اعلیٰ تعلیم کے لیے فنڈنگ: وعدے، مسائل اور پائیدار حل

10:26 AM, 10 Jun, 2025

پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کی جانب سے 2025-26 کے مالی سال میں صوبائی اعلیٰ تعلیم کے بجٹ کو 17 ارب روپے سے بڑھا کر 90 ارب روپے کرنے کا اعلان ایک اہم اور بروقت اقدم ہے جو پاکستان میں مشکلات کا شکار اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی بحالی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ 500 فیصد سے زائد اضافہ پنجاب حکومت کی مضبوط عزم کی علامت ہے اور دیگر صوبوں کے لیے بھی ایک قابل تقلید ماڈل بن سکتا ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک کی سرکاری جامعات شدید مالی بحران کا سامنا کر رہی ہیں، یہ اقدام ایک امید کی کرن بن سکتا ہے بشرطیکہ یہ ایک ہم آہنگ اور منصوبہ بند قومی حکمتِ عملی کا حصہ ہو جس میں وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر تعاون شامل ہو۔
اس وقت پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے منظور شدہ 269 جامعات اور 141 ذیلی کیمپسز موجود ہیں۔ ان میں سے 60 فیصد جامعات سرکاری ہیں جن کے ساتھ 90 سرکاری ذیلی کیمپسز بھی قائم ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان میں سے 80 فیصد سے زائد جامعات صوبائی حکومتوں کے دائرہ کار میں آتی ہیں۔ اس کے باوجود اعلیٰ تعلیم کے لیے بجٹ کی مختص رقم جوں کی توں ہے، خاص طور پر وفاقی سطح پر، جس کی وجہ سے جامعات کے لیے مہنگائی، تنخواہوں میں اضافے اور بڑھتے ہوئے اخراجات کو پورا کرنا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
بین الاقوامی معیار کے مطابق ممالک کو اپنی مجموعی ملکی پیداوار (GDP) کا 4 فیصد تعلیم پر خرچ کرنا چاہیے، جس میں سے کم از کم چوتھائی اعلیٰ تعلیم کیلئے مختص ہونا چاہیے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم پر GDP کا 2 فیصد سے بھی کم خرچ ہو رہا ہے جو کہ تعلیمی، تحقیقی اور سائنسی ترقی میں رکاوٹ کا باعث ہے۔ اگر اس سرمایہ کاری میں اضافہ نہ کیا گیا تو پاکستان کے لیے عالمی علمی معیشت کا مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔
قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد جیسی اعلیٰ درجے کی جامعات کی مالی مشکلات اس بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔ قائداعظم یونیورسٹی اس وقت ایک ارب روپے سے زائد کے سالانہ خسارے کا سامنا کر رہی ہے اور اپنے عملے کو مکمل تنخواہیں اور پنشن دینے سے قاصر ہے۔ بلوچستان کی سب سے بڑی جامعہ، 
جامعہ بلوچستان، بھی اسی طرح کے مالی بحران سے دوچار ہے۔ یہ مثالیں اس بڑے بحران کی علامات ہیں جو ملک بھر کی سرکاری جامعات کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشنز (FAPUASA) نے اپنی حالیہ بیان میں حکومت کی عدم توجہ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 2018 سے اعلیٰ تعلیم کے لیے سالانہ گرانٹ صرف 65 ارب روپے پر جمی ہوئی ہے، جب کہ ان برسوں میں نہ صرف سرکاری جامعات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ طلبہ، اساتذہ اور پروگرامز کی ضروریات بھی کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ 
FAPUASA نے واضح کیا ہے کہ مہنگائی بڑھتے تعلیمی پروگرامز، طلبہ کی تعداد میں اضافہ، اور آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ فنڈنگ کی سطح کو مناسب حد تک بڑھایا جائے۔ جامعات اب صرف زندہ رہنے کے لیے بینک قرضوں کا سہارا لے رہی ہیں اور اس کے باوجود بھی اپنی بنیادی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ 
FAPUASA نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ جس طرح انہوں نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے وہ فوری مداخلت کریں اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے کو بچائیں۔تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری جامعات کے لیے کم از کم 200 ارب روپے کی سالانہ گرانٹ مختص کرے اور مجموعی تعلیمی بجٹ 4سے 5 فیصد تک بڑھائے۔
 صوبوں کی جانب سے اعلیٰ تعلیم کے بحران پر ردعمل کو بھی دور کرنے کی ضرورت ہے۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد تعلیم ایک صوبائی معاملہ بن چکی ہے۔ پنجاب اور سندھ نے صوبائی اعلیٰ تعلیم کمیشن قائم کرنے اور بجٹ میں اضافہ کرنے کے قابلِ تعریف اقدامات کیے ہیں، لیکن خیبر پختونخوا اور بلوچستان اب تک پیچھے ہیں۔ ان دو صوبوں میں خودمختار اور مالی طور پر مستحکم اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی عدم موجودگی جامعات کی ترقی اور مالی پائیداری میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ بجٹ میں اضافے کے ساتھ ساتھ، یہ بھی ضروری ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ایسی قانون سازی کریں جس کے تحت جامعات متبادل آمدنی کے ذرائع تلاش کر سکیں۔ تعلیمی اداروں کو بزنس ماڈلز اپنانے کی ترغیب اور سہولت دی جانی چاہیے، جن میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ، انڈسٹری-اکیڈیمیا تعاون، تحقیق کا تجارتی استعمال، اور ایلومنائی فنڈنگ شامل ہوں۔ یہ اقدامات نہ صرف مالی مدد فراہم کریں گے بلکہ جامعات کو قومی معاشی ترقی میں مزید مؤثر طور پر شامل بھی کریں گے۔
اعلیٰ تعلیم کا بحران صرف مالی وسائل تک محدود نہیں، بلکہ اس کی جڑیں نظام کی اصلاح سے جڑی ہوئی ہیں۔ادارہ جاتی اصلاحات اب ناگزیر ہو چکی ہیں۔ جامعات کو انتظامی اور مالی خودمختاری دینا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے، تاکہ وہ اپنے وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کر سکیں اور جدید خطوط پر تعلیم و تحقیق کو فروغ دے سکیں، ساتھ ہی پالیسی سازوں کو چاہیے کہ وہ شفاف فنڈنگ میکانزم، اثر انگیز کارکردگی جائزہ نظام اور مؤثر احتسابی ڈھانچہ تشکیل دیں،تاکہ وسائل کا درست استعمال، نتائج کی بہتری، اور تعلیم میں معیار یقینی بنایا جا سکے۔ یاد رکھیں، مضبوط ادارے ہی پائیدار تعلیمی نظام کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم نعرے نہیں، اصلاحات پر عمل کریں تاکہ ہماری جامعات صرف بچیں نہیں، بلکہ دنیا میں سر فخر سے بلند کریں۔
پنجاب حکومت کی جانب سے بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے مجوزہ اضافہ بلاشبہ ایک خوش آئند اور مثبت قدم ہے۔ یہ ہمارے تعلیمی اداروں کے لیے امید کی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں صرف انفرادی اقدامات کافی نہیں، ہمیں ایک متحد، مؤثر اور مالی طور پر مستحکم قومی حکمتِ عملی کی اشد ضرورت ہے، ایسی حکمتِ عملی جس میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کی مکمل ہم آہنگی اور سنجیدہ شمولیت شامل ہو۔ ہماری جامعات صرف تعلیمی بحران سے نہیں گزر رہیں بلکہ وجودی بحران کا شکار ہیں۔ یہ صرف یونیورسٹیوں کی بقا نہیں، بلکہ پاکستان کے مستقبل کا سوال ہے۔  پاکستان کی پائیدار ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ہم آج علم، تحقیق اور فکری سرمایہ کاری کو اولین ترجیح دیں۔ وقت آ چکا ہے کہ ہم محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کریں۔ آئیں! مل کر پاکستانی جامعات کو بچائیں اور ایک روشن، خود مختار، اور فکری طور پر مضبوط قوم کی بنیاد رکھیں۔
(مصنف نہ صرف اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں گہرا ادراک رکھتے ہیں، بلکہ انہیں تعلیم اور ترقیاتی امور پر 25 سال سے زائد کا عملی تجربہ حاصل ہے۔)

مزیدخبریں