مودی کے سفارتی دوروں پر عالمی میڈیا کا ملا جلا ردعمل، میزبان ممالک میں محدود کوریج

11:12 AM, 10 Jul, 2026

ممبئی:بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے انڈونیشیا، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے حالیہ دوروں کے بعد مختلف بین الاقوامی اور علاقائی میڈیا رپورٹس میں ان دوروں کی کوریج اور سفارتی نتائج پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بھارتی میڈیا نے مودی کے دوروں کو نمایاں کوریج دی، تاہم میزبان ممالک کے متعدد ذرائع ابلاغ میں ان سرگرمیوں کو محدود اہمیت دی گئی۔ بعض تجزیوں میں کہا گیا کہ انڈونیشیا کے چند میڈیا اداروں نے سفارتی ملاقاتوں کے بجائے مودی کے لباس، گاڑیوں اور دیگر غیر سفارتی پہلوؤں کو زیادہ نمایاں کیا، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے مختلف ویڈیوز گردش کرتی رہیں۔

آسٹریلیا میں دورے کے دوران بعض سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے بھارت کے انسانی حقوق کے ریکارڈ پر تنقید سامنے آئی، جبکہ نیوزی لینڈ میں بھارت کے ساتھ مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے پر بعض سیاسی جماعتوں نے تحفظات اور مخالفت کا اظہار کیا۔

دوسری جانب بھارتی حکومت نے ان دوروں کو دوطرفہ تعلقات کے فروغ، سرمایہ کاری کے مواقع اور علاقائی تعاون کے لیے اہم قرار دیا، تاہم مبصرین کے مطابق ان دوروں کی سفارتی کامیابی اور بین الاقوامی پذیرائی کے حوالے سے مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔

مزیدخبریں