گذشتہ پچیس سال سے مسلم دنیا میں امریکی ( پینٹاگان ) کی ننگی جارحیت نے اس کی معیشت کا جنازہ نکال دیا ہے ۔ جس کی وجہ سے ٹرمپ اور اسکے آقا حواس باختہ ہو چکے ہیں۔ لہٰذا ٹرمپ نے کیپٹل Lords کو اپنے جمع کر لیا ہے ۔ تاکہ کسی طرح بھی معیشت کو سنبھالا دیا جا سکے۔ ڈولتی ہوئی امریکی معیشت کا صاف مطلب دنیا بھر سے ( پینٹا گان، دجالیوں کا جنگی ہیڈ کوارٹر ) کا ملٹری و فکری کنٹرول کا خاتمہ ہے ۔ گلوبل ورلڈ کے تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے تحت ،جس کا پینٹاگان کسی بھی صورت میں متحمل نہیں ہو سکتا ۔ War on Terror اور War on Islamic Terror کا نعرہ لگانے والے ساہوکار فی الوقت اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ براہِ راست War on Islam کا نعرہ لگا سکیں ۔ انہی وجوہات کی بناءپر یہود نواز ٹرمپ دنیا بھر میں ” دھمکی آمیز تجارتی جنگ “ کا نعرہ لگا نے پر مجبور ہو گئے ۔ ایک جانب یورپ تو دوسری جانب یوکرائن کو تجارتی دھمکی آمیز رویوں سمیت نریندرمودی کو Threatened Trade War کے تحت ہی اربوں ڈالر کے اسلحہ کی فروخت اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
حالانکہ قریب و مستقبل میں بھارت کو اتنے بڑے پیمانے پر ایسے مہلک جنگی ہتھیاروں کی ضرورت نہیں تھی ۔ جن کو وہ اپنے پڑوسیوں کے خلاف استعمال کر سکے۔ کیونکہ بھارت فی الوقت اندرونی طور پر اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے ۔ جہاں 7 ریاستوں میں آزادی کی جنگ لڑنے والی مسلح تحریکیں اپنی جدوجہد میں شدت اختیار کر چکی ہیں ۔ جن پر قابو پانے کے لیے کم وبیش چار لاکھ فوجی جھونک دیئے گئے ہیں ۔جبکہ مقبوضہ کشمیر میں دہائیوں سے تعینات ہندو فوجی اہلکاروں و آفیسران میں بڑھتی ہوئی خود کشیاں و کرپشن انتہائی سنگین
صورت حال اختیار کر چکی ہے۔ دہلی سے ملنے والی بعض مصدقہ اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج میں نیچے سے لیکر اوپر تک لڑنے کا مورال انتہائی نیچے آچکا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ بھارتی فوج کے ڈپٹی چیف آف آرمی سٹاف جیسے اعلیٰ عہدےدار Lt Gen Suchindra Kumar دشمن ملک کو انتہائی حساس معلومات دیتے ہوئے پکڑا گیا ہے ۔ بھارتی سکیورٹی ادارے و حکومتی ایوان نمائندگان شدید شرمندگی و سبکی کی وجہ سے متعلقہ دشمن ملک کانام لینے سے کترا رہے ہیں۔ اوپر سے 25 کروڑ بھارتی مسلمانوں کے خوف نے مودی سرکار، اپوزیشن ، مذہبی پنڈتوں اور عسکری ذمہ داران کو چکرا کر رکھ دیا ہے ۔
ٹرمپ نے آتے ہی ایگزیکٹو آرڈر کے تحت جب غیر ممالک کو دی جانے والی ہر قسم کی امداد کی فراہمی روک دی تھی ۔ تو اس سے یہ واضح ہو گیا تھا کہ امریکی معیشت ( پینٹاگان ) کس سطح کی گراوٹ کا شکار ہے ۔ جو پینٹاگان کا سب سے کمزور پہلو بن چکا ہے ۔ اس کمزوری کو چھپانے یا سنبھالا دینے کے لیے یہود نواز ٹرمپ آئے روز تیسری عالمی جنگ کے نعرے سے دنیا کو دھمکاتا پھر رہا ہے ۔ تاکہ دنیا مرعوب ہو کر ڈوبتی ہوئی امریکی معیشت میں سرمایہ کاری کرے اور ان سے بے حساب و بے تول اسلحہ بھی خریدے۔ اہل کفار کے مخدوش حالات وکھوکھلے نعروں کی منظر کشی کرتے ہوئے اللہ سبحانہ و تعالیٰ مسلمانوں کو حوصلہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں ( یہ آپس میں مخالفت میں بڑے سخت ہیں تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں ان کا یہ حال اس لیے ہے کہ یہ بے عقل لوگ ہیں،سورة الحشر)۔ موجودہ منظرنامے میں اہل بصیرت کے لیے خاص کر ان کے لیے بہت سے اشارے و کنائے ہیں ۔ جنہوں نے دنیا کو امن کا گہوارہ بنانا تھا ۔ المیہ یہ ہے کہ وہ تو خود آپس میں دست وگریباں ہیں ۔
جب دین اسلام ( قرآن وسنت ) ” اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم ، یعنی عشرہ مبشرہ وخلفاءراشدین“ سے ہٹ کر اپنے نفس کی تابع ہو کر کی تشریح کی جائے گی ۔ تو صراط مستقیم (توحید ) کے راستوں سے بھٹک جانا لازمی امر ٹھہر جاتا ہے ۔ تب اختلافات جنم لیتے ہیں ۔ اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں سے متعلق سوچوں وفکروں میں شدت آتی ہے، دل سخت ہو جاتے ہیں ۔ تب گردن زدنی کو ہی اسلام سمجھ لیا جاتا ہے ۔ دنیاوی ” فانی “ عہدوں و دولت کی ہوس آپس میں خانہ جنگی کا باعث بننے لگتی ہے ۔ جو درحقیقت اللہ کی سخت ناراضی کا سبب ہے ۔پھر بھی سمجھ نہ آئے توتاریخ و اپنے ارد گرد کے المناک واقعات سے سبق حاصل کیا جا سکتا ہے۔اسی کی دہائی میں جب کیمونزم نظام زمین بوس ہوا توحیرت انگیز طور پر اس جنگ کے ہیرو دنیاوی عہدوں و دولت کے حرص میں ایک دوسرے سے الجھ پڑے ۔تب اللہ کی پکڑ آئی اور آج وہ گمنامی کی تاریخ کا ایسا حصہ بن چکے ہیں جن کا کوئی نام لیوا بھی نہیں ۔ اسی طرح پاک فوج کے خلاف ہذیان بک کر، نفرت کے الاﺅ بھڑکا کر خانہ جنگی جیسی صورت حال پیدا کرنے والے عاقبت نااندیشوں کو سوڈان و لیبیا کے انتہائی کرب ناک واقعات سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔
بہرحال قوم وامت کو زمینی حقائق کے تناظر میں ایک امکانی خطرے سے آگاہ کرتا چلوں۔ اگر ٹرمپ کا ”دھمکی آمیز تجارتی جنگ “ مشن ناکام ہو جاتا ہے ۔ تو امکان ہے کہ یورپ میں فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے اسلاموفوبیا کو بھڑکا کر تیسری عالمی جنگ کا رخ عالم اسلام کے خلاف کر دیا جائے گا۔ جنگوں کی سٹریٹجک Depthپرعبور رکھنے والوں کو اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ حالانکہ بے راہ وری کا شکار ، ذلت وخواری کا بوجھ اٹھائی ہوئی امت کو شاندار فتوحات کی بشارتیں دی گئی ہیں۔
ٹرمپ کی دھمکی آمیز تجارتی جنگ اور قرآن
07:29 PM, 10 Mar, 2025