ایسے وقت جب دنیا کی نظریں مشرقِ وسطیٰ پر مرکوز ہیں جہاں نام نہاد سیز فائر پہلے ہی ”ا±ڑن چھو“ ہو چکی ہے اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی امن کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اگرچہ حالیہ دنوں میں جنگ بندی اور سیز فائر کی باتیں سامنے آئی ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ خطہ اب بھی بارود کے ڈھیر پر بیٹھا ہوا ہے۔ معمولی سی غلطی یا کسی ایک فریق کا جذباتی فیصلہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایسی جنگ میں دھکیل سکتا ہے جس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔
امریکہ اور اسرائیل کا ایران کے ساتھ تنازع کوئی نیا نہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک ایک دوسرے کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو اپنی سلامتی کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیتا ہے جبکہ ایران اسرائیل کو فلسطینی سرزمین پر قبضے اور خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار گردانتا ہے۔ یہی بنیادی اختلافات وقتاً فوقتاً فوجی تصادم اور پراکسی جنگوں کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔
حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ امریکہ اس پورے معاملے میں کہاں کھڑا ہے؟ بظاہر امریکہ جنگ بندی کا حامی نظر آتا ہے اور وہ دونوں فریقوں کو تحمل کا مشورہ دے رہا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ واشنگٹن اسرائیل کا سب سے بڑا سیاسی، سفارتی اور عسکری اتحادی ہے۔ امریکہ ہر سال اسرائیل کو اربوں ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے اور عالمی فورمز پر اس کا دفاع بھی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بہت سے حلقے امریکہ کے ثالثی کردار کو مکمل طور پر غیر جانبدار نہیں سمجھتے۔ تاہم امریکہ کی اپنی مجبوریاں بھی ہیں۔ واشنگٹن بخوبی جانتا ہے کہ اگر اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ وسیع پیمانے پر پھیل گئی تو اس کے اثرات عالمی معیشت پر تباہ کن ہوں گے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ اگر یہ راستہ متاثر ہوا تو تیل کی قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف یورپ اور ایشیا بلکہ خود امریکی معیشت بھی شدید دباو¿ کا شکار ہو جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ ایک طرف اسرائیل کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور دوسری طرف اسے تحمل کا مشورہ بھی دے رہا ہے۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا اسرائیل امریکہ کی ہر بات مانے گا؟ ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ ایسا ضروری نہیں۔ اسرائیل کی قیادت ہمیشہ اپنے قومی مفادات کو ترجیح دیتی آئی ہے۔ اگر اسے محسوس ہو کہ ایران کی جانب سے کوئی بڑا خطرہ موجود ہے تو وہ امریکی خواہشات کے برعکس بھی کارروائی کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ سیز فائر کو مستقل امن کی ضمانت نہیں سمجھا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تنازع نے اب صرف اسرائیل اور ایران تک محدود رہنا چھوڑ دیا ہے۔ لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی تحریک، شام میں مختلف مسلح گروہ اور عراق میں ایران نواز تنظیمیں اس کشمکش کا حصہ بن چکی ہیں۔ اگر ان میں سے کسی ایک محاذ پر صورتحال بگڑتی ہے تو پورا خطہ دوبارہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ یہی وہ خطرہ ہے جس سے عالمی طاقتیں خوفزدہ ہیں۔ آنے والے دنوں میں صورتحال تین ممکنہ رخ اختیار کر سکتی ہے۔ پہلا یہ کہ موجودہ نام نہاد جنگ بندی برقرار رکھے جانے کی باتیں کی جاتی رہیں اور دونوں ممالک براہِ راست تصادم سے گریز کریں۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ محدود نوعیت کی جھڑپیں اور میزائل حملے جاری رہیں، جن کے ذریعے فریقین ایک دوسرے کو پیغام دیتے رہیں۔ تیسرا اور سب سے خطرناک امکان یہ ہے کہ یہ تنازع ایک مکمل علاقائی جنگ میں تبدیل ہو جائے جس میں لبنان، شام، عراق اور خلیجی ممالک بھی کسی نہ کسی شکل میں شامل ہو جائیں۔
پاکستان کے لیے یہ صورتحال انتہائی حساس نوعیت کی ہے۔ پاکستان ایک طرف ایران کا ہمسایہ ہے جبکہ دوسری طرف سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ اس کے گہرے سیاسی اور معاشی تعلقات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد نے ابتداءہی سے متوازن خارجہ پالیسی اختیار کی ہے۔ پاکستان نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام فریق مسائل کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تلاش کریں۔ پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ وہ کسی بھی بلاک کا حصہ بننے کے بجائے خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ پھیلتی ہے تو پاکستان بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، بیرون ملک پاکستانیوں کے روزگار پر اثرات، تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ اور علاقائی سلامتی کے مسائل پاکستان کی معیشت اور داخلی استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اسی لیے پاکستان کے لیے امن کا قیام صرف ایک سفارتی خواہش نہیں بلکہ قومی مفاد کا تقاضا بھی ہے۔ اس ساری صورتحال میں فلسطین کا مسئلہ ایک بار پھر پس منظر میں چلا گیا ہے، حالانکہ مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر تنازعات کی جڑیں اسی مسئلے میں پوشیدہ ہیں۔ جب تک فلسطینی عوام کے حقوق اور خطے کے بنیادی سیاسی مسائل کا منصفانہ حل تلاش نہیں کیا جاتا، اس خطے میں مستقل امن کا خواب پورا ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
موجودہ سیز فائر اگرچہ ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن یہ محض ایک وقفہ محسوس ہوتا ہے، مستقل حل نہیں۔ ایران اپنی علاقائی پوزیشن سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں جبکہ اسرائیل اپنی سلامتی کے بارے میں کسی قسم کا خطرہ قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ امریکہ جنگ کو روکنا چاہتا ہے لیکن اسرائیل سے اپنی اسٹریٹجک وابستگی بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہی تضادات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
آج مشرقِ وسطیٰ ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں جنگ کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن حالات اب بھی غیر یقینی ہیں۔ اگر دانشمندی، سفارت کاری اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو یہ تنازع پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ ایسے وقت میں پاکستان سمیت تمام ذمہ دار ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جنگ کے بجائے امن، تصادم کے بجائے مکالمے اور نفرت کے بجائے مفاہمت کی راہ ہموار کریں، کیونکہ جنگیں جیتنے والے بھی آخرکار امن ہی کی تلاش میں ہوتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ بارود کے ڈھیر پر
09:05 AM, 10 Jun, 2026