کراچی : کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 سے اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ملنے کے بعد تحقیقات میں کچھ اہم اور حیران کن انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ایس ایس پی ساؤتھ مہزور علی نے بتایا کہ لاش تقریباً چھ ماہ سے زیادہ پرانی لگتی ہے، لیکن حتمی تفصیلات میڈیکل رپورٹ کے بعد ہی سامنے آئیں گی۔
پولیس حکام کے مطابق، حمیرا اصغر کے فلیٹ سے جو کھانے پینے کی اشیاء ملی ہیں، ان پر 2024 کی ایکسپائری تاریخ درج ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہ سامان 2024 کے آخر میں ایکسپائر ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ، اداکارہ کے فون کے ریکارڈ میں بھی آخری کالز اور میسجز 2024 کے ہیں، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ موت کا واقعہ اسی سال پیش آیا ہوگا۔
ایس ایس پی ساؤتھ نے مزید بتایا کہ اداکارہ کے فون میں آخری میسج ایک نجی ٹیکسی ڈرائیور کا تھا، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ ان کے فلیٹ کی بجلی کافی عرصے سے بند تھی۔ اس کے علاوہ، ان کے فلیٹ کے مالک سے آخری رابطہ بھی 2024 میں ہوا تھا۔
پولیس نے میڈیکو لیگل آفیسر کی ابتدائی رپورٹ کا ذکر کیا جس میں کہا گیا کہ لاش ڈی کمپوز ہونے کے آخری مراحل میں ہے اور اس وقت وجہ موت کا تعین کرنا مشکل ہے۔ تاہم، مزید تحقیقات کے لیے سیمپلز لیے گئے ہیں جن سے حقیقت سامنے آنے کی توقع ہے۔
ایس ایچ او فاروق سنجرانی نے کہا کہ لاش کی حالت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک ماہ سے زیادہ پرانی ہو سکتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حمیرا اصغر کا تعلق لاہور سے تھا، اور جب ان کے اہلخانہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تو والد نے بتایا کہ ان کا اپنی بیٹی سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔
آج، اداکارہ کے اہلخانہ لاہور سے کراچی پہنچ کر ان کی میت وصول کریں گے۔
تحقیقات کا عمل جاری
اس وقت پولیس اور میڈیکل ٹیم کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ حمیرا اصغر کی موت کی اصل وجہ کا پتہ چل سکے۔