اپریل 2022 تحریک عدم اعتماد کے بعد 180دنوں میں کم و بیش 100جلسوں کا ریکارڈ قائم کرنے والی تحریک انصاف نے بانی کے جیل جانے کے بعد کئی بار احتجاج کی کالیںدیں لیکن سب کی سب بری طرح ناکام ہوئیں اب ایسا کیوں ہوا یہ ایک الگ بحث ہے اسے کسی اور موقع کے لئے رہنے دیں لیکن اب بانی تحریک انصاف نے ناکامی کی تمام وجوہات کا سد باب کرتے ہوئے کہا کہ اس بار حکومت کے خلاف تحریک کی قیادت وہ خود جیل سے کریں گے ۔ انھوں نے تحریک کے شروع ہونے کا اعلان بھی کر دیا لیکن بعد میں ایران اسرائیل جنگ کی وجہ سے انھوں نے جب تحریک کو دو ہفتہ کے لئے ملتوی کیا تو ہمیں پورا یقین ہے کہ حکومت وقت نے سکون کا سانس لیا ہو گا ورنہ ایک جانب تحریک اور دوسری جانب محرم الحرام کے ایام عزا تو حکومت کے لئے تو صورت حال سنبھالنا حد درجہ مشکل ہو جانا تھا ۔ کچھ تجربہ کار سیاسی پنڈتوں کو اس تحریک کی کامیابی میں شک تھا کہ اس طرح کی تحریکوں کے لئے تحریک سے پہلے جس طرح کا ماحول بنایا جاتا ہے وہ ملک میں کسی بھی جگہ نظر نہیں آ رہا تھا ۔ ایسی کسی ’’ وڈی سی تحریک ‘‘ کے لئے تو کم از کم مہینہ یا پندرہ بیس دن پہلے سے جماعت کی مرکزی قیادت سے لے کر صوبائی ، ڈویژن اور ضلع تحصیل سطح تک اجلاس ہوتے ہیں اور ایک نہیں بلکہ بار بار ہوتے ہیں اور ہر سطح پر کارکنوں سے رابطے کر کے انھیں متحرک کیا جاتا ہے لیکن آفرین ہے تحریک انصاف کی قیادت پر کہ انھیں اپنے قائدکی بے پناہ مقبولیت پر اس قدر اعتماد تھا کہ انھوں نے اس طرح کے کسی تکلف میں پڑنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ۔ اس لئے کہ انھیں اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ بانی کی کال کے بعد اس طرح کے تکلفات میں پڑنا وقت کا زیاں ہے اور ان کی سوچ سو فیصد درست ثابت ہوئی اور جیسے ہی محترمہ علیمہ خان نے جیل میں بانی سے ملاقات کے بعد باہر آ کر عمران خان کا پیغام دیا کہ بانی نے دس محرم الحرام کے بعد تحریک شروع کرنے کا کہا ہے تو اسی وقت سے کارکنوں کا جوش و خروش دیکھنے کے قابل تھا اور ان کے لئے وقت گذارنا مشکل ہو رہا تھا اور جیسے ہی دس محرم الحرام کے بعد اگلا دن شروع ہوا تو پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی توقع سے زیادہ شدت کے ساتھ تحریک شروع ہو گئی ۔
تحریک جس تیزی اور بڑے پیمانہ پر شروع ہوئی تھی تو یہ حکومت ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے سیاسی پنڈتوں کے لئے بھی حیران کن تھی ۔ بات اگر اسلام آباد اور راولپنڈی کے جڑواں شہروں کی کریں تو وہاں پر درجن بھر سے زیادہ علاقوں اور لاہور میں توکوئی تین درجن سے زیادہ علاقے جن میں خاص طور پر ڈیفنس ، ماڈل ٹائون ، گلبرگ ، اقبال ٹائون اور مسلم ٹائون کے بنے ’’ واٹس ایپ ‘‘ گروپ شامل ہیں ان میں صبح ہوتے ہیں حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی شروع ہو گئی اور سوشل میڈیا کے ہر پلیٹ فارم پر تحریک کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آ رہا تھا ۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس نعرے بازی میں شدت آنا شروع ہو گئی اور دو پہر ہونے تک وہ کارکن جو مختلف وجوہات کے سبب واٹس ایپ گروپوں میں متحرک نظر نہیں آ رہے تھے انھوں نے بھی حکومت مخالف پوسٹوں کا ایسا پتھرائو شروع کیا کہ حکومت کا سائبر کرائم ونگ بالکل بے بس نظر آنا شروع ہو گیا اور اسے سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں ۔ سوشل میڈیا پر اس قدر بڑے پیمانے پر احتجاج کے نتیجہ میں واٹس ایپ ، ایکس اکائونٹ اور فیس بک پر نیٹ ٹریفک جام ہو کر رہ گئی تھی اور نیٹ صارفین کے معمولات زندگی متاثر ہونا شروع ہو گئے تھے لیکن اس حوالے سے حکومت تو کیا سوشل میڈیا چلانے والے بھی بے بس نظر آنا شروع ہو گئے تھے کیونکہ اندرون ملک تو تحریک کا دائرہ سوشل میڈیا پر جس تیزی کے ساتھ پھیل رہا تھا وہ اپنی جگہ پر لیکن بیرون ملک سے اس تحریک میں شامل ہونے والوں نے اس تحریک کو چار چاند لگا دیئے تھے ۔ کارکن فیس بک ، ٹیوٹر پر پیغامات جاری کر رہے تھے اور واٹس ایپ پر پو سٹوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں تھا اور بہت سے جذباتی کارکن تو یقین کریں کہ وائس میسیج کر کے حکومت کے خلاف دل کی بھڑاس نکال رہے تھے ۔
تحریک کا عجیب ہی انداز تھا کہ کارکن پوسٹیں بھی کر رہے تھے اور ایئر کنڈیشنر کمروں اور ڈرائنگ رومز میں بیٹھ کر پوسٹیں کرنے کے ساتھ ساتھ برگر ، شوارموں اور پیزوں سے لطف اندوز بھی ہو رہے تھے ۔ یہ تحریک چونکہ ایک لمبے عرصہ تک بھی چل سکتی ہے لہٰذا بہت سے کارکنوں نے تو ایک پلان کے تحت مختلف گروپ بنا کر ایک دوسرے کی طرف دعوتوں کا اہتمام بھی کر رکھا تھا بلکہ کئی ایک نے تو مری کاغان ناران کے پروگرام بھی بنا رکھے ہیں کہ اس شدید گرمی کے موسم میں ٹھنڈے ٹھار ماحول میں بیٹھ کر سوشل میڈیا پر تحریک چلانے کا مزا ہی کچھ اورہے ۔
قریب تھا کہ حکومت کا دھڑن تختہ ہو جاتا لیکن پھر بانی پی ٹی آئی نے ایک اصولی فیصلہ کیا کہ پاکستان کو انگریزوں سے آزادی چونکہ اگست کے مہینہ میں ملی تھی تو حقیقی آزادی بھی اگست میں ہی لیں گے لہٰذا اب تحریک 5اگست سے شروع ہو گی اور شنید ہے کہ خان صاحب کے دونوں بیٹے بھی شاید لندن سے آ کر اس تحریک میں شامل ہو جائیں ۔ اس تحریک میں کوئی اور جماعت شامل نہیں ہے اور سوشل میڈیا پر اس تحریک سے یقینا ہر کسی کو تحریک انصاف اور بانی پی ٹی آئی کی مقبولیت کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہو گا۔
بڑی سی تحریک
11:51 AM, 10 Jul, 2025