سے ان کے لیے ریلیف کو کوئی پہلو نکل سکتا ہے۔ ممکن ہے اب کی بار اسی پیش گوئی کو سامنے رکھتے ہوئے انہوں نے امید لگائی ہو کہ ٹرمپ بہادر کی امریکہ میں حکومت قائم ہونے کے بعد واشنگٹن سے ایک پروانہ جاری ہو گا جو عمران خان کے لیے رہائی اور پی ٹی آئی کے لیے ریلیف کا پیغام لائے گا، لیکن فی الحال تو ایسا کچھ بھی ہوتا ہوا نظر نہیں آتا ۔ ہاں صورتحال کچھ اس کی الٹ سمت میں ضرور چلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ 
بات اگر سامعہ خان کی پیش گوئیوں کی ہی کی جائے تو پھر تو اگر پی ٹی آئی والے حقیقی طور پر عمران خان کی رہائی کے متمنی ہیں تو ان کی صفوں میں اس وقت تھرتھلی مچ جانی چاہیے ۔ کیونکہ آسٹرالوجسٹ کی پیش گوئی کے مطابق عمران خان کے سپورٹرز اگر مئی کے مہینہ تک انہیں ریلیف دلانے میں کامیاب نہ ہو سکے تو پھر آنے والا وقت ان کے لیے مزید مشکلات کا پیغام لائے گا۔ اس کے علاوہ ماہرین فلکیات کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ انہیں عنقریب عمران خان کا اقتدار میں آنا تو درکنار ان کی جیل سے رہائی کے امکانات بھی نظر نہیں آتے۔ 
بات صرف کسی کی پیش گوئی کی نہیں بلکہ غیر جانبدار سیاسی تجزیہ کار بھی اس بات پر متفق ہیں کہ رویوں اور سیاسی حکمت عملی نے عمران خان کے لیے صورتحال کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے، اور اب اس کی جیل سے رہائی یا اس کا سیاسی کیریئر غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہے۔ واضح رہے کہ کہ عمران خان نہ صرف خود فوج ، عدلیہ اور حکومت کے دیگر ستونوں پر سنگین قسم کے الزامات لگا کر عوامی رائے کو ان کے خلاف کرنے کی کوششیں کرتے رہے ہیں بلکہ ان کے بعض حواری آج بھی یہ کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 
 اگرچہ اب سے کچھ عرصہ پہلے تک پی ٹی آئی کے بیانیے کو بڑے پیمانے پر عوامی حمائت حاصل رہی ہے لیکن اب صورتحال بتریج تبدیل ہو رہی ہے اور یہ تاثر فروغ پا رہا ہے کہ کوئی فرد قانون سے بالاتر نہیں ہے، اور یہ کہ سیاسی رہنما¶ں کو بھی ان کے اعمال کے لئے جوابدہ ہونا چاہئے، خاص طور پر جب وہ اقدامات جمہوریت کے تانے بانے کو خطرے میں ڈالتے ہوں۔ سیاسی گفتگو اور بغاوت پسندانہ بیان بازی کے مابین لکیریں واضح ہیں۔ اگر سیاسی رہنما¶ں کو ان ملکی اداروں، جو ملک کی سرحدوں کے محافظ ہیں اور ملک میںقانون نافذ کرنے کے ذمہ دار ہیں، پر حملہ کرنے کی اجازت ہو گی تو اس سے آنے والے دنوں میں قانون شکنی کا ایک نیا معیار طے ہو جائے گا۔ دوسری طرف، ایسے لوگ اب بھی موجود ہیں جو ریاستی اداروں پر حملہ آور ہونے یا اس قسم کی پلاننگ کرنے والوں سے معافی مانگنے کے مطالبات کو ایک سیاسی حکمت عملی کے طور پر دیکھتے ہیں۔
اگرچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان تحریک انصاف در اصل ایک ون مین شو ہے اور اگر اس شخص کو منظر عام سے ہٹا کر دیکھا جائے تو پی ٹی آئی ایک زمین بوس شے نظر آتی ہے، لیکن اس کی بی گریڈ قیادت اس حقیقت کو ماننے سے انکاری نظر آتی ہے۔ مولانا فضل الرحمن سے حالیہ مذاکرات کے بعد بھی مولانا کا کہنا تھا کہ ایسی ٹیم سے بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں جس کے پاس کسی بھی قسم کے فیصلے کا کوئی اختیار ہی نہ ہو۔ ویسے تو مولانا کی اس آبزرویشن کو بھی جھٹلا دیا گیا لیکن حقیقت کیا ہے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔اس سے قبل حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوران بھی ہم نے دیکھا کہ پی ٹی آئی کا وفد چھوٹی سے چھوٹی بات کی توثیق کے لیے اڈیالہ جیل بھاگے جاتے تھا۔ اور پھر کسی بھی ٹھوس وجہ کے بغیر مذاکرات سے فرار حاصل کر لیا گیا۔ 
ایک طرف تو سیارہ شناسوں کی پیش گویاں تو دوسری طرف سیاسی تجزیہ کاروں کے اندازے ایسی صورتحال بنا رہے ہیں کہ پی ٹی آئی قیادت اب سنجیدگی سے غور کرے کہ اگر الطاف حسین کے بغیر ایم کیو ایم اور نواز شریف کے بغیر مسلم لیگ چل سکتے ہیں تو عمران خان کے بغیر پی ٹی آئی کیونکر نہیں چل سکتی۔

مزیدخبریں