درمیانہ قد اور کام بڑے قد آور… آواز میں گرج، لہجے میں حکم، دلفریب مسکراہٹ کی دروازوں کا کھلاڑی ایک طرف دکھی انسانیت کی خدمت یعنی ڈاکٹر تودوسری طرف، لکھاری یعنی ناول نگار، افسانہ نگار، کہانی نگار، ڈرامہ نگار، اداکار، پروڈیوسر یعنی وہ کونسا کام ہے جو اس بندے جس کا نام ڈاکٹر انور سجاد ہے نے اپنی زندگی میںنہ کیا ہو۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ میڈیکل گھرانے سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان نے تمام زندگی اندرون شہرمیں اپنے کلینک کو اپنا مسکن بنائے رکھا اورجس شعبے میں قدم رکھا اسی کی ذاتی ملازمت کر ڈالی اور اسی کا ہو گیا۔ ڈرامہ لکھا تو کہیں محسوس نہیں ہونے دیا کہ وہ اس ڈرامے کا کردار بھی ہو سکتا ہے۔ اداکاری کی تو اپنی ذات کو کردار میں اس قدر نفی کر دیا کہ وہ اسی کا ہو کر رہ گیا۔ لکھاری ہونے کے ناتے میں اس کا بہت گرویدہ ہوا کہ وہ بہت اچھا لکھتا تھااور ان سے میری ملاقاتوں کا سلسلہ سن 80ء کی دہائی سے شروع ہوا۔ پی ٹی وی سٹوڈیوز میں میری ملاقاتوں کا سلسلہ ان کی زندگی کے کئی سال تک رہا۔ ایک دور تھا جب تقریباً روزانہ کی بنیاد پر کبھی ڈرامے کے سیٹ پرکبھی فلم تو کبھی ان کے کلینک پر ہوتی۔ ان کے سگریٹ پینے کا انداز بھی دوسرے سموکر سے بہت مختلف جیسے سگریٹ کے دھوئیں سے کسی کو تلاش کرنا کسی تصور میں جا کر اپنی کہانی کے کسی کردار کو تصور میں لانابہت بھلالگتا ڈاکٹر انور سجاد نے براڈ کاسٹ انڈسٹری کو 70سال دیئے۔ اگر ان کے اداکئے کاموں اور کرداروں پر لکھوں تو یہ میرے لئے بہت ہی ناممکن ہے یعنی ان کے ستر سالہ کاموں کو نہیں لکھ سکتا۔ سوائے یہ بات لکھ دوں کہ وہ قلم کا دریا نہیں سمندر تھا جس کی سیاہی ایک بہائو میں اس نے وہ کچھ لکھ دیا جو اور کوئی نہ لکھ سکا۔ ڈاکٹر انور سجاد 1935ء میں پیدا ہوئے وہ نامور ڈاکٹر دلاور کے بیٹے تھے۔ بحیثیت رائٹر انہوں نے بڑے خوبصورت ٹی وی سیریل لکھے اور بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ وہ بہت بڑے مصور بھی تھے اور انہوں نے بڑی خوبصورت پینٹنگز بھی بنائیں۔ ان کے یادگار ڈراموں میںنگار خانے، ستار، نیلی نوٹ بک، زرد کونپل یہ ان کے پی ٹی وی کے لئے بنائے گئے اہم ڈرامے تھے۔ 1980ء میں انہوں نے اداکارہ زیب رحمان سے شادی کی۔ زیب رحمان سے ان دنوں کسی نے سوال کیا کہ آپ نے ڈاکٹر انور سجاد کا ہی انتخاب کیوں کیا تو انہوں نے کہا کہ زندہ دل لوگ زندگی میں آ جائیں تو اس سے بڑی زندگی اور کیا ہو سکتی ہے۔ میرے لئے عمر نہیں پروقار شخصیت زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ وہ ایک عام انسان نہیں تھا۔ زندگی کی حقیقتوں کے بہت قریب کہ اس نے اس کو جب تک وہ زندہ رہے خوب جیا اور وہی کام کئے جو ان کے من میں آئے اور پھر تمام کاموں کو خوب نبھایا۔ بعض شخصیات کثیر الجہات ہوتی ہیں۔ ان کے فن کا احاطہ کرنا آسان کام نہیں۔ ڈاکٹر انور سجاد کا شمار بھی انہی لوگوں میں ہوتا تھا۔ کالج کے دنوں میں وہ یونین کے سیکرٹری جنرل اور اس کے علاوہ وہ کالج کے جریدے کے مدیر تھے۔ انہیں اس جریدے کے مدیر ہونے پر ہمیشہ فخر رہا۔ یہ وہ جریدہ تھا جس کے مدیر کرشن چندر اور برصغیر کے کئی نامور ادیب بھی رہے۔ ڈاکٹر انور سجاد نے 1950ء میں لکھنا شروع کیا۔وہ تمغہ حسن کارکردگی کااعزاز بھی پایا۔ اردو کے انتہائی معتبر ادیب، ڈرامہ نگار، نقاد، مصور اور افسانہ نگار ڈاکٹر انور سجاد چوراسی برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ مرحوم انور سجاد نے لاہور کے طبی تدریس کے مشہور ادارے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کیا تھا۔ حکومت پاکستان نے انہیں 1989ء میں جمالیاتی فنون کے شعبے میں ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا تھا۔ وہ ڈاکٹری کے ساتھ صدا کاری اور اداکاری کا بھی شوق رکھتے تھے۔ ان کے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے ڈرامے بھی سامعین اور ناظرین کی توجہ کا مرکز رہتے۔ اس باعث انہیں ایک ہمہ جہت شخصیت قرار دیا جاتا تھا۔ وہ سعادت حسن منٹو سے خاص طور پر متاثر تھے لیکن اْن کی طرح کہانی نہیں بْنتے۔ وہ ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ مزدوروں کے حقوق کے ترجمان رہنے کے علاوہ ترقی پسندانہ نظریات سے بھی وابستہ رہے اور انہیں انتہائی صاحب مطالعہ شخصیت خیال کیا جاتا تھا۔ ان کا علمی قد اْن کی تحریروں سے واضح ہے۔ انور سجاد کو پاکستان کے جمالیاتی فنون کے افق کی انتہائی پرکشش شخصیت قرار دیا جاتا تھا۔ ناقدین کے مطابق انور سجاد کے افسانے ہوں یا ڈرامے، ان میں استعاراتی طرزِ فکر کو انتہائی مہارت اور کامیابی سے استعمال کیا جاتا اور ان کی افسانہ نگاری کو مصنوعی حقیقت پسندی سے دور قرار دیا جاتا ہے۔ ان کی تحریریں بھی ان کے محسوسات کی وسعت کی عکاس اور کثیرالجہت ہوتی تھیں۔ چند ناقدین کے مطابق ڈاکٹر انور سجاد کی تحریروں کو ’ایبسٹریکٹ‘ قرار دے کر رد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ شاعری کی دہلیز پر کھڑی نظر آتی ہیں اور اسی باعث ابہام کا باعث بھی بنتی ہیں۔
اور آخری بات…
ڈاکٹر انور سجاد نے 84سال زندگی کو جیا…اور جتنا بھی جیا یہ ثابت کردیا کہ ڈاکٹر سجاد انور ایک ہی تھا نہ اس جیسا اداکار ،نہ ناول نگار، نہ افسانہ نگار ،نہ ہدایتکار،نہ کہانی نگار اور نہ ڈاکٹر ہمارے سامنے آسکا ،فن ادب کا یہ نام فنی افق پر کل کی طرح آج بھی جگمگارہا ہے گودنیا میں اس کا وجود نہیں مگر اس کے ادا کئے کام ہماری فنی کتاب کا شاندار باب بن کر نسل درنسل پڑھے جائیں گے۔
ڈاکٹر انور سجاد … صدیوں کا مسافر
10:27 AM, 10 Jun, 2025