مریم نواز کا قابل قدر فیصلہ

09:32 AM, 11 Jul, 2026

ستائشی کالم لکھنے کا مزاج نہیں، اس لیے ہمیشہ حکمرانوں کی مدح سرائی سے گریز ہی کیا ہے لیکن جب کوئی اچھا کام، اچھی بات یا اچھا فیصلہ کرے تو اسے نہ سراہنا بھی ناانصافی ہے۔ یہی سوچ کر آج کی یہ سطور قلم بند کی جا رہی ہیں کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ایک ایسا فیصلہ سامنے آیا ہے جو بہت بروقت ہے۔ اتنا بروقت کہ اس حوالے سے اپنے گزشتہ ہفتے کے کالم میں باقاعدہ تجویز بھی پیش کی تھی۔
آپ کو یاد ہو گا کہ لاہور کے علاقے کاہنہ میں چند روز قبل ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے کا واقعہ رونما ہوا تھا۔ اس واقعے میں چودہ بچے جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ اس واقعے پر گزشتہ ہفتے "حسرت ان غنچوں پہ ہے" کے عنوان سے کالم لکھا جس میں حکومت سے استدعا کی تھی کہ لوگوں کو اپنی چھتیں پختہ کرنے کے لیے آسان اقساط پر قرض دے۔ اس کالم کا اقتباس بھی پیش خدمت ہے۔
"کیا پھل فروش کو اپنے کاروبار سے اتنی بچت بھی نہیں ہوتی کہ اس کے گھر کا خرچ اچھے طریقے سے چل سکے جبکہ بازار میں تو پھل پہلے ہی اتنے مہنگے فروخت ہوتے ہیں کہ اکثر سننے کو ملتا ہے دکاندار من مانی قیمتوں پر پھل فروخت کرنے لگے ہیں۔ اگر من مانی قیمت پر پھل بیچ کر بھی کسی محنت کش کے گھر کا خرچ نہیں چلتا اور اس کی بیوی کی ٹیوشن کی کمائی ملا کر بھی اتنی بچت نہیں ہو سکتی کہ وہ گھر پر پختہ چھت ڈال سکے تو پھر یہ کام حکومتوں کے سوچنے کا ہے کہ ایسا کیوں ہے اور اس کا حل کیا ہے۔ کیوں لوگوں کے لیے اپنی محنت اور مشقت کی کمائی سے اپنا گھر بنانا اور اسے چلانا مشکل ہو رہا ہے۔ چودہ بچوں کی موت کا دکھ اپنی جگہ لیکن یہ بات بھی دکھ کا باعث ہے کہ ہمارے ذرائع ابلاغ اس غریب محنت کش کو "ملزم" بھی لکھتے رہے حالانکہ اس نے ایسا کوئی جرم نہیں کیا تھا جس کا اس پر الزام لگایا جاتا۔ ایک تو اس کا گھر زمین بوس ہوا، دوسرا اس کی بیوی اور بیٹی بھی زخمی ہوئی، اوپر سے ملزم بھی وہی؟ اس نے تو اپنی چھت پر ٹائلیں لگا کر اسے بہتر بنانے ہی کی کوشش کی تھی، کسی کی جان لینے کی تو نہیں۔ کون چاہے گا کہ اس کے گھر کی چھت گر جائے اور اس کے نیچے دب کر اس کے اپنے اہل خانہ سمیت بہت سی انسانی جانیں خطرے سے دوچار ہوں یا ختم ہو جائیں؟ شاید یہ کام بھی حکومتوں ہی کے کرنے کا ہے کہ جب کوئی شخص گھر تعمیر کرے تو اسے پختہ گھر بنانے کے لیے آسان اقساط پر قرض فراہم کیا جائے جس کا حصول بھی آسان ہو تاکہ چھتیں گرنے سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ باقی نہ رہے۔"
اندازہ نہ تھا کہ یہ مطالبہ اس قدر جلد حقیقت کا روپ دھار لے گا۔ کالم گزشتہ ہفتے کے روز شائع ہوا تھا اور آج بھی ہفتے کا دن ہے۔ یوں اس تحریر کو ابھی صرف آٹھ دن گزرے ہیں جبکہ کالم لکھنے کے ٹھیک پانچ دن بعد بدھ کے روز دل خوش کرنے والی یہ خبر سننے کو مل گئی تھی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صاحبہ نے کاہنہ واقعے کے بعد "اپنا گھر، محفوظ گھر" پروگرام شروع کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اپنی چھت، اپنا گھر پروگرام کا دائرہ کار مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ اپنا گھر محفوظ گھر کے تحت دو نئی کیٹیگریز متعارف کرائی گئی ہیں۔ محفوظ گھر کے تحت کمزور چھتوں والے خستہ حال گھروں کو محفوظ بنا کر رینوویشن کے لیے 5لاکھ روپے دیئے جائیں گے جبکہ نئی بلڈنگ سٹوری یا اضافی فلور بنانے کے لیے سود فری آسان اقساط پر دس لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ جن کے گھر مخدوش یا چھتیں کمزور ہیں، پنجاب حکومت انھیں محفوظ اور بہتر بنانے میں معاونت کرے گی۔ اپنی چھت اپنا گھر اور اس سے منسلک تمام پروگرام پنجاب حکومت کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ مریم نواز نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ غریب پر نہ کوئی بوجھ ڈالیں اور نہ ہی قرض کے حصول کے ضوابط میں کوئی تبدیلی ہو۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے خستہ حال چھتوں والے گھروں کی چھتیں مضبوط کرنے کے لیے قرض کی فراہمی کے فیصلے کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہی ایسے گھروں کو بہتر کرنے کی ہے کیونکہ ہمارے گردوپیش میں بے شمار گھر ایسے ہیں جن کی چھتیں پختہ نہیں ہوتیں اور ہر وقت ان کے زمین بوس ہونے کا خطرہ موجود رہتا ہے لیکن لوگ ان گھروں میں رہنے پر اس لیے موجود ہیں کہ ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں۔ نہ اتنے پیسے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی چھت کو پختہ کر سکیں اور نہ ہی کسی سے یکمشت اتنی بڑی رقم ادھار لی جا سکتی ہے کہ اس سے پختہ چھت ڈالی جا سکے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں ہر سال بارشوں کے موسم میں ایسی روح فرسا خبریں سننے اور پڑھنے کو ملتی ہیں کہ تیز بارش سے گھر کی چھت گر گئی، متعدد افراد لقمہءاجل بن گئے اور کئی زخمی ہو گئے۔ 
لوگوں کو خستہ حال چھتوں کو پختہ کرنے میں مدد دینا حکومت کی سب سے پہلی ترجیح ہونی چاہیے اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے اس ذمہ داری کو شدت سے محسوس کیا ہے۔ اسی لیے خستہ حال چھتوں کو پختہ کرنے کے لیے بھی آسان قرضے جاری کرنے کا مستحسن فیصلہ کیا ہے۔ ایسے فیصلے بہت پہلے ہو جانے چاہئیں تھے لیکن دیر آید درست آید۔ بلکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ایک جامع سروے کیا جائے اور دیکھا جائے کہ کس گھر کی چھت خستہ حال ہے۔ ایسے گھروں کے مالکان کو بغیر مانگے خود جا کر قرضے دینے چاہئیں تاکہ وہ فی الفور اپنی چھتیں پختہ کریں لیکن ایسا شاید ممکن نہ ہو سکے۔ چنانچہ اس سلسلے میں گزارش یہی ہے کہ اس قسم کے قرضے کے حصول کے لیے جو شخص بھی رابطہ کرے، اسے فوری طور پر بغیر سرخ فیتے اور لمبی چوڑی چھان بین کے، صرف چھت کا معائنہ کرنے کے بعد قرضہ جاری کر دیا جائے تاکہ مزید قیمتی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔

مزیدخبریں