کیلنڈر کے اوراق یوں تو ازخود پلٹتے جاتے ہیں لیکن اس میں گزرے ہوئے وقت کی کچھ تاریخیں بار بار وقت کی راکھ سے سر اٹھا کر زندہ ہونے کی کوشش کرتی رہتی ہیں ایسی ہے ایک تاریخ 26 اگست 2021ءہے جو امریکی تاریخ کے لیے ہمیشہ شرمساری اور عبرت کا باعث بنتی رہے گی۔ یہ وہ دن تھا جب امریکہ افغانستان سے نہایت عجلت پریشانی اور حواس با ختگی کے عالم میں افغانستان سے کوچ کر رہا تھا امریکہ کے لیے یہ ویتنام سے بڑی ذلت و رسوائی تھی کیونکہ ہزاروں گاڑیاں جنگی جہاز اور اسلحہ چھوڑ کر امریکی جانیں بچا کر نکل رہے تھے ہدف صرف ایک ہی تھا کہ تمام امریکیوں کو بحفاظت یہاں سے زندہ نکال کر لے جانا ہے۔
اس دن کے آخری لمحات میں کابل کے حامد کرزئی ایئر پورٹ پر میدان حشر کا سماں تھا اس افراتفری کے عالم میں ایئر پورٹ کےAbbey Gate پر زور دار خودکش دھماکہ ہوا جس میں ایک یا دو نہیں بلکہ 13 امریکی فوجی لقمہ¿ اجل بن گئے جبکہ 170 افغان شہری جو امریکی جہازوں میں سوار ہو کر یہاں سے نکلنا چاہتے تھے وہ بھی مارے گئے یہ امریکی تاریخ کا ایک شرمناک واقعہ تھا اس وقت کے صدر بائیڈن نے اس پر بدلہ لینے کا اعلان کیا۔ داعش کے خراسان ونگ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ آہستہ آہستہ عالمی برادری اس واقعہ کو بھول گئی لیکن امریکہ اتنی بڑی ناکامی کو بھولنے پر آمادہ نہ تھے البتہ ان کی یہ مجبوری تھی کہ گیم اب امریکہ کے ہاتھ سے نکل گئی تھی امریکی جاتے جاتے اپنے 13 فوجیوں کی لاشیں ساتھ لے گئے وقت گزرتا رہا بائیڈن کا اقتدار ختم ہوا اور اس سال جنوری میں ٹرمپ نے دوسری بار امریکہ کے 47 ویں صدر کا عہدہ سنبھال لیا۔
امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے کابل ایئر پورٹ حملے کی تحقیقات جاری رکھیں اور اس کے ماسٹر مائنڈ افغانی محمد شریف اللہ عرف جعفر کا سراغ لگا لیا۔ یہ وہ بندہ تھا جس نے دہشت گردوں کو موقع واردات تک راہداری خدمات انجام دیں اور خود موقع سے فرار ہو گیا۔ امریکہ افغان طالبان کے آنے کے بعد
اب تک اربوں ڈالر افغانستان کی تعمیر پر خرچ کرنے کے باوجود طالبان حکمرانوں کے ساتھ کوئی ورکنگ ریلیشن یا اعتماد کی فضا قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔
امریکہ کے لیے یہ ناقابل برداشت تھا کہ 13 امریکی فوجیوں کا قاتل افغانستان میں آزادانہ دندناتا پھرتا تھا لیکن امریکی اسے پکڑنے سے قاصر تھے حالانکہ اس کی نقل و حرکت بھی مانیٹرنگ ہو رہی تھی۔ ان حالات میں امریکیوں کو خدشہ تھا کہ اگر یہ انفارمیشن طالبان حکومت کے ساتھ شیئر کر دی گئی تو وہ راز نہیں رہے گی اور بالفرض طالبان نے شریف اللہ کو پکڑ بھی لیا تو وہ اس کی حوالگی کے لیے اربوں ڈالر تاوان کا مطالبہ کریں گے کیونکہ اس سے پہلے وہ کچھ افغانوں کو امریکہ کے حوالے کر کے منہ مانگی قیمت وصول کر چکے تھے۔
بالآخر امریکا کو اپنے پرانے دوست پاکستان کی یاد ستانے لگی جس کے ساتھ ایک دہائی سے پاکستان کے تعلقات کشیدہ چلے آ رہے تھے۔ امریکی میدیا کی خبر کے مطابق فروری کے وسط میں میونخ میں ہونے والی عالمی سکیورٹی کانفرنس میں امریکی سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیکل والز اور پاکستان کی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل جنرل عاصم ملک کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں پاکستان سے شریف اللہ کی گرفتاری میں مدد کرنے کی درخواست کی گئی۔ پاکستان کے ساتھ تمام تر معلومات شیئر کی گئیں جس کے چند دن کے بعد پاکستان خفیہ اداروں نے شریف اللہ کو دبوچ لیا لیکن اس بات کی کسی کو بھی کانوں کان خبر نہ ہونے دی گئی۔ حالات و اقعات اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی امریکی خفیہ ایجنسی سے زیادہ پروفیشنل ہے۔ انہوں نے اتنا ہائی ویلیو ٹارگٹ پکڑنے کے بعد بھی اس کی میڈیا میں کسی طرح کی کوئی تشہیر نہیں کی۔ شریف اللہ کو گرفتار کیا اس کی شناخت کی گئی۔ اس سے Interrogation کر کے اس کے اعتراف جرم کے بعد بھی معاملے کو منظر عام پر نہیں لایا گیا اور ملزم کو امریکہ کے حوالے کر دیا گیا۔
جب شریف اللہ پاکستان کی سرزمین سے نکل گیا تو عین اس وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس سے اپنے پہلے خطاب کے موقع پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا تب پوری دنیا کو اس کی خبر ہو گئی۔ شریف اللہ کی گرفتاری اور امریکا حوالگی کے بعد پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردی حملے پہلے سے زیادہ تیز ہو گئے ہیں اور آنے والے وقت میں ان میں مزید شدت آنے کا خدشہ ہے۔ داعش کا خراسان ونگ انتقامی حملے کرے گا۔ افغان حکومت کو اس معاملے میں امریکا نے سائیڈ لائن کیا ہے وہ پہلے ہی افغان سر زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے میں دانستہ یا نادانستہ ناکام رہے ہیں۔ اس لیے پاکستان کی مغربی سرحد پہلے سے زیادہ غیر محفوظ ہو گئی ہے۔
اب تو صدر ٹرمپ نے بھی کہنا شروع کر دیا ہے کہ افغان حکومت سے امریکی چھوڑا ہوا اسلحہ واپس لیا جائے گا کیونکہ یہ اسلحہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔ لیکن اس سلسلے کی بازیابی اب امریکہ کے لیے آسان کام نہیں ہے اس کی بجائے امریکہ کو اسی Calibre کا اسلحہ پاکستان کو دینا پڑے گا تا کہ دہشت گردوں سے ملک کا دفاع کیا جا سکے۔
تقریباً ایک دہائی کے بعد پاکستان اور امریکہ دہشت گردی کے عملاً خاتمے کے لیے Re-engageہو گئے ہیں۔ اس سے دونوں لکوں کے درمیان فوجی تعاون میں اضافہ ہو گا اور پاکستان کی دفاعی امداد بحال ہونے کے امکانات ہیں۔ دوسرے نمبر پر پاکستان کے معاشی مسائل کی مد میں بھی امریکا پاکستان کی مدد کر سکتا ہے۔ پاکستان اس عرصے میں امریکا کی بجائے چائنا کے ساتھ زیادہ تعلقات استوار کر چکا ہے لیکن اس کے باوجود خطے میں پاکستان کر سٹریٹجک اہمیت سے انکار ممکن نہیں بلاشبہ پاکستان کی پہلی ترجیح چائنا ہی رہے گا لیکن افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کی گارنٹی ہمیں امریکہ سے ہی ملے گی کیونکہ قطر میں ہونے والے افغان طالبان اور امریکی معاہدے کی سب سے پہلے شق ہی یہ تھی کہ افغان سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔
دہشت گردی کے خلاف پاک امریکا ری انگیجمنٹ
07:23 PM, 10 Mar, 2025