عزتیں لوٹنے والوں کو نشانِ عبرت بنائیں

09:22 AM, 10 Jul, 2026

پاکستان کے دشمن مختلف حیلوں بہانوں سے پاکستان کو دنیا کی نظروں سے گرانے کے لئے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں لیکن پاکستانی بھی کچھ کم نہیں۔ درجنوں واقعات وقت کی گرد تلے دبے ہیں جن میں پاکستانیوں نے وہ کچھ کر دکھایا جو پاکستان دشمن بھی نہ کر سکے۔
برسوں پہلے کی بات ہے پاکستان کے فٹ بال اور ہاتھ سے بنے قالینوں نے دنیا میں دھوم مچا رکھی تھی جبکہ ہماری ٹیکسٹائل مصنوعات ابھی بہت پیچھے تھیں کیونکہ ہمارے یہاں جدید ترین ٹیکسٹائل مشینری نہ تھی۔ ہم اپنی روٹی ایکسپورٹ کر دیا کرتے تھے۔ اسی زمانے میں پاکستان میں این جی اوز کی آمد شروع ہوئی۔ چند ایک نے تو مثبت کردار ادا کیا لیکن زیادہ تر کے پیچھے کسی نہ کسی ملک کا ایجنڈا تھا۔ پاکستان دشمنوں نے ان این جی اوز کو اپنے مقاصد کے لئے خوب استعمال کیا۔
ایک روز قومی اخبارات میں خبر چھپی کہ لاہور کے نواحی علاقے شاہدرہ میں ایک شخص ایک گدھی کے ساتھ منہ کالا کرتے دیکھا گیا۔ اسے دیکھنے والا ایک تیرہ سالہ بچہ تھا جسے دھمکی دی گئی کہ اگر اس نے اس واقعے کا کسی سے ذکر کیا تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔ اس خبر کے شائع ہوتے ہی ملک بھر میں ہی نہیں دنیا میں ایک طوفان کھڑا ہو گیا۔ یہ بچہ ایک قالینوں کی فیکٹری میں کام کرتا تھا جس شخص پر اس فعل کا الزام لگا وہ صفائیاں پیش کرتا رہا۔ حلف اٹھا کر یقین دلاتا رہا کہ اس نے ایسا کچھ نہیں کیا لیکن اس کی کسی نے نہ سنی، اس کے مقابل ایک مافیا تھا۔ مافیا اس کیس کو اچھالتا رہا۔ ایک این جی او نے اس بچے کی سرپرستی کی پھر وہ معاملہ کہیں پیچھے رہ گیا اور بچے کا قالینوں کی فیکٹری میں کام کرنا جرم بن گیا۔ اس بچے کو عالمی فورسز پر دھوم دھڑکے سے پیش کیا جاتا رہا اور وہ ”چائلڈ لیبر“ پر پاکستان میں ہونے والے ”مظالم“ کی داستانیں سناتا رہا۔ اس بچے کو انٹرنیشنل لیبر فورمز پر لے جانے کے علاوہ یو این او تک لے جایا گیا جہاں اس سے تقریر بھی کرائی گئی۔ چند ماہ کی تخریبی کارروائیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا بھر نے پاکستان کے ہینڈ میڈ قالینوں کا بائیکاٹ کر دیا۔ پاکستان کی قالینوں کی ایکسپورٹ صفر ہو گئی یوں پاکستان کے ہاتھ سے قالینوں کی عالمی مارکیٹ نکل گئی اور سالانہ کئی ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ اس انڈسٹری کی کمر ٹوٹ گئی۔ ہزاروں افراد بیروزگار ہو گئے۔ اس شعبے میں کی گئی سرمایہ کاری ڈوب گئی، بعدازاں اس مافیا نے پاکستانی فٹ بال انڈسٹری کے ساتھ یہی کھیل کھیلا اور جزوی کامیابی حاصل کی۔ دونوں انڈسٹریز کی حفاظت میں اس وقت کی حکومتیں بری طرح ناکام ہو گئیں۔ اس پراپیگنڈے کا توڑ نہ کیا جا سکا۔
لاہور میں وقوع پذیر ہونے والے واقعے کے پیچھے کوئی غیر ملک نہیں کوئی این جی او نہیں لہٰذا اس گروہ کے مجرمانہ فعل کو کوئی اور رنگ دینا اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنا دانشمندی نہیں۔ اس واقعے میں ایک نامور خاندان سے تعلق رکھنے والے اور اس کے ساتھی گدھوں نے دو غیر ملکی خواتین کو پاکستان بلایا، انہیں حبس بے بجا میں رکھا، ان پر تشدد کیا اور ان کی متعدد مرتبہ آبروزیری کی۔ ان افراد کو گدھوں کی فہرست کے علاوہ ایک اور بے غیرت جانورکے نام سے یاد کرنا چاہئے۔ وہی جانور جس کے بارے میں ہمیں بچپن میں بتایا جاتا تھا کہ کسی کو گالی دینا بہت بری بات ہے پھر اگر کوئی بچہ دوسرے کو اس جانور کے نام کی گالی دے گا تو اس کا منہ چالیس دن تک پلید رہے گا بس اسی خیال کے تحت میں نے ان جرائم پیشہ افراد کو گدھا کہا ہے تاکہ میرا منہ پلید نہ ہو جائے۔ اسی خیال کے تحت میں نے ان افراد کو اس پلید جانور کا بھائی یا بچہ نہیں لکھا کہ کہیں میرا قلم بھی پلید نہ ہو جائے۔لاہور میں ہونے والی واردات کا خلاصہ یہ ہے کہ دو غیر ملکی خواتین کو ایک منصوبے کے تحت لاہور بلایا گیا حبس بے جا میں رکھا گیا اور ان کی متعدد افراد نے آبروریزی کی، ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں، ان کی شناخت واضح ہو چکی ہے۔ کرائم سین محفوظ ہو چکا ہے، جن خواتین کے ساتھ جو بھی زیادتی ہوئی انہوں نے اپنے ویڈیو اور تحریری بیان میں تفصیل سے بتا دیا شریک جرم بچے نہیں عاقل و بالغ ہیں۔ تمام تر کوششوں کے باوجود کسی ایک کو بھی نابالغ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ جسے بچانا مقصود ہے اسے وعدہ معاف گواہ بنا کر دیگر کو پھڑکانے کا پروگرام زیرغور ہے۔ ہمارے قانون کے مطابق اٹھارہ برس کی عمر کو پہنچنے والا گاڑی چلانے ، لائسنس حاصل کرنے کے علاوہ زندگی کی گاڑی چلانے کا لائسنس بھی حاصل کر لیتا ہے یعنی وہ شادی کر سکتا ہے۔ یہ اور بات کہ کسی بھی عمر کا کوئی بھی شخص اپنی گاڑی کسی دوسری گاڑی سے ٹکرا سکتا ہے اور اپنی زندگی کی گاڑی کو بھی الٹا سکتا ہے۔
اغوا کاروں اور عزت کے لٹیروں کے گروہ کے ایک فرد کی گاڑی کسی اور شہری کی گاڑی سے جا ٹکرائی اور غیر ملکی خواتین کو ڈرا دھمکا کر پاکستان سے باہر نکالنے کا منصوبہ چوپٹ ہو گیا۔ واقعہ بہت افسوس ناک ہے۔ دنیا بھر میں اسی طرح موضوع گفتگو ہے جس طرح کبھی انسان اور گدھی والا واقعہ موضوع گفتگو تھا اور عالمی میڈیا کی خبروں میں عرصہ دراز تک چھایا رہا۔ پاکستان کی اقتصادی حالت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ ہم ایک ایک ملین ڈالر کے لئے کیا کیا جتن کرتے نظر آتے ہیں۔ کسی برادر ملک سے لئے گئے قرض کی واپسی کا وقت آن پہنچے تو ہماری کوشش ہوتی ہے ہمیں اس قرض کی ادائیگی کے لئے مزید مہلت مل جائے۔ ہم اس کوشش میں بھی رہتے ہیں کہ اسی اثنا میں کہیںاور سے قرض مل جائے تو کسی پہلے قرض یا اس کے سود کی ادائیگی کر دیں۔ ان حالات میں جبکہ ہم غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں یا انہیں بتاتے ہیں کہ پاکستان دریاﺅں، پہاڑوں اور چار موسموں کا ملک ہے۔ ہم انہیں اپنی مہمان نوازی کے قصے بھی خوب سناتے ہیں۔ غیر ملکیوں کا دل لبھانے کیلئے دوپٹہ بدل بہنیں اور پگڑی بدل بھائی بناتے رہے ہیں لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود اب ہمارا اعتبار نہیں رہا۔ غیر ملکی خواتین کے اغوا اور ان کی آبروریزی کے واقعے نے صرف ہمیں دنیا میں رسوا ہی نہیں کیا ہمیں غیر ملکی سرمایہ کاری اور غیر ملکی سیاحوں سے بھی ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ اب عرصہ دراز تک ہم جس بھی بین الاقوامی فورم میں اپنے ملک کی نمائندگی کریں گے، ہماری شناخت میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ یہ اس ملک کے نمائندے ہیں جہاں ان کے اپنے بسنے والوں کے ساتھ ساتھ کسی غیر ملکی کی عزت اور سرمایہ محفوظ نہیں۔
مقام افسوس کہ سفید سروں والے آج میڈیا پر یہ کہتے نظر آئے کہ رضا ڈار انسان ہے، غلطی انسانوں سے ہی ہوتی ہے، اسے معاف کر دینا چاہئے۔ ان دانشوروں سے صرف ایک سوال اگر ان کی بہن بیٹی کے ساتھ یہی کچھ ہوتا، وہ اغوا بھی کی جاتیں اور ان کی عزتیں بھی لوٹی جاتیں تو پھر آپ کا فیصلہ کیا ہوتا؟ جنہوں نے جو کچھ کیا وہ ایک منصوبے کے تحت کیا گیا جرم ہے۔ مجرموں کو کڑی سزا ملنی چاہئے، ورنہ مجرم کسی اور کی عزت لوٹیں گے۔

مزیدخبریں