نئی دہلی : بھارت میں عیدالاضحیٰ کے دوران ہندو انتہا پسندوں، خاص طور پر گاؤ رکھشکوں، کی جانب سے مسلمانوں پر حملوں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا۔ مختلف ریاستوں میں قربانی کرنے یا مسلم شناخت رکھنے کی بنیاد پر کئی افراد کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق مودی حکومت کے زیرِ سایہ بی جے پی کی انتہا پسند پالیسیوں نے مذہبی آزادی کو محدود کر دیا ہے۔ حیدرآباد، کرناٹکا، مدھیہ پردیش، اڑیشہ اور آسام جیسے علاقوں میں قربانی کے جانوروں کی باقیات یا گائے ذبح کرنے کے الزام میں مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا، گاڑیاں جلائی گئیں اور لوگوں کو زد و کوب کیا گیا۔
حیدرآباد میں جانوروں کی باقیات لے جانے والی گاڑی کو آگ لگا دی گئی، کرناٹکا میں دکانیں بند کرائی گئیں، اور اڑیشہ و آسام میں کئی مسلمان صرف شک کی بنیاد پر جیل بھیج دیے گئے۔
دی وائر کی رپورٹ کے مطابق، مودی حکومت کے دور میں گائے کے نام پر ہونے والے 97 فیصد حملے ریکارڈ پر آئے ہیں، جن میں پولیس اور شدت پسندوں کا گٹھ جوڑ واضح نظر آتا ہے۔
عید جیسے پرامن دن پر مسلمانوں کو مسلسل خوف، نفرت اور تشدد کا سامنا رہا، جبکہ مرکزی حکومت خاموشی اختیار کیے رہی۔