جن شخصیات نے اپنے ذاتی کردار کی بنیاد پر میرے دل ودماغ پریادوں کے گہرے نقوش چھوڑے ہیں ان میں پاکستان کے سابق صدر جناب رفیق تارڑ مرحوم بھی سرفہرست ہیں۔ سیشن جج سے سپریم کورٹ کے جسٹس اور ملک کے سب سے بڑے منصب صدر مملکت تک پہنچنے کے باوجود کمال انکساری، رواداری اور ہرکسی سے شفقت کریزہمدردی رکھنے والے انسان تھے۔ گزشتہ روز سکینہ سومرو نے کہا ’’ انکل، مجھے پاکستان کے پہلے صدر سے موجودہ صدرتک ایک تھیسس لکھنا ہے سب کی خاص باتیں بتائیں، پہلے صدر میجر جنرل سکندر مرزا سے موجودہ صدر آصف علی زرداری تک جو معلومات تھیں اس کی نذر کردیں۔ اور کہا کہ ان تمام صدور میں مجھے سب سے زیادہ متاثر کرنے والی شخصیت جناب رفیق تارڑ مرحوم کی ہے۔ توقع کے مطابق سوال ہوا، اچھا کچھ تفصیل بتائیں۔ یوں جناب رفیق تارڑ مرحوم کی یادوں کے چراغ روشن ہوگئے۔
ان سے پہلا رابطہ جس انداز سے ہوا اسے ’’رابطہ بالجبر‘‘ کہا جاسکتا ہے ہوایوں کہ لاہور میں روزنامہ امت کا بیوروچیف تھا پاکستان کے منتخب صدر رفیق تارڑ فوجی ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے اصرار کے باوجود منصب صدارت سے مستعفیٰ ہونے سے انکار کرنے کے بعد ایوان صدر سے لاہور روانہ ہوئے اس کے تقریباً ڈھائی گھنٹے ’’بخاری صاحب، آپ کے رفیق تارڑ صاحب لاہور پہنچ گئے ہیں۔ ان سے بات چیت ہونی چاہئے‘‘۔ دوپہر ڈھلے تقریباً تین بجے کے جوہرٹاؤن میں واقع ان کی رہائش گاہ پہنچ گیا تاہم اندازہ تھا پہلے سے واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے ملاقات یا بات چیت آسان نہیں ہے تاہم باہر موجود پولیس والوں کے ذریعے پیغام بھجوایا حسب توقع جواب ملا ’’آج ملاقات ممکن نہیں ہے ‘‘ جناب رفیق افغان سے ایک بڑی مدد یہ کہ ان کا فون نمبر مجھے بھیج دیا تھا آدھا گھنٹہ بعد فون کیا وہی جواب ۔ ذہن میں عجیب جذبہ کلبلایا آج ناکامی ہوئی تو سمجھوبرسوں کی صحافت محض جھک ماری ہی رہی، چنانچہ پولیس والوں کی رضامندی سے ان کی ایک خالی چارپائی پر ڈیرہ لگالیا۔ ہر ادھے گھنٹے بعد فون کرتا قدرے جھنجھلاہٹ آمیز جواب ملتابھئی آپ کو بتا دیا گیا ہے ، تاہم رات ساڑھے گیارہ بجے زچ ہوکر پوچھا گیا کیا چاہتے ہیں، عرض کیا ملاقات نہیں صرف چارسوالات کے جواب، لہجے میں قدرے نرمی کا احساس ہوا، کیا سوالات ہیں، پیشگی شکریہ ادا کرتے ہوئے سوالات نوٹ کرائے تقریباً 20منٹ کے بعد ان سوالات کے جواب مل گئے رات بارہ بجے سے زائد وقت ہوگیا تھا موٹرسائیکل جتنی تیز بھگا سکتا تھا آفس پہنچا ان جوابات کو خبرکی صورت میں ڈھالا اور رات ایک بجکر سترہ منٹ پر فیکس کردی۔ صبح روزنامہ امت کی میرے نام سے لیڈکی خبرتھی ’’صدر میں ہوں، رفیق تارڑ‘‘۔
رات ساڑھے گیارہ بجے جانے والی میری کال پر گھرکے اندر کسی نے کہا ’’بہت ڈھیٹ بندہ ہے ‘‘ اس پر تارڑ صاحب نے کہا ’’نہیں، بہت پروفیشنل بندہ ہے پوچھو کیا کہتا ہے، یہ بعد میں پتہ چلا، بہرحال اس مشقت کے نتیجے میں ان سے نیازمندانہ تعلق کی ایسی صورت بنی کہ پندرہ بیس روز بعد پہنچ جاتا اور لان چیئرز پر گپ شپ کا دور چلتا ۔ جناب رفیق تارڑ کا دین سے شغف توتھا ہی وہ ختم نبوت پر گہراایمان رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے تحفظ ختم نبوت کیلئے زندگی وقف کرنے عالم دین سید عطا اللہ شاہ بخاری سے گہری عقیدت تھی اکثر شاہ جی کی ذات، خدمات، خطابات اور بالخصوص سرح آگہی تلاوت زیرگفتگو رہتی میں سمجھتا ہوں نواسے کا نام ’’عطااللہ ‘‘ بھی شاہ جی سے عقیدت کا مظہر ہے۔ ‘‘
پاکستان کے صدور میں جناب رفیق تارڑ کو یہ انفرادیت حاصل ہے وہ پہلے صدر ہیں جنہیں خود کے اس منصب جلیلہ پر فائز ہونے سے چند سکینڈ پہلے بھی علم نہیں تھا۔ انہیں پیغام ملا، وزیراعظم نوازشریف اہم مشورہ کرنا چاہتے ہیں اسلام آباد تشریف لے آئیں صدر کیسے بنے اس سوال کے جواب میں بتایا، حقیقت یہ ہے کہ میاں نوازشریف نے اسلام آباد طلب کرکے جس وقت عہدہ صدارت کی پیشکش کی تو پہلی مرتبہ تو مجھے اس بات کا یقین نہ آیا اور میں نے گمان کیا نوازشریف نے کچھ اور کہاہوگا میں نے ٹھیک سے نہیں سنا، لیکن نوازشریف نے میری پریشانی بھانپتے ہوئے واضح الفاظ میں مجھے سمجھایا کہ انہوں نے کیا کہا ہے اس پر میرے منہ سے یکدم نکلا جناب یہ ملک کا سب سے بڑا اور اہم منصب ہے مجھ سے بہتر لوگ موجود ہیں آپ ان سے رجوع کریں مگر میاں صاحب نے کابینہ سے بھی منظوری لے لی اوریوں میں صدر بن گیا ایک نازک سوال کیا آپ کو اور وزیراعظم کو کارگل کے سلسلے میں اعتماد میں لیا گیا تھا۔
جواب جی نہیں، بالکل نہیں، لیکن جنرل مشرف کہتے ہیں جی ایچ کیو میں باقاعدہ بریفنگ دی گئی تھی جواب قطعاً نہیں، یہ بات ان ہی دنوں میاں صاحب کے علم میں آئی تھی خودمجھ سے انہوں نے کہا دیکھیں جی، انہوں نے جنگ چھیڑ لی ہمیں پوچھا تک نہیں سوال یعنی اتنے اہم معاملے کے بارے میں صدر اور وزیر اعظم کو کچھ بتایا ہی نہیں جواب ’’جی بالکل‘‘ عرض کیا آپ کی بات کی تائید ہوتی ہے میاں نوازشریف کا اس وقت بیان آن ریکارڈ ہے ’’ یہ کرنا تھا تو بتا دیتے میں واجپائی کو نہ بلاتا، دوسرے بیگم کلثوم نواز سے خود مجھ سے یہ بات کی تھی کہ ’’کارگل کا ایڈونچر ہوا تو میں نے بہت سرپٹخاکہ فوراً ٹی وی پر جائیں اور قوم کو اعتماد میں لیں ورنہ سارا ملبہ آپ پر گرے گا، اس پر انہوں نے جواب دیا تم ٹھیک کہہ رہی ہو ملبہ گرنا ہے تو گر جائے میرا ایسا کرنے سے پاک فوج ساری دنیا میں بدنام ہو جائے گی جو مجھے گوارہ نہیں ہے۔
پھر بیگم کلثوم نے بڑے دکھ سے کہا تھا ’’یہ صلہ دیا فوج نے اس کا وقار بچانے کا‘‘ میں نے یہ ساری گفتگو جنرل مشرف کی موجودگی میںہفت روزہ تکبیر میں شائع کردی تھی، جوہرٹاؤن سے وہ جی اوآر ون منتقل ہوگئے تو وہاں ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا، جن میں عرصہ صدارت کے دوران بہت سے رازہائے دوران خانہ سامنے آئے ۔ کیسے پانچ باوردی جرنیلوں کی موجودگی میں استعفیٰ مانگا گیا۔ ریفرنڈم اور اعتماد کے ووٹ کے باوجود جنرل مشرف کس طرح آخیر تک قابض کی حیثیت میں رہا، پاکستان میں عدلیہ کے آئین شکن اقدامات کیسے ان کا ایئرپورٹ انٹری کارڈ روک لیا گیا۔ جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اورجنرل پرویز مشرف کے ادوار میں پاکستان کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصانات کی تفصیل، جنرل مشرف کا جداگانہ طرزانتخاب ختم کرکے مخلوط طرز انتخاب پر 10اکتوبر 2002ء کو الیکشن کرانے کا پس منظر اس میں امریکہ اورقادیانیوں کے اثرورسوخ کی کارفرمائی، اور بہت سے انکشاف آمیز تاریخ ساز واقعات ، سکینہ دم سادھے سنتی رہی پھر کہا ’’انکل میں مجالس سے فارغ ہوجاؤں ایک بار پھر یہ اور دیگر واقعات تفصیل سے بتائیں میرازبردست تھیسس بنے گا۔‘‘ جاتے جاتے اسے بتایا کہ کوئی شخص ایوان صدر فون کرنے اور یہ سننے کو ملے ’’اسلام علیکم میں محمد رفیق تارڑ بات کررہا ہوں، جی فرمائیے ‘‘ سکینہ کے چہرے پر تحیر کے سائے پھیل گئے، واقعی انکل ، ناقابل یقین لگتا ہے ِہاں واقعی، مجھے ان کی ذات سے جتنی آگاہی حاصل ہوئی یقین سے کہی سکتا ہوں وہ ذات میں جٹ مگر صفات میں مرددرویش تھے۔
رفیق تارڑ، مرد درویش!…اسراربخاری
11:54 AM, 10 Jul, 2025