موت کے منارے

11:53 AM, 10 Jul, 2025

سوات کا غم ابھی تازہ تھا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کا دکھ بھی کم نہیں ہوا تھا، پاکپتن کے ہسپتال میں بیس نوزائیدہ بچوں کی ہلاکت اور گوجرانوالہ میں زہریلا پیزا کھانے سے تین بچوں کی موت کا صدمہ اپنی جگہ تھا بلکہ لاہور میں شیر کے شہریوں پر حملے کا خوف بھی ابھی طاری تھا کہ کراچی میں کثیرالمنزلہ عمارت گرنے کا دلخراش واقعہ پیش آ گیا جس نے ستائیس زندگیاں نگل لیں۔ یہ سانحہ دلخراش تو ہے ہی، حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بھی ہے کہ موت کے ایسے منارے صرف کراچی ہی نہیں ملک کے مختلف شہروں میں موجود ہیں جو تعمیراتی قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جا بجا تعمیر کر دیئے گئے ہیں۔
کثیر المنزلہ عمارتیں دنیا بھر میں بنائی جاتی ہیں بلکہ اصل کثیر المنزلہ عمارتیں تو ہوتی ہی ترقی یافتہ ملکوں میں ہیں۔ ہماری کثیر المنزلہ عمارتیں تو یوں سمجھئے کہ ان عمارتوں کے بچے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری عمارتیں کمزور بھی بچوں جیسی ہی ہوتی ہیں۔ بیرونی دنیا کی سیکڑوں منزلہ عمارتوں کے برعکس اپنے یہاں کی چار پانچ منزلہ عمارتیں بھی زیادہ عرصہ اپنے پیروں پر کھڑی نہیں رہ سکتیں بلکہ کچھ ہی عرصے بعد زمین بوس ہو جاتی ہیں اور اپنے ساتھ اپنے مکینوں کی زندگیوں کا بھی خاتمہ کر دیتی ہیں۔ دوسری طرف بیرونی ملکوں کی کثیر المنزلہ عمارتیں ہیں جن کے گرنے کی خبر اول تو کبھی سننے میں نہیں آتی اور اگر کبھی آئے بھی تو از خود گرنے کی نہیں بلکہ کسی تخریب کاری کے نتیجے میں گرنے کی خبر آتی ہے۔
دنیا میں اب تک جو بلند ترین عمارت گرنے کا معلوم واقعہ ہے، وہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کا ہے۔ اس واقعے میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر تباہ ہو گیا تھا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جہاز ٹکرانے سے گرا جبکہ کچھ کہتے ہیں کہ اسے ڈائنا مائیٹ سے گرایا گیا تھا۔ وجہ جو بھی ہو یہ طے ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر خود نہیں گرا 
تھا۔ یہ انفرادیت صرف ہمارے یہاں کی عمارتوں کو حاصل ہے کہ جب جی چاہتا ہے بیٹھ جاتی ہیں۔
خیر اس وقت تو دنیا میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے بھی زیادہ بلند و بالا عمارتیں موجود ہیں جو سب کی سب مشرق وسطیٰ اور ایشیا میں ہیں۔ اس وقت دنیا کی بلند ترین عمارت دبئی کا برج خلیفہ ہے جس کی 163 منزلیں ہیں جبکہ بلندی 900 میٹر سے زیادہ ہے۔ سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیجیے کہ یہ کم و بیش ایک کلو میٹر اونچی عمارت ہے۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر بلند ترین عمارت ملائیشیا کا مردیکا ٹاور ہے جو 118 منزلہ اور680 میٹر بلند ہے۔ یوں یہ عمارت بھی تقریباً پون کلو میٹر اونچی ہے۔ تیسری بلند عمارت چین کا شنگھائی ٹاور ہے جس کی منزلیں 128 اور بلندی 632 میٹر ہے۔ چوتھی بلند ترین عمارت مکہ معظمہ کا ابراج الساعہ ہے۔ 120 منزلہ یہ کلاک ٹاور بھی 601 میٹر بلند ہے یعنی اس کی اونچائی بھی نصف کلو میٹر سے زیادہ بنتی ہے۔ اس کے بعد چین کا فنانس ٹاور اور کوریا کا ورلڈ ٹاور ہے۔ امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی باری ان سب کے بعد آتی ہے اور یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ چین میں اتنی ہی بلند تین چار مزید عمارتیں ہیں۔ یہ عمارتیں اتنی مضبوط ہیں کہ ان کے گرنے کا سوچنا تو دور کی بات، کسی زلزلے یا دھماکے سے ان کے لرزنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ عمارتیں نہ صرف کاروباری مراکز ہیں بلکہ دنیا بھر سے ہر سال ہزاروں سیاح بھی انھیں نیچے سے اوپر تک دیکھنے اور ان کی سب سے بالائی منزل پر کھڑے ہو کر دنیا کا نظارہ کرنے کے لیے جاتے ہیں۔
ایسا نہیں ہے کہ پاکستان میں مضبوط عمارتیں موجود نہیں۔ آج کل ہمارے یہاں بھی بہت جدید قسم کی مضبوط اور بلند و بالا عمارتیں بننے لگی ہیں جو کسی نہ کسی ادارے کی ملکیت ہوتی ہیں لیکن انھی کے درمیان موت کے وہ منارے بھی موجود ہیں جنھیں بلڈر مافیا بناتا ہے۔ یہ مافیا ان کی تعمیر میں قواعدوضوابط کا خیال نہیں رکھتا، ناقص میٹریل استعمال کرتا ہے۔ بنیادیں کمزور بناتا ہے۔ مجوزہ اونچائی سے زیادہ بلندی پر لے جاتا ہے اور نتیجہ چند سال بعد لیاری کی عمارت جیسے واقعے کی صورت میں نکلتا ہے۔ زیادہ پرانی بات نہیں، سپریم کورٹ نے کراچی میں نسلا ٹاور کے نام سے ایک ایسی ہی عمارت گرانے کا بھی حکم دیا تھا جو تعمیراتی قوانین کو پس پشت ڈالتے ہوئے بنائی گئی تھی۔ کراچی شہر میں ایسی نہ جانے کتنی عمارتیں ہیں۔ ایک عمارت تو کچھ روز پہلے بھی گری تھی۔ غنیمت ہے کہ اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔ کراچی ہی پر موقوف نہیں، ملک کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی تعمیراتی قواعد کو روند کر ایسی عمارتیں بنائی جا رہی ہیں۔ یہ عمارتیں بنانے والوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔ چند سال قبل سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے علاقے مارگلہ سے ایسی غیر قانونی تعمیرات ہٹوائی تھیں جن میں بھی کئی ہوٹل اور ریسٹورنٹ شامل تھے۔
اس ساری تفصیل کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جہاں ہمارے یہاں کا بلڈرمافیا اپنی مالی منفعت کے لیے تعمیراتی قواعد و ضوابط کا بالکل خیال نہیں رکھتا اور دھڑا دھڑ غیر معیاری عمارتیں تعمیر کر رہا ہے، وہیں ہمارے ادارے اور ارباب اختیار بھی آنکھیں موندے ہوئے ہیں۔ انھیں ہوش اس وقت ہی آتا ہے جب کوئی بڑا نقصان ہو جائے۔ لیاری کی عمارت کے بارے میں بھی پتا چلا ہے کہ یہاں تین منزلہ عمارت بنانے کی منظوری دی گئی تھی لیکن بعد میں دو منزلوں کا اضافہ کر لیا گیا۔ گویا جس کا جہاں اور جس طرح جی چاہتا ہے الٹی سیدھی عمارت تعمیر کر لیتا ہے جس کا نتیجہ انسانی زندگیوں کے اتلاف کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ موت کے یہ منارے جو حکومتوں اور اداروں کی غفلت کے باعث جا بجا انسانی زندگیوں کو نگلنے کے لیے کھڑے ہیں، انھیں بے رحمی سے گرا دیا جائے اس سے پہلے کہ یہ مزید زندگیوں کے اتلاف کا باعث بنیں لیکن اس سے پہلے ان کے مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے چاہے اس کے لیے فائیو سٹار ہوٹل ہی کیوں نہ کرائے پر لینا پڑیں کیونکہ انسانی جان سے قیمتی کچھ نہیں۔

مزیدخبریں