تاریخِ انسانی میں انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کا مقصد کبھی کسی قوم، نسل، خاندان یا سلطنت کو برتری دلانا نہیں رہا، بلکہ ہر نبی انسان کو اس کے حقیقی رب سے جوڑنے کے لیے مبعوث ہوا۔ اسی لیے قرآنِ مجید بار بار یہ حقیقت بیان کرتا ہے کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا مرکز صرف ایک تھا: اللہ تعالی کی وحدانیت اور اس کی بندگی۔ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی بعثت بھی اسی عظیم سلسلے کی تکمیل تھی۔ چنانچہ اگر یہ سوال کیا جائے کہ رسول اللہ ﷺ کا اصل نعرہ کیا تھا، آپ ﷺ کی دعوت کا بنیادی عنوان کیا تھا، اور وہ کون سا پیغام تھا جس کے لیے تیرہ برس مکہ میں ظلم و ستم برداشت کیے گئے، ہجرت کی گئی، بدر و احد اور خندق جیسے معرکے لڑے گئے، تو اس کا جواب صرف ایک ہے: لا لہ لا اللہ، محمد رسول اللہ۔ یہی درحقیقت نعرہ رسالت ہے۔قرآنِ مجید اعلان کرتا ہے: اور ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجا، اس کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔ (الانبیا: 25)۔ اس آیت نے تمام انبیائے کرام کی دعوت کو ایک جملے میں سمیٹ دیا ہے۔ گویا نبوت کا آغاز بھی توحید سے ہوا اور اس کی تکمیل بھی توحید ہی پر ہوئی۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی ابدی پیغام کو آخری اور مکمل صورت میں دنیا کے سامنے پیش فرمایا۔سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ اس حقیقت کی مکمل تائید کرتا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے صفا پہاڑی پر قریش کو جمع کیا تو آپ ﷺ نے انہیں کسی سیاسی انقلاب یا معاشی نظام کی طرف نہیں بلایا، بلکہ اللہ تعالی کی وحدانیت کی دعوت دی۔ آپ ﷺ قبائل کے پاس جاتے، حج کے اجتماعات میں تشریف لے جاتے اور فرماتے: کہو: لا لہ لا اللہ، تم کامیاب ہو جاﺅ گے۔ یہی وہ دعوت تھی جس نے مکہ کے مشرکانہ نظام کی بنیادوں کو ہلا دیا، کیونکہ یہ صرف ایک مذہبی جملہ نہیں تھا بلکہ انسان کو ہر قسم کی غیر اللہ کی غلامی سے آزاد کرنے کا اعلان تھا۔اسلام میں توحید اور رسالت ایک دوسرے سے الگ نہیں ہیں۔ لا لہ لا اللہ اللہ تعالی کی وحدانیت کا اعلان ہے، جبکہ محمد رسول اللہ اس حقیقت کی شہادت ہے کہ اللہ تعالی کی رضا، اس کی شریعت اور اس کی ہدایت تک پہنچنے کا واحد معتبر راستہ رسول اللہ ﷺ ہیں۔ اس لیے ایمان صرف اللہ تعالی کو مان لینے کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالی کو اسی طریقے سے ماننے کا نام ہے جو رسول اللہ ﷺ نے سکھایا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے متعدد مقامات پر اللہ تعالی کی اطاعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو لازم قرار دیا ہے۔یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنی ذات کو مقصد نہیں بنایا۔ آپ ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں لوگوں کو اپنی عبادت کی طرف نہیں، بلکہ اللہ تعالی کی عبادت کی طرف بلایا۔ آپ ﷺ کی محبت بھی اسی وقت معتبر ہے جب وہ اطاعت، اتباع اور سنت کی پیروی کی صورت اختیار کرے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت محض جذباتی وابستگی نہ تھی بلکہ عملی وفاداری کا نمونہ تھی۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب عرض کرتے تھے: یا رسول اللہ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں تو یہ محض ادب کا اظہار نہیں تھا بلکہ ایمانِ رسالت کی بلند ترین کیفیت تھی۔ عرب معاشرے میں ماں باپ سے بڑھ کر کوئی تعلق نہ تھا، لیکن صحابہ کرامؓ نے اعلان کر دیا کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت اور اطاعت ہر تعلق سے مقدم ہے۔ یہی وہ ایمان تھا جس نے بلال حبشی کو گرم ریت پر بھی ثابت قدم رکھا، حضرت خبابؓ کو انگاروں پر صبر عطا کیا، حضرت سمیہؓ کو شہادت قبول کرنے کا حوصلہ دیا اور حضرت مصعب بن عمیرؓ کو شاہانہ زندگی چھوڑ کر دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔اسلامی تاریخ کا ہر روشن باب اسی نعر رسالت کی برکت کا آئینہ دار ہے۔ مدینہ کی اسلامی ریاست کی بنیاد کسی نسل یا قبیلے پر نہیں بلکہ ایمان پر رکھی گئی۔ مہاجر اور انصار بھائی بنے، غلام اور آقا ایک صف میں کھڑے ہوئے، عرب و عجم کی تفریق مٹ گئی اور ایک ایسی امت وجود میں آئی جس کی بنیاد رنگ، نسل یا زبان نہیں بلکہ لا لہ لا اللہ، محمد رسول اللہ تھی۔بعد کے ادوار میں امتِ مسلمہ میں مختلف سیاسی، مسلکی اور جذباتی نعرے پیدا ہوئے۔ ان میں سے بعض کی تاریخی حیثیت اپنی جگہ موجود ہے، لیکن انہیں رسول اللہ ﷺ کے اصل پیغام پر غالب نہیں آنا چاہیے۔ اسلام کا مرکز نہ کوئی شخصیت ہے، نہ کوئی جماعت، نہ کوئی خاندان اور نہ کوئی قوم۔ اسلام کا مرکز صرف اللہ تعالیٰ کی توحید اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت ہے۔ جب بھی امت نے اس مرکز کو مضبوطی سے تھاما، اسے عزت، علم، عدل اور قیادت نصیب ہوئی، اور جب اس مرکز سے دوری اختیار کی تو انتشار، تعصب اور کمزوری نے اس کی جگہ لے لی۔آج امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ اسی حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہماری محبتوں، وابستگیوں اور نعروں کا مرکز وہی ہونا چاہیے جو رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرمایا تھا۔ اگر ہمارے اختلافات ہمیں اس بنیادی پیغام سے دور کر دیں تو ہمیں اپنے طرزِ فکر کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے۔ نعرہ وہی زندہ رہتا ہے جو وحی سے جڑا ہو، اور رسول اللہ ﷺ کا نعرہ وحیِ الٰہی سے ماخوذ تھا، اس لیے وہ قیامت تک زندہ رہے گا۔ نعرہ رسالت کی حقانیت صرف مذہبی عقیدے کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک تاریخی حقیقت بھی ہے۔ یہی وہ پیغام تھا جس نے چند برسوں میں ایک منتشر معاشرے کو دنیا کی بہترین امت میں تبدیل کر دیا۔ یہی وہ پیغام تھا جس نے
انسانوں کو ظلم، شرک، طبقاتی تقسیم اور اخلاقی زوال سے نکال کر عدل، مساوات، علم اور تقوی کی راہ پر گامزن کیا۔ تاریخ میں کسی اور نعرے نے اتنی گہری اور دیرپا تبدیلی پیدا نہیں کی جتنی لا لہ لا اللہ، محمد رسول اللہ نے پیدا کی۔اس حقیقت کو بھی ہمیشہ پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ رسول اللہ ﷺ کی حقیقی محبت کا تقاضا صرف زبان سے درود پڑھنا یا جذباتی اظہار کرنا نہیں، بلکہ آپ ﷺ کے لائے ہوئے دین کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کرنا ہے۔ محبتِ رسول ﷺ کی سب سے بڑی دلیل آپ ﷺ کی سنت کی پیروی، آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنانا، آپ ﷺ کے عدل کو قائم کرنا اور آپ ﷺ کے پیغامِ توحید کو دنیا تک پہنچانا ہے۔لہٰذا اگر اسلام کے اصل نعرے، رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے مرکزی عنوان اور ایمان کی بنیادی اساس کو ایک جملے میں بیان کیا جائے تو وہ یہی ہے: لا لہ لا اللہ، محمد رسول اللہ۔ یہی نعر رسالت ہے، یہی اس کی حقیقت ہے، یہی اس کی حقانیت ہے، یہی تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت کا خلاصہ ہے، اور یہی وہ ابدی پیغام ہے جو قیامت تک انسانیت کو روشنی، ہدایت اور نجات کا راستہ دکھاتا رہے گا۔ جب تک امت اس نعرے کو اپنی فکر، کردار اور نظامِ زندگی کا محور بنائے رکھے گی، اس کی وحدت، عزت اور سربلندی برقرار رہے گی، اور جب وہ اس مرکز سے ہٹ جائے گی تو اس کا انتشار بھی ناگزیر ہو جائے گا۔ یہی تاریخ کا سبق ہے، یہی قرآن کا پیغام ہے اور یہی رسالتِ محمدی ﷺ کی حقیقی شناخت ہے۔
نعرہ رسالت کی حقیقت و حقانیت
09:27 AM, 11 Jul, 2026