رمضان ریلیف پیکیج

07:33 PM, 10 Mar, 2025

حکومت کی جانب سے رمضان ریلیف پیکیج تقریباًہرسال منظورہوتاہے،اب تک غالباًایساکوئی رمضان نہیں گزراکہ جس میں حکومت کی طرف سے غریب عوام کے لئے اربوں روپے کا رمضان ریلیف پیکیج منظورنہ ہواہو،ریلیف پیکجز توہرسال منظورہوتے رہے ہیں لیکن اکثراوقات یہ ریلیف کبھی عوام کے لئے ریلیف کاباعث نہیں بنے۔کیونکہ اس سے پہلے رمضان ریلیف کے یہ جتنے بھی پیکجزتھے یہ یوٹیلٹی سٹورزکے ذریعے دیئے گئے۔حکومت کی جانب سے عوام کے لئے اربوں کے یہ پیکجزیوٹیلٹی سٹورزکوتودیئے گئے لیکن بعدمیں ان پیکجزکاجوحال ہواوہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھیں تویہ ریلیف پیکیج عوام کے لئے رحمت وسہولت کے بجائے ہمیشہ تکلیف اورزحمت کا باعث بنے۔انہی ریلیف پیکجز کی وجہ سے توہمیںماہ صیام کی مبارک ساعتوں میں یوٹیلٹی سٹورز کے باہرآٹا،گھی اورچینی کے لئے غریبوں کی لمبی لمبی لائنیں دیکھنے کوملیں۔وہ چارکلوچینی اوردوکلوگھی کے لئے لمبی لمبی لائنوں میں غریبوں کاصبح سے شام تک وہ ذلیل وخوار ہونا تو سب کو یاد ہو گا۔ملک کے کونے کونے میں ایساکوئی یوٹیلٹی سٹورنہیں ہوگاجہاں آٹا،گھی اورچینی کے لئے عوام کی لائنیں اورقطاریں نہ لگی ہوں۔آج بھی غریبوں کو وہ وقت یادہوگاجب روزے کی حالت میں تپتی دھوپ اورشدیدبارش میں رمضان ریلیف پیکیج کے لئے یہ گھنٹوں لائنوں میں کھڑے ہونے کے بعدشام کوخالی دامن اور خالی ہاتھ یہ گھروں کومایوس واداس واپس لوٹتے۔حکومت کی جانب سے عوام کوریلیف دینے کے لئے یوٹیلٹی سٹورزکوتواربوں روپے فراہم کردیئے جاتے مگرآگے اربوں روپے کاوہ ریلیف پیکیج کہاں جاتایاکس کوپہنچتااس کاآج بھی کسی کوکوئی پتہ نہیں ہو گا۔ یہی وہ باتیں اورخامیاں تھیں کہ جن کی وجہ سے اب کی باررمضان ریلیف پیکج یوٹیلٹی سٹورز کے بجائے براہ راست عوام کودینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ موجودہ حکومت باالخصوص وزیراعظم میاں شہبازشریف کایہ فیصلہ آب زرسے لکھنے کے قابل ہے، رمضان کاوہ اربوں روپے کاریلیف پیکج جس کا پہلے کوئی پتہ نہیں چلتاتھا،موجودہ حکومت کے اس فیصلے اوراقدام سے اب غریبوں کے ساتھ عام لوگوں کو بھی معلوم ہوگاکہ اس ملک کے اندر رمضان کے مبارک مہینے میں غریب انسانوں کو بھی کوئی ریلیف ملتاہے۔ملک کی تاریخ میں یہ پہلی بارہے کہ رمضان ریلیف پیکیج نہ صرف گھربیٹھے غریب عوام تک پہنچے گابلکہ اس سے مستحق افرادحقیقی معنوں میں مستفیدبھی ہوں گے کیونکہ امسال بیس ارب روپے کے اس پیکیج اورریلیف کوحقداروں اورمستحقین تک پہنچانے کے لئے حکومت کی جانب سے جوطریقہ اختیاراورراستہ اپنایاجارہاہے اس سے قوی امیدہے کہ یہ ریلیف پیکیج انشاءاللہ گھرکی دہلیزپرمستحقین تک پہنچے گا۔یہ حقیقت اپنی جگہ کہ ہردورمیں ہربرسر اقتدار حکومت نے رمضان المبارک سے پہلے ہی عوام کے لئے اربوں روپے کا ریلیف پیکیج منظور کرایا پر یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اربوں روپے کے ان پیکجزکاآج تک عوام کو کوئی خاطرخواہ فائدہ نہیں پہنچا،رمضان ریلیف پیکیج کے حوالے سے کسی حکومت اورحکمران کے اخلاص اور نیت پر کسی کو شک نہیں، حکومت اور حکمران مسلم لیگ ن کے ہوں، پیپلزپارٹی کے ،تحریک انصاف کے یاپھرکسی اورسیاسی جمات کے۔ جس طرح اوپرذکرکیاگیاکہ ہرحکومت اور حکمران نے اپنی طرف سے اس ملک کے غریب عوام کے لئے ہرسال اورہردورمیں اربوں روپے کا رمضان ریلیف پیکیج دیاوہ الگ بات کہ ریلیف کاطریقہ اورراستہ غلط ہونے کی وجہ سے ان پیکجزسے غریب عوام اس طرح مستفید نہیں ہوئے جس طرح انہیں مستفید ہونا چاہئے تھا۔ سابقہ ادوارمیں رمضان ریلیف پیکیج کے لئے یوٹیلیٹی سٹورز کا جو روایتی راستہ اور طریقہ اپنایا گیا وہی راستہ اور طریقہ اگر اب بھی اختیار کیا جاتا توآپ یقین کریں بیس ارب روپے کے اس تاریخی پیکیج کے باوجود غریب عوام اور مستحق افراد کو پھر بھی کچھ خاص نہیں ملنا تھا۔ یہاں پیکجز سے زیادہ مافیا طاقت ور ہے۔ ایسے کتنے پیکجز ہوتے ہیں جن کاحقداروں کو پتہ تک نہیں چلتااس کی اہم وجہ ہی یہ ہے کہ مافیاکے کارندے غریبوں اورحقداروں کوایسے پیکجزکی ہواکبھی لگنے ہی نہیں دیتے۔جولوگ بینظیرانکم سپورٹ پروگرام سے منسلک غریب ماﺅں، بہنوں، بیٹیوں، یتیموں اوربیواﺅں کومٹھی گرم کئے بغیر معاف نہ کریں ایسے لوگوں سے کیسے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اس ملک کے غریب عوام کے لئے اربوں روپے کا منظورشدہ رمضان ریلیف پیکیج کومفت میں بخش دیں گے۔ رمضان ریلیف پیکیج کے ساتھ اس سے پہلے جوکچھ ہوتاتھاموجودہ حکومت کواس کاپتہ اور اندازہ تھاتب ہی تواس بارڈیجیٹل والٹ کے ذریعے پانچ ہزارکیش دینے کافیصلہ کرکے غریبوں کی ذلالت والاراستہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا۔ غریب اورمستحق افرادکوکیش رمضان ریلیف پیکیج دینے کے اس فیصلے اوراقدام کے بعداب یہ امید ہو چلی ہے کہ آئندہ رمضان ریلیف پیکیج کے لئے انشاءاللہ یہی طریقہ اورراستہ اپنایا جائے گا۔جن غریبوں، مجبوروں اور لاچاروں کو گھربیٹھے نقد امداد ملے گی وہ موجودہ حکومت اور خاص کر وزیراعظم شہباز شریف کو کتنی دعائیں گے۔؟ شائد کہ مہنگائی ،غربت اور بیروزگاری کے اس دورمیں پانچ ہزارکاہندسہ بہت سوں کوکم لگے لیکن ایک غریب اور مجبور بندے کے لئے پانچ ہزارکی رقم بھی بڑی شئے ہے پھر نہ ملنے سے پانچ ہزار کا ملنا بھی توہزاردرجے بہتر ہے۔ ریلیف سے متعلق کاموں اور پروگراموں کی اگر مناسب طور پر نگرانی ہو تو اس سے نہ صرف حقداروں تک ان کا حق پہنچتاہے بلکہ غربت سمیت دیگر کئی طرح کے مسائل بھی حل ہوتے ہیں۔موجودہ حکمران بھی اگرسابقین کے نقش قدم پرچل کریوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے رمضان ریلیف پیکیج کااجراءکرتے توکس نے انہیں روکنایاٹوکناتھا۔ماضی کی طرح اب بھی ایک دودن لوگ یوٹیلٹی سٹورزکے باہرلائنوں میں کھڑے ہونے کے بعدچپ کرگھروں میں بیٹھ جاتے ۔ یہ تواللہ بھلاکرے اس روایت کوتوڑنے والوں کاکہ انہوں نے ریلیف پیکیج کاطریقہ، روٹ اورنظام کوتبدیل کرکے اس ملک کے غریب عوام کوایک امتحان بلکہ ایک بڑے عذاب سے نکال لیا ہے۔ خداکرے کہ حکومت کا یہ والا رمضان ریلیف حقیقی معنوں میں اس ملک کے غریب عوام کے لئے ریلیف کاباعث بنے۔ آمین۔

مزیدخبریں