سہیل وڑائچ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو بغیر لگی لپٹی دل کی بات زبان پر لے آتے ہیں اور ان کا برملا اظہار صرف سچ کو زبان دینا ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں شام کے دھندلکوں میں ان کے گھر پر دوران گفتگو میرے اس سوال پر کہ اخبارات آہستہ آہستہ بندش کی طرف بڑھ رہے ہیں جبکہ اخبارات ہی زندہ معاشروں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تمام اخباری مالکان نے محدود وسائل کے تحت اس کے شعبہ جات کو بھی محدود کر دیا۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ وہ نقصان ہے جس سے آپ کی آنے والی نسلیں ایک بڑے میڈیم سے محروم ہو جائیں گی؟ میرا ان سے یہ بھی سوال تھا کہ ہم کئی سال سے اصل خبر سے محروم ہو گئے اور الیکٹرانک میڈیا کے بعد رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کر دی۔ بغیر تحقیق، بغیر سورس اور بغیر تصدیق کے ہر بندہ خبر دے رہا ہے اور ایک منٹ کے لیے تو کہہ اٹھتے ہیں کہ خبر درست ہے اور اگلے ہی لمحوں میں اس خبر کا حشر نشر کر دیا جاتا ہے اور اس خبر کے کئی دعویدار سوشل میڈیا پر سنی سنائی اور لگی لگائی باتوں کو غلط طریقوں سے آگے پھیلاتے ہیں۔ میرے سوالات کے جواب میں سہیل وڑائچ بولے کہ پہلی بات یہ کہ اخبارات کو اس سطح پر لانے کا الزام صرف اخباری مالکان کو ہی دینا مناسب نہیں بلکہ ہمارا اپنا قصور زیادہ ہے۔ ہم نے کیوں ایسے حالات پیدا ہونے دیئے کہ پرنٹ میڈیم کو بند تو نہیں بہت محدود کر دیا گیا۔ ہمارے ہاں اس دور کو دیکھیں اور یہ کوئی پرانی بات نہیں۔ گزشتہ پندرہ بیس سال میں جو ہوا اس کا تصور کوئی بھی نہیں کر سکتا تھا۔ یہی اخبارات تھے جو حکومتیں توڑتے اور بناتے، انہی اخبارات نے بڑے فوجی اور سویلین ڈکٹیٹرز کو معافیاں مانگنے پر مجبور کیا۔ میں یہ بات مانتا ہوں کہ دور جدید میں پہلے الیکٹرانک اور پھر آج سوشل میڈیا کے پریشر میں اخبارات کا کردار کم ہوا اور اس کی ریڈرشپ پر بھی اثر پڑا ہے لوگوں تک اس کی رسائی اب ممکن نہیں رہی۔ آپ کو بھی یاد ہے کہ ایک فیچر اور انٹرویو کرنے کے لیے کئی کئی دن لگ جاتے مگر آج ہمارا سب سے بڑا نقصان سوشل میڈیا پر بیٹھے ہر بندے نے کیا جو صحافی بن چکا ہے، وہ اپنی طرف سے خبر تو دے رہا ہے مگر خبر کی اہمیت سے واقف نہیں اور یہی سب سے بڑی تباہی ہے۔
سہیل وڑائچ بتا رہے تھے کہ تحقیقی خبر اس لیے آنا بند ہو گئی کہ اب رپورٹر کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ خبر کو تلاش کرنے کے بعد اس کا سچ جھوٹ ثابت کرے اور جس طرح ہمارے دور میں ایک رپورٹر پورے پراسس سے گزر کر رپورٹر بنتا تھا اب اس سیکھنے سکھانے کی روایت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ میں یہ بات آج تسلیم کرتا ہوں کہ مہذب معاشروں میں اخبارات کا بڑا کلیدی کردار ہوتا ہے اور اخبارات ہی صحیح تصویر دکھاتے ہیں۔ اب کچھ حلقوں سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ اخبارات بند ہو جائیں گے ان کے لیے عرض ہے کہ پرنٹ میڈیا کبھی بند نہیں ہو گا۔ آپ سوشل میڈیا کی طرز پر جتنی تبدیلیاں لے آئیں اخبارات کو کسی نہ کسی شکل میں چلتے رہنا ہے یہ اسی طرح زندہ رہیں گے جس طرح آج ہیں البتہ میرا موقف پھر یہی ہے کہ اخبارات کو اس نہج پر لانے میں صحافیوں کا اپنا بڑا ہاتھ ہے۔ اخبار کے مالک نے پیسہ لگانا ہے کمانے کے لیے اور جب آپ اس طرف توجہ ہی نہیں دیں گے اور حالات ایسے پیدا ہو جائیں کہ مالک بھی اس کو یا تو بند کرنے کا سوچے گا یا اس کو اپنے وسائل میں رہتے ہوئے اور محدود کر دے گا۔ یوں بھی آج کے صحافی کا اخبار میں انٹرسٹ ختم ہو گیا ہے اور اس نے یہ سمجھ لیا ہے کہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا ہی اس کی کامیابی ہے اور جب اس طرح کے حالات اور سوچ پیدا ہو جائے تو پھر جو ہو رہا ہے آپ ہی فیصلہ کریں کہ اس میں کتنا قصور اخباری مالکان کا ہے۔ میں کوئی ان کا دفاع نہیں کر رہا بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اب ہر کوئی صحافی بن گیا ہے اور سوشل میڈیا پر آ کر اس نے خود کو بغیر ڈگری کے صحافی کی سند جاری کر دی۔ میرے نزدیک جو بندہ سوشل میڈیا پر ہے وہ آج کے دور کا صحافی ہے۔
سہیل وڑائچ کا سوشل میڈیا کے بارے یہ تاثر بھی ہے کہ میں تو سوشل میڈیا پر ایکٹو بندے کو صحافی سمجھتا ہوں ہاں اس کا معیار کیا ہے، اس پر بڑے سوالات ہیں۔ میں ان لوگوں سے گزارش کروں گا کہ وہ صحافی تو بن گئے مگر جرنلزم کی باقاعدہ تربیت بھی لیں جو ان کے پاس نہیں ہے … سہیل وڑائچ کے اس مؤقف کو کہ سوشل میڈیا پر ہر بندہ صحافی ہے، چند روز قبل میں نے دنیائے صحافت کے بڑے معتبر نام مجیب الرحمن شامی کے سامنے رکھا تھا ان کا مؤقف یہ تھا کہ بغیر صحافت پڑھے صحافت کرنے والوں نے تو صحافت کو تباہ کرنے کی کوشش کی اور یہ وہ صحافی ہیں جو نہ تو کسی کو جوابدہ ہیں نہ ان کی پکڑ ہو سکتی ہے۔ سہیل وڑائچ اور شامی صاحب کے مؤقف آپ کے سامنے ہیں۔ فیصلہ آپ کا کہ آپ ان کی آرا سے متفق ہیں یا نہیں البتہ یہ بات باعث احترام یہ کہہ سکتا ہوں کہ سوشل میڈیا پر ہر بندے یا بندی کو صحافی قرار دینا درست نہیں البتہ ایک آدھ کی بات مانی جا سکتی ہے کہ وہ کسی بھی ایشو پر اچھی تحقیقات کے بعد کوئی نہ کوئی بات ضرور سامنے لے آتے ہیں اور بعض واقعات تو پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔ جھوٹ اور سچ کے امتزاج کے درمیان ملتے نہ ملتے بیانات سے بہت بڑی غلط فہمی کا تاثر ضرور موجود رہتا ہے۔
اور آخری بات … سہیل وڑائچ کا سوشل میڈیا بارے مؤقف اپنی جگہ درست سہی مگر میرے نزدیک اس ملک کے اندر جدید میڈیا کے نام پر سوشل میڈیا کی آڑ میں جو گند پھیلایا گیا جس طرح لوگوں کی عزتوں کو تار تار کیا گیا جس طرح الزامات، ننگ تنگ لباس کی نمائش ہوئی جس طرح گالیوں کی بھرمار اور جس غلیظ زبان کا استعمال ہوا یہ ہماری سوسائٹی کی تصویر کا وہ بھیانک رخ ہے، جس نے انسانیت کو بھی داغدار کر دیا ہے۔ سہیل صاحب میرے نزدیک یہ صحافت نہیں۔ یہ درست ہے کہ اس سوشل میڈیا کے اب کچھ رنگ دوسرے چینلز پر دیکھے جا رہے ہیں۔ یہاں کی رپورٹنگ کا معیار اب وہ نہیں رہا جو کبھی پرنٹ میڈیا کے رپورٹر کی شناخت رہی ہے۔ اس کی خبر میں تحقیق، ریفرنس اور فالواپ ہوتا تھا اب بنی بنائی خبر آ جاتی ہے اس وقت خبر کو تلاش کر کے تراشا جاتا تھا بہرحال اس پر بڑی سیر حاصل گفتگو ہو سکتی ہے۔ یہ سلسلہ چلا ہے تو اب چلتا رہے گا … باقی رہے نام اللہ کا …
سہیل وڑائچ، اخبارات اور سوشل میڈیا
11:55 AM, 10 Jul, 2025