اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 12 جون کو پیش کیے جانے والے نئے مالی سال کے بجٹ میں عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف دینے کے لیے بڑے معاشی اقدامات کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کے تحت انکم ٹیکس سلیب میں عوام دوست تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں۔
بجٹ دستاویزات کی تیاری سے جڑے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بار تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے کے لیے انکم ٹیکس کی حد اور سلیبز کو نئے سرے سے مرتب کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صنعت کاروں اور تاجروں کے لیے سپر ٹیکس میں کمی کی تجویز بھی زیرِ غور ہے، تاکہ ملک میں صنعتی پہیہ تیز ہو سکے۔
رپورٹ کے مطابق، حکومت پراپرٹی سیکٹر میں جاری مندی کو ختم کرنے کے لیے خصوصی ریلیف اقدامات کو حتمی شکل دے رہی ہے، جبکہ ملکی ڈالر کمانے والے برآمدی شعبے (Export Sector) کو ٹیکسز اور دیگر انتظامی معاملات میں خصوصی سہولیات فراہم کرنے کی تجاویز بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔ ان تمام مراعاتی پیکجز کا مقصد مہنگائی کو کنٹرول کرنا اور ملکی معیشت کو استحکام دینا ہے۔