رواں برس جنوری میں ایک پاکستانی نژاد امریکی باپ نے اپنی چودہ سالہ امریکی بیٹی حرا کو پاکستان کی سیر کا جھانسہ دے کر قتل کر دیا۔ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ بیٹی کو پاکستان لایا گیا۔ ایک باپ کی اپنی بیٹی کو قتل کرنے کی ایسی لرزہ خیز منصوبہ بندی کی کہانی بھی پہلے کبھی نہ سنی۔گھمانے پھرانے کے بہانے پاکستان لایا اور ایک ہفتے تک لاہور کی سیر بھی کرائی۔ بیٹی کو ہنستے مسکراتے، گھومتے پھرتے، زندگی اور امیدوں سے بھرپور دیکھ کر بھی باپ کا دل موم نہ ہوا۔ اس نو عمر لڑکی کا قصور ٹک ٹاک بنانا ٹھہرا۔ ایک باپ نے اپنے ہی آنگن کے مہکتے پھول کو مسل ڈالا۔ بلوچی سٹریٹ میں گھر کے سامنے گلی میں باپ کے سامنے بیٹی کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔ کیونکہ ایسا وہ خود چاہتا تھا۔
14 سالہ لڑکی حرا کو باپ اور ماموں نے صرف ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے پر قتل کر دیا۔ ایک باپ کی غیرت اور انا اپنی بیٹی کی زندگی سے بڑھ کر ہو سکتی ہے؟ اگر باپ کو بیٹی کی ٹک ٹاک ویڈیوز پر اعتراض تھا تو اسے غیرت کے نام پر قتل کر دینا ظلم کے سوا کچھ نہیں تھا۔ 14 سالہ لڑکی ذہنی طور پر کتنی میچور ہو گی، یہ عمر کا وہ حصہ ہے جب بچوں کو والدین کے ساتھ کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ ان کی رہنمائی کر سکیں۔ بعض اوقات بچے ضد کر جاتے ہیں لیکن والدین کو معلوم ہونا چاہیے کہ وقت کے ساتھ بچہ ان کی بات سمجھنے لگے گا، کیونکہ عمر کے بھی تو کچھ تقاضے ہوتے ہیں، دوسری بات آپ امریکا جیسے ملک میں بھی اپنی بچی سے سوچ کی آزادی کو چھین لینا چاہتے ہیں جو وہاں کا معاشرہ اس کو دے رہا ہے۔ اپنی جھوٹی غیرت کی تسکین کے لیے لوگ معصوم جانوں سے کھلواڑ کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ جیسا کہ حرا کے باپ نے کیا۔ اس واقعے کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ 2 جون کو ایک 17 سالہ نوجوان ٹک ٹاکر لڑکی کو اپنے ہی گھر میں قتل کر دیا گیا۔اس بار فرق صرف قاتل کا تھا ، مقتول پھر لڑکی ہی نکلی۔ شہر اقتدار میں خواتین کے خلاف پر تشدد واقعات بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ چوری، ڈکیتی اور قتل ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ قندیل بلوچ ، نور مقدم، حرا اور اب ثناء یوسف۔۔ ان تمام لڑکیوں کو بے دردی سے اپنوں نے ہی قتل کر ڈالا۔ 2020 میں اعدادوشمار کے مطابق دنیا میں 47 ہزار خواتین اور لڑکیوں کو ان کے خاندان کے افراد یا قریبی ساتھیوں نے قتل کیا۔ ہر گیارویں منٹ میں ایک عورت اپنوں ہی کے ہاتھوں ماری جاتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ شرح بڑھتی جا رہی ہے۔ 2023 میں 51 ہزار خواتین اور لڑکیوں کو خاندان یا رشتے داروں نے قتل کر دیا۔ اوسطاً 140 لڑکیاں روزانہ اپنے رشتے داروں کے ہاتھوں قتل ہو رہی ہیں۔ پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں ہر گزرتے سال اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ انتہائی خطرناک رجحان ہے۔ جزا اور سزا کا قانون پاکستان سے ناپید ہو چکا۔ جب قانون کا خوف معاشرے سے ختم ہو جائے تو جرائم میں اضافہ معمولی سی بات ہے۔ ثناء یوسف کا قصور یہ تھا کہ اس نے کسی کی مرضی کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔ پولیس کے مطابق یہ کیس رپیٹیٹو ریجکشن کا تھا۔ ملزم نے ثنا یوسف کو اس لیے قتل کیا کہ وہ بار بار ثنا سے رابطہ کر رہا تھا اور وہ اس کو منع کر رہی تھی۔ اس معاشرے کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ اپنی مرضی سے عورت سانس بھی نہیں لے سکتی۔ اب اس معاشرے میں انکار کا حق بھی عورت سے چھینا جا رہا ہے۔ بس عورت کی ایک ناں اس کی جان لے گئی۔ عورت کی ایک "ناں" نہ جانے کیوں مردوں کی انا کو کچل دیتی ہے۔ مردوں کی اکثریت عورت کی ناں کو ہاں میں بدلنے کے لئے جو بن پڑتا ہے وہ کرتے ہیں۔ ہر حربہ آزماتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ انتہائی پرتشدد راستہ اختیار کر لیتے ہیں جیسا کہ ملزم عمر حیات نے دوستی سے انکار پر کیا۔ ثناء یوسف کا قتل محض ایک واقعہ نہیں بلکہ معاشرے میں پھیلتی ذہنی گراوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ جب 2016 میں سوشل میڈیا سٹار قندیل بلوچ کو غیرت کے نام پر اس کے بھائی نے 26 سال کی عمر میں قتل کر ڈالا۔ یہ واقعہ معاشرے کے ان دوہرے معیاروں کو اجاگر کرتا ہے جہاں عورت اگر سماجی اصولوں کو چیلنج کرے تو اسے کس طرح معاشرے کی بدسلوکی، دھمکیوں اور بالآخر قتل کے ذریعے خاموش کر دیا جاتا ہے۔ غیرت کے نام پر خواتین کا قتل تب تک نہیں رکے گا جب تک کہ نظام عدل ٹھیک نہیں ہو پاتا۔انصاف کا جو حال اس وقت ملک میں ہے وہ عوام سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ہر سال غیرت کے نام پر قتلِ عام ہو رہا ہے۔ پاکستان میں 2023 میں 324 خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوئیں، جبکہ 2024 میں یہ تعداد بڑھ کر 346 ہو گئی۔ پاکستان میں اب عورتوں کے تحفظ کے لئے انتظامی تبدیلی درکار ہے۔ آن لائن ہراسمنٹ کو کنٹرول کرنا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عورت کو محفوظ بنانا بھی ریاست کا ہی کام ہے۔ جب اداروں کے خلاف پوسٹ کرنے پر سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں تو پھر خواتین کے خلاف جو طوفان بدتمیزی سوشل میڈیا پر برپا ہے وہاں یہ ادارے اور قانون حرکت میں کیوں نہیں آتا؟ کب تک ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون رائج رہے گا؟ عام شہری قوانین کے ان ثمرات سے محروم کیوں ہیں جس سے طاقتور لوگ بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں؟ یہاں نظام عدل کے حالات یہ ہیں کہ، ایس ایس ڈی او کی رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں ملک بھر میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 32,617 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں 5339 جنسی زیادتی، 24439 اغوا ، 2238 گھریلو تشدد اور 547 غیرت کے نام پر قتل کے واقعات شامل ہیں۔ ان تشویشناک اعداد و شمار کے باوجود ملک بھر میں جنسی زیادتی اور غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات میں سزا کی شرح صرف 0.5% ہے۔ مقدمات میں سزا کی شرح کا تناسب چیخ چیخ کر نظام عدل کا پردہ چاک کر رہا ہے۔ خواتین کس سے منصفی چاہیں اور کس سے انصاف مانگیں؟ نور مقدم کیس میں اپیل کے فیصلے کا انتظار دن بھر رہا، خدا کا شکر ادا کیا کہ ظالم مجرم کی سزا کو برقرار رکھا گیا۔ اسی طرح ثنا یوسف کے قاتل کو مثالی سزا دے کر باقی ملزمان کی حوصلہ شکنی اور لڑکیوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ اسلام آباد پولیس نے 24 گھنٹوں کے اندر ملزم کو گرفتار کر لیا۔ اب پراسیکیوشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہترین تیاری کے ساتھ عدالتوں میں پیش ہوں اور ملزم کو سخت سے سخت سزا دلوائیں وگرنہ جنگل کے قانون میں کتنی ہی کلیاں کھلنے سے پہلے ہی مرجھا جائیں گی۔
ایک اور کلی مرجھا گئی
10:26 AM, 10 Jun, 2025