ہمارے بنیادی مسائل کیا ہیں اس پر ہم کچھ زیادہ سوچنا گوارا نہیں کرتے، شاید ہمیں شہرت زدہ ایشو زیادہ من بھاتے ہیں کیونکہ ان سے میڈیا ہائپ ملتی ہے لوگ واہ واہ کرتے ہیں ورنہ کیا اس بات کا سب کو ادراک نہیں کہ اگر آبادی یونہی بڑھتی رہی اور اس کے بڑھنے کے حوالے سے ہم نے کوئی جامع پالیسی نہیں بنائی تو ایک دن ایسا بھی آسکتا ہے کہ ذرائع پیداوار کم پڑ جائیں اور لوگ ایک ٹکڑا روٹی اور اور ایک بوند پانی کے لئے لڑنا مرنا شروع ہو جائیں گے ویسے لڑائی تو اب بھی ہو رہی ہے مگر ابھی اس کا پھیلائو کم ہے اس لئے ہماری نظریں ادھر نہیں جارہیں یا پھر ہم دیکھنا ہی نہیں چاہتے، قانون سازی پارلیمنٹ کا کام ہے گروہ ،جتھوں اور گروپوں کا نہیں ،لیکن ہماری پارلیمنٹ نے جو کام نہ کرنا ہو اسے عوام کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے کہ عوامی رائے سے یہ کام کیا جائے گا بھائی لوگو عوام نے اپنی رائے دے کر ہی آپ کو اسمبلیوں میں بھیجا ہے اور آپ کا کام ہے ملکی بڑے مسائل جن سے عوامی زندگیاں جڑی ہوئی ہیں اور جنہوں نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے اس پر فوری قانون سازی کی جائے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی ایک بہت بڑا مسئلہ ابھر کر سامنے آرہا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ہماری اسمبلیوں میں پہنچنے والے نابغوں میں اتنی جرأت ہے اور نہ ہی ویژن ہے کہ وہ اس طرح کے دائمی مسائل پر قانون سازی کر سکیں۔ پاکستان میں ساٹھ فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی بسر کرتے ہیں اس میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے جبکہ غربت اور بے روزگاری میں اضافہ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے۔
ایک محتاط انداز کے مطابق ہر سال ہماری آبادی میں تقریباً 60لاکھ سے زائد افراد کا اضافہ ہورہا ہے۔دیہات سے لوگ شہروں کی طرف رخ کررہے ہیں جس سے شہروں کا بوجھ مزید بڑھ رہا ہے۔کھانے والوں کی تعداد زیادہ ہے جس سے آئے روز مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے۔آبادی کے بڑھنے کے مسائل سے شہروں میں رہائش کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور گھروں کی کمی محسوس کی جارہی ہے۔معاشی عدم تحفظ و گرتے ہوئے معاشی حالات و غربت سے تنگ آئے ہوئے افراد میں خود
کشی کے رجحان میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے بڑھتی ہوئی آبادی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے خاص کر پاکستان جیسے ملک میں جہاں معاشی حالات بہتر نہیں ہیں افراد میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے لوگ روٹی کپڑا اور مکان کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ تعلیم اور صحت کی حالت زار کے حوالے سے پاکستان کے بارے میںبین الاقوامی اداروں کا کہنا ہے کہ گھانا اور یوگینڈا کے ساتھ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو صحت و تعلیم کو سب سے زیادہ نظر انداز کررہے ہیں بین الاقوامی اداروں نے سماجی و معاشرتی ترقی مثلاً، صحت، تعلیم اور غربت میں کمی کے عوامل میں بد ترین کارکردگی دکھانے والے گھانا اور یوگینڈا جیسے ممالک کے ساتھ تین پست ترین سطح کے ممالک میں پاکستان کو شامل کیا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ یہ تینوں ممالک سماجی ترقی کی کم ترین سطح والے انہتر ممالک میں بھی سب سے نچلی سطح پر ہیں۔ بین لاقوامی اداروں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں آبادی پر قابو پانے کی جانب بھی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذہبی طور پر سرگرم ممالک ایران، مراکش اور انڈونیشیا نے اپنی آبادی کو قابو کرتے ہوئے صحت و تعلیم جیسے سماجی عوامل میں بہتری پیدا کی ہے، یہاں تک کہ بنگلہ دیش بھی بہتری کی جانب گامزن ہے تو پاکستان ایسا کیوں نہیں کر سکتا؟ اس سوال کا جواب سوچتے ہوئے ہمیں یہ دیکھنا ہو گا کہ ہم کہاں کوتاہی کے مرتکب ہو رہے ہیںجبکہ ہمارے یہاں محکمہ بہبود آبادی جیسے ادارے بھی موجود ہیں اور وہ ملک بھر میں کام بھی کر رہے ہیں ، پھر کمی یا خامی کہاں ہے ؟بتایا جاتا ہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کی غرض سے ہمارے وطن عزیز میں اربوں ڈالر خرچ کئے جا رہے ہیں۔اسکے لئے باقاعدہ وزارت ، ضلعی اور تحصیل کی سطح پر دفاتر کے قیام کے ساتھ ساتھ شہروں اور قصبات میں مراکز قائم کئے گئے ہیں۔عوام کو خاندانی منصوبہ بندی کی ترغیب دینے کے لئے اخبارات اور ٹیلیویژن پر اشتہارات دیئے جاتے ہیں۔ غیر ملکی مالیاتی اداروں سے قرضے لئے جاتے ہیں۔لیکن اس سب کے باوجود مثبت نتائج حاصل نہیں ہو رہے ہیں۔حکومتی اداروں اور مختلف این۔جی۔اوز کی طرف سے آبادی میں اضافہ کو ملکی معیشت کے لئے نقصان دہ اور غربت میں اضافہ کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے ،پاکستان میں خاندانی منصوبہ بندی کی ناکامی کی وجہ اس مسئلے کو سیاسی طور پر سنجیدگی سے نہ لینا، خاندانی منصوبہ بندی کے مراکز میں عملے سمیت دیگر سہولتوں کی خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں غلط تصورات کا رائج ہونا ہے۔ یونیسیف کے سروے کے مطابق ملک میں 30 فیصد خواتین فیملی پلاننگ کے بارے میں جانتی ہیں اور اس کے طریقے بھی اپنانا چاہتی ہیں لیکن ناکامی اس وقت شروع ہوتی ہے کہ جب وہ خاندانی منصوبہ بندی کے سینٹر جاتی ہیں تو وہاں عملے سمیت دیگر سہولتوں کا فقدان ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دیہی علاقوں میں محکمہ خاندانی منصوبہ بندی پروگرام کا یہ حال ہے کہ ان کے موبائل یونٹ پتھروں پر کھڑے ہیں، یہاں جو عملہ تعینات ہے اسے خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے کوئی تربیت نہیں دی گئی، ناکامی کی ایک وجہ فیملی پلاننگ کے بارے میں درست آگہی نہ ہونا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت موثر تشہری مہم کے ذریعے اس کا شعور اجاگر کرے آبادی میں اضافے کے نقصانات سے آگاہ کرنے کے ساتھ کم آبادی کی فوائد بھی بتائے جائیں۔ اگر ہم پاکستان کی آبادی کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو اعداد و شمار بتاتے ہیںکہ1961ء کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی کل آبادی نو کروڑ تینتیس لاکھ اور بیس ہزار تھی، جس میں سے پانچ کروڑ آٹھ لاکھ چالیس ہزار افراد مشرقی پاکستان میں بستے تھے۔ جب کہ باقی افراد مغربی پاکستان میں رہتے تھے۔ جنوری1991ء میں آبادی 11 کروڑ 30 لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ تاہم 9 جولائی 1998ء کو اعلان کردہ مردم شماری کے عبوری نتائج کے مطابق ملک کی آبادی 13 کروڑ5 لاکھ 80 ہزار تھی۔ صوبہ پنجاب کی آبادی 7 کروڑ25 لاکھ، سندھ 2 کروڑ94 لاکھ، سرحد کی۱یک کروڑ55لاکھ اور بلوچستان65 لاکھ 11 ہزار تھی۔ تازہ مردو زن شماری کے بعد تو آبادی بائیس کروڑ تک جا پہنچی ہے اوراس وقت تقریباً پچیس کروڑ کے لگ بھگ آبادی بتائی جاتی ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں آبادی کی رفتار خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے جب کہ اس کے مقابلہ میں معاشی ترقی کی رفتار سست ہے۔ ماہرین کی رائے کے مطابق اگر آبادی میں اسی رفتار سے اضافہ ہوتا رہا تو ملکی وسائل زیادہ آبادی کی کفالت نہ کر سکیں گے۔
آبادی، جب بھوک بڑھے گی تو سوچیں گے؟
11:52 AM, 10 Jul, 2025