بر وقت انصاف نہ ملا جس کی وجہ سے ملازمت بحال نہ ہو سکی اور خانیوال کے رہائشی آصف جاوید نے لاہور ہائکورٹ کے احاطہ عدالت میں خود سوزی کر کے جان دے دی ۔کسی انسان کی موت طبعی بھی ہو تو وہ موت ہی ہوتی ہے اور جس کا نام ہی موت ہو اس پر مزید کیا کہیں کہ وہ کتنا بڑا صدمہ ہے ۔مرنے والے کے لئے تو قیامت بپا ہو ہی جاتی ہے لیکن لواحقین کے لئے بھی اپنے کسی عزیز کی موت قیامت صغریٰ سے کم نہیں ہوتی لیکن موت اگر ناگہانی ہو تو مرنے والا تو اپنے رب کے حضور پیش ہو جاتا ہے لیکن لواحقین کے لئے صدمہ عظیم کا سامان کر جاتا ہے لیکن اس سے بھی زیادہ المناک موت وہ ہے کہ جو ناگہانی بھی ہو اور بے بسی کے عالم میں بھی ہو لیکن اس موت اور اس موت کا سامنا کرنے والے اور اس کے لواحقین کا کیا عالم ہو گا کہ جو انتہائی بے بسی کی موت ہو اور بندہ بے بسی کی انتہا کو پہنچ کر خود موت کو گلے لگانے کو تیار ہو جائے ۔ ہمارے بے حس معاشرے میں ایسے واقعات عام ہوتے ہیں اور یقین کریں کہ اب تو بحیثیت مجموعی ہماری بے بسی کی یہ حالت ہے کہ ایسے واقعات پر وقتی طور پر بھی شرمسار نہیں ہوتے اور متاثر ہو کر ضمیر کو جھنجوڑنے جیسے فضول کام تو ایک عرصے سے چھوڑ رکھے ہیں لیکن کبھی وقت ملے تو ایسی کسی بے بسی کے عالم میں ہوئی موت کا مشاہدہ ضرور کریں کہ جس میں مرنے والے نے تو موت کو گلے لگا کر اپنی جان چھڑا لی لیکن پیچھے رہ جانے والے اس کے گھر والے جن میں اس کے بیوی بچے ماں باپ بہن بھائی سب شامل ہوتے ہیں اور جن کا اکلوتا کفیل وہی مرنے والا ہوتا ہے ان باقی رہ جانے والوں کی گاہے بگاہے کبھی حالت دیکھنے کا موقع ملے تو ضرور دیکھئے گا کہ انسان اپنی زندگی میں ہی کیسے پل پل جیتا اور پل پل مرتا ہے اور کیسے ہر روز اس پر ایک نئی قیامت ٹوٹتی ہے ۔
آصف جاوید خانیوال کا رہائشی تھا اور ایک نجی کمپنی میں ملازمت کرتا تھا ۔ اس کمپنی نے اسے 2016میں ملازمت سے فارغ کر دیا ۔ اس بر طرفی کے خلاف آصف جاوید نے لیبر کورٹ میں اپیل کی جہاں سے2019میںاس کے حق میں فیصلہ آیا اور بر طرفی کے فیصلے کو معطل کرتے ہوئے اسے ملازمت پر بحال کر دیا لیکن لیبر کورٹ کے اس فیصلے کو کمپنی نے نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن میں چیلنج کر دیا ۔ 23نومبر2020کو نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن نے کمپنی کی اپیل خارج کرتے ہوئے لیبر کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ۔ نیشنل ریلیشن انڈسٹریل کمیشن کے فیصلے خلاف کمپنی نے دسمبر 2020میں لاہور ہائیکورٹ میں اپیل کر دی جو ابھی تک زیر التوا ہے اور اس کا فیصلہ نہیں ہو سکا ۔ اس دوران آسانی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ2016سے لے کر اب تک کم و بیش نو سال کا عرصہ گذر چکا ہے اور مہنگائی بیروز گاری کا جو عالم ہے کہ جس میں بر سر روز گار شخص کے لئے دو وقت کی روٹی اور گھر کے اخراجات چلانا محال ہو چکا ہے تو ایک بے روز گار شخص کی حالت کیا ہو گی اور پھر اس پر مستزاد کہ کورٹ کچہری کے چکر اور وکیلوں کے اخراجات الگ ۔ ایسے میں اگر گھر اور گاڑی بک گئے تھے تو اس میں تعجب والی کوئی بات نہیں تھی۔ 26فروری کو جب آخری سماعت ہوئی تو عدالت نے 8 مارچ تک کیس ملتوی کر دیا تھا۔ آصف جاوید نے عدالت سے باہر نکل کر عدالتی راہداری کے باہر عدالتی احاطہ میں اپنے اوپر پیٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگا لی ۔ عینی شاہدین کے مطابق اس کے پاس پانی کی بوتل میں پیٹرول موجود تھا ۔ اس کی خود سوزی کے بعد پولیس اہلکاروں نے اس آگ بجھانے کی کوشش کی اور اسے میو ہسپتال منتقل کیا لیکن وہ جانبر نہیں ہو سکا۔ اس کی موت کے بعد لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس محترمہ عالیہ نیلم صاحبہ نے سخت نوٹس لیا جس کے بعد پولیس افسران کی دوڑیں لگ گئیں اور انھوں نے فوری طور پر لاہور ہائیکورٹ آ کر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا ۔ محترمہ چیف جسٹس صاحبہ نے بڑا اچھا کیا کہ انھوں نے خودی سوزی کے بعد عدالت عالیہ کی سکیورٹی کے حوالے سے فوری نوٹس لیا لیکن افسوس کہ جس بات پر در حقیقت فوری نوٹس لینے کی ضرورت تھی اس پر انھوں نے نوٹس نہیں لیا ۔کم از کم انھیں اس بات کا تو پتا لگانا چاہئے تھا کہ مرنے والے نے خود سوزی کیوں کی اور وہ کون سے حالات تھے اور ان حالات کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے کہ جس کی وجہ سے آصف جاوید کو خود سوزی کر کے اپنی جان دینے جیسا انتہائی قدم اٹھانا پڑا ۔ ایک صوبے کی چیف جسٹس ہونے کے ناتے کیا یہ ان کے فرائض میں شامل نہیں کہ وہ انکوائری کراتی کہ ہمارے نظام انصاف میں وہ کون کون سی اور کہاں کہاں خامیاں ہیں کہ جن کی وجہ سے آصف جاوید کو نو برس گذر جانے کے باوجود بھی انصاف نہیں مل سکا اور طویل عرصہ گذرنے کے باوجود بھی صرف آصف جاوید ہی نہیں بلکہ اس ملک میں ہزاروں افراد ہیں کہ جنھیں عشرے گذرنے اور اپنی جمع پونجی خرچ کرنے کے بعد بھی انصاف نہیں مل سکا ۔
ہمیں حیرت ہے کہ ایک طرف ایک شخص جو برسوں سے انصاف کے حصول کے لئے کبھی ایک عدالت اور کبھی دوسری عدالت میں خوار ہوتا رہا اور آخر وہ بیچارہ ہمت ہار بیٹھا اور جان کی بازی لگا دی اور اس دوران اس کی گاڑی اور گھر تو بک ہی چکے تھے لیکن اب یہ خدا بہتر جانتا ہے یا اس بد نصیب کے بیوی بچے جانتے ہوں گے کہ اس پر کتنا قرض چڑ چکا تھا ۔ ہم نے لواحقین کی بجائے بیوی بچوں کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ انسان اس حد تک سفاک ہو چکا ہے کہ زندہ تو کیا مرنے کے بعد بھی سگے بہن بھائی بھی قرض دینا تو در کنار اس کے بیوی بچوں کو دو وقت کی روٹی دینے کے روادار نہیں ہوتے ۔مرنے والا تو بے بسی کی موت مر گیا لیکن اس بے بس معاشرے کے لئے بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے کہ جن کا جواب دینا اس معاشرے بہت سے آصف جاویدوں کا قرض ہو گا ۔
کاش اسے انصاف مل جاتا
07:23 PM, 10 Mar, 2025