ایران امریکہ جنگ کا نیا دور

09:35 AM, 11 Jul, 2026


مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کے بادل چھانے کی تیاری کرتے نظر آرہے ہیں۔ ایرانی پاسداران نے عمان کی طرف سے طے کردہ آبی راستے پر گامزن تین آئل ٹینکروں کو نشانہ بنا کر جنگ کا طبل بجایا۔ بات دراصل یہ ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز پر قبضہ کر رکھا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ جو بھی ٹنکر یا جہاز یہاں سے گزرنا چاہے گا وہ ایران کی مرضی سے ہو گا۔ آبنائے ہرمز کے دوسری طرف عمان ہے، اس نے ایک متبادل راستہ دیا ہے کہ ٹینکر وہاں سے گزر سکیں۔ یہ ٹینکر اسی راستے پر گامزن تھے کہ پاسداران نے آگے بڑھ کر ان پر حملہ کر دیا۔ ٹینکرز کویت، سعودی عرب اور ایک اور ملک کے تھے لیکن ان پر جھنڈا قطر کا لہرا رہا تھا گویا پاسداران نے قطری ٹینکرز پر حملہ کیا۔ قطر وہ ملک ہے جس نے ایران، امریکہ جنگ بندی میں ثالث کا کردار ادا کیا اور ایرانی ہمدرد کے طور پر معاملات طے کرانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ ایران کے حملے کو دنیا نے پسند نہیں کیا بہرحال امریکہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اب تک 170 سے زائد ایرانی اہداف پر حملے کئے تباہی مچائی۔ 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ میں ایران خاصی حد تک تباہ و برباد ہو چکا ہے۔ ایران پر 45 سالہ امریکی پابندیوں نے اسکی معیشت کا بیڑہ غرق کر رکھا ہے۔ عام شہری معاشی طور پر پسا ہوا ہے۔ پاسداران کی حرکتوں کے باعث ماحول میں شدید گھٹن پائی جاتی ہے، اسی پائی جانے والی نفرت اور گھٹن کے پس منظر میں امریکہ نے رجیم چینج کا نعرہ لگایا تھا، اسے امید تھی کہ ایرانی عوام اٹھ کھڑے ہوں گے لیکن وہ اٹھے ضرور مگر امریکہ اور اسرائیل کے خلاف متحد ہو گئے۔ خامنہ ای کی شہادت نے بھی انہیں اتحاد کی طرف دھکیلا۔ جنازے کے موقع پر ایرانی قوم متحد نظر آئی، یہی وجہ ہے کہ پاسداران جو پہلے ہی کسی معاہدے کے حق میں نہیں تھے، موقع ملتے ہی جنگ کی طرف چلے گے بلکہ انہوں نے خود جنگ کو آواز دی۔ حقیقت یہ ہے کہ مفاہمتی یادداشت ردی کا ٹکڑا بن چکی ہے۔ فریقین ایک بار پھر امن کی بجائے جنگ کی آبیاری کرنے میں مصروف ہو چکے ہیں۔ صہیونی لابی پہلے ہی امن کے خلاف اور جنگ کی حامی تھی۔ نیتن یاہو چاہتے ہیں کہ جنگ کو فیصلہ کن بنایا جائے، ان کے نزدیک ایران کی مکمل تباہی تک جنگ جاری رہنی چاہئے۔ صہیونی مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی ایسی طاقت کو دیکھنا نہیں چاہتے جو ریاست اسرائیل کے لئے چیلنج ثابت ہو سکے، ان کے عزائم کی راہ میں حائل ہو سکے۔ صہیونیوں کا گول جو پہلے پوشیدہ تھا اب کھل کھل کر سامنے آچکا ہے اور وہ ہے گریٹر اسرائیل کا قیام۔ ریاست اسرائیل کے حکمران عظیم اسرائیل کے طے کردہ نقشے کے مطابق ریاست کا جغرافیہ پھیلاتے چلے جا رہے ہیں۔ عربوں کے علاقوں پر قبضہ کرتے چلے جا رہے ہیں۔ انہوں نے نہ صرف فکری و نظری تحاریک پر ضرب کاری لگائی بلکہ کسی بھی عسکری قوت کا قلع قمع کرنے میں رتی برابر بھی رعایت نہیں کی۔ عربوں کی فکری و نظری تحریک اخوان المسلمون کے مقابلے میں بعث ازم کو فروغ کیا۔ عربوں کی اسلامی حمیت کو پین عرب ازم کے ذریعے ختم کیا۔ اخوان کو بعثی حکمرانوں کے ذریعے ختم کیا پھر مصر، شام، عراق و دیگر عسکری ممالک کو بزور نیوٹرل کیا۔ حماس کے ساتھ اسرائیل نے جو سلوک کیا وہ اسی پالیسی کا حصہ ہے۔ پورے جزیرة العرب او رمشرقِ وسطیٰ میں اب کوئی نظریاتی تحریک موجود نہیں ہے جو گریٹر اسرائیل کے فکری یا الہامی پہلوﺅں کے متعلق بات کر سکے۔ صہیونی ارض فلسطین کو ارض موعود کہتے ہیں جو اللہ نے موسیٰ کو عطا کی تھی۔ یہ بات تورات میں درج ہے لیکن اس کے ساتھ یہ بھی درج ہے کہ موسیٰ نے رب کے ساتھ ایک عہد باندھا تھا۔ اللہ نے موسیٰ کو احکامات دیئے تھے اور زمین انہی احکامات اور عہد کے باعث عطا کی گئی تھی یعنی یہود نے رب سے عہد باندھا کہ وہ اس کی اطاعت کریں گے اور اس کے احکامات کی پابندی کریں گے۔ ارض موعہد، تمکن فی الارض اس عہد کی پاسداری سے مشروط تھا۔ جب تک یہود اس عہد پر کاربند رہے ابتدائی نعمتیں ان پر برستی رہیں۔ یہود کی عظمت عہد سلیمانی میں دیکھی جا سکتی ہے۔ جب ہیکل سلیمانی ان کی روحانی مرکزیت و عظمت کا نشان اور سلیمان علیہ السلام کی حکمرانی یہود کی قوت کا نشان بن گئی تھی۔ یہود اسی دور کو واپس لوٹانا چاہتے ہیں۔ دور سلیمان کی یہودی سلطنت کو گریٹر اسرائیل کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ جب یہودیوں نے اللہ کے احکامات کی نافرمانی کی اور اپنے آخری نبی عیسیٰ ابن مریم کو جھٹلایا تو اللہ نے ان پر ابدی ذلت طاری کر دی۔ 10عیسوی میں ہیکل سلیمانی پیوند خاک ہو گیا اور اب اس بات کو دو ہزار سال ہو چکے ہیں۔ نہ یہودی سلطنت اور نہ ہی ہیکل یہود پر اللہ نے عیسیٰ کی زبانی لعنت کی اور انہیں عذاب الیم کی بشارت دی۔ قرآنی آیات کے مطابق ان پر ابدی ذلت طاری کر دی گئی ہے اور عیسیٰ کے ماننے والوں کو ان پر ابدی غلبہ عطا کیا گیا ہے۔ آج بھی دیکھ لیں اگر امریکہ اسرائیل کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لے تو عرب اسرائیل کو کچل کر رکھ دیں گے لیکن صہیونیوں نے 
امریکہ کے تمام اعصابی مراکز پر قبضہ جما رکھا اور وہ امریکی طاقت کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ایرانی جوہری طاقت اور عسکری بازو کا خاتمہ صہیونیوں کی اولین ترجیح ہے۔ نیتن یاہو نے یہ جنگ شروع کی اور امریکہ کی گود میں ڈال دی۔ خود لبنان و دیگر مقامات پر اپنے اہداف کے حل میں لگ گیا۔ مفاہمتی یادداشت کے نتیجے میں جنگ بندی اس کے مفاد میں نہیں تھی اس لئے یہ جنگ دوبارہ شروع ہو گئی۔ ایران نے جنگ شروع کرنے کا سبب فراہم کیا۔ اب جنگ دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔ معلوم نہیں اس کا انجام کیا ہو گا لیکن ایک بات نظر آرہی ہے کہ اب کی دفعہ یہ راﺅنڈ فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ تباہی بڑی ہو گی جس کا آغاز ہو چکا ہے۔ اس دفعہ نیٹو بھی امریکہ کے ساتھ ہو گا۔ عرب ممالک بھی امریکہ کے ساتھ ہوں گے، ویسے عرب بھی امریکی اتحادی ہیں، اب وہ اپنی بقا اور ایران کی مکمل تباہی کے لئے امریکی اتحادی ہوں گے۔ جنگ ایران اور امریکہ کے درمیان ہے اور ایران امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کی آڑ میں عرب اہداف پر نشانے لگا رہا ہے۔ تیل کی مارکیٹ برباد ہوتی نظر آرہی ہے۔ متحدہ عرب امارات برباد ہو گیا ہے۔ کویت، قطر اور دیگر ممالک جنگ کے خطرات کے باعث بربادی کی طرف بڑھتی نظر آرہی ہے۔ ہم پہلے بھی کچھ بہت خوشحال نہیں تھے اس لئے جنگ نے ہماری بدحالی کو مزید فروغ دیا ہے۔ باقی اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کیا ہونے والا ہے۔

مزیدخبریں