اسلام آباد: قومی اسمبلی میں مالی سال 2025-26 کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا گیا، جس کا مجموعی حجم 18,877 ارب روپے ہے۔ اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس کے دوران وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ پیش کیا، جسے حکومت نے "معاشی استحکام کی جانب قدم" قرار دیا۔
اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے بجٹ کو "عوام دشمن" قرار دیتے ہوئے شور شرابا کیا، نعرے بازی کی اور بجٹ کی کاپیاں پھاڑ دیں۔
▪️ اہم نکات:
■ دفاعی اخراجات:
ملکی دفاع کے لیے 2,250 ارب روپے مختص کیے گئے۔
■ سیلری والے افراد کیلئے ٹیکس میں کمی:
سالانہ 6 تا 12 لاکھ روپے پر ٹیکس کی شرح 5% سے کم کر کے 1%
22 لاکھ روپے آمدنی پر ٹیکس 15% سے کم کر کے 11%
1 کروڑ روپے سے زائد آمدن پر سرچارج میں 1% کمی
■ پنشن اصلاحات:
قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی روک تھام
پنشن میں اضافہ اب CPI سے مشروط
فیملی پنشن 10 سال تک محدود
ایک سے زائد پنشن کی اجازت ختم
ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت پر صرف پنشن یا تنخواہ میں سے ایک کا انتخاب
■ توانائی و بجلی:
صنعتی بجلی 31% تک سستی
بجلی نقصانات میں 140 ارب روپے کی کمی
IPPs معاہدوں پر نظرثانی سے 3,000 ارب روپے کی متوقع بچت
3.9 لاکھ نان فائلرز کی نشاندہی
■ سولر اور ایندھن پر ٹیکس:
درآمدی سولر پینلز پر 18% سیلز ٹیکس کی تجویز
پیٹرول/ڈیزل پر 2.5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی (آئندہ سال تک 5 روپے تک پہنچے گی)
بجلی بلوں پر 10% اضافی سرچارج
■ پراپرٹی و کاروبار پر ریلیف:
کمرشل جائیداد پر ایف ای ڈی ختم
ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں کمی
اسلام آباد میں اسٹامپ ڈیوٹی 4% سے کم کر کے 1%
10 مرلہ گھروں اور 2000 اسکوائر فٹ فلیٹس پر ٹیکس کریڈٹ
■ آئی ٹی و ای کامرس:
آئی ٹی برآمدات 3.1 ارب ڈالر (ہدف: 5 سال میں 25 ارب ڈالر)
ای کامرس پر 18% سیلز ٹیکس تجویز
■ اوورسیز پاکستانیوں کیلئے اقدامات:
یونیورسٹیوں و میڈیکل کالجز میں خصوصی کوٹہ
14 اگست کو نمایاں ترسیلات بھجوانے والوں کیلئے سول ایوارڈز