بنام چیف جسٹس صاحب

11:51 AM, 10 Jul, 2025

ملک میں حقیقی ترقی اور خوشحالی اس وقت تک ایک خواب ہی رہے گی جب تک انصاف کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جاتی۔ غربت، بدامنی، تعلیم کی کمی، صحت کی زبوں حالی، سب اسی بنیادی مسئلے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب معاشرہ انصاف سے خالی ہو جائے، تو اس کی جڑیں اندر ہی اندر گلنے لگتی ہیں۔ سوات میں شہریوں کے ڈوبنے کا واقعہ ہو یا پاکپتن میں بیس سے زائد بچوں کی ہسپتال میں موت، کراچی کی مخدوش عمارتوں کا زمین بوس ہونا ہو یا کسی بے گناہ کا جیل کی کوٹھڑی میں سڑنا ۔ یہ سب علامتیں ہیں اس سڑے ہوئے نظام کی جو انصاف دینے سے قاصر ہے، اور کرپشن کو تحفظ دیتا ہے۔
محترم چیف جسٹس، یہ چند سطریں محض گلہ یا شکایت نہیں، بلکہ ایک اجتماعی فریاد ہیں، ایک اجتماعی امید ہیں کہ شاید کہیں کوئی در کھلے۔ آپ سے گزارش ہے کہ جیسے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے میدان میں دشمن کو شکست دے کر تاریخ رقم کی ہے، ویسے ہی آپ عدلیہ کے شعبے میں انقلاب برپا کریں۔ ملک کو کرپشن، ظلم اور ناانصافی کی دلدل سے نکالنے میں آپ کا کردار سب سے بنیادی اور فیصلہ کن ہے۔ آپ وہ ستون ہیں جس پر باقی تمام ادارے ٹکے ہوئے ہیں۔ اگر یہی ستون لرزنے لگے تو پوری عمارت منہدم ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
کہتے ہیں کہ جس گھر میں انصاف نہ ہو، وہاں اتفاق رائے نہیں پنپتا، وہاں محبت مر جاتی ہے، رشتے ٹوٹتے ہیں اور آخرکار وہ گھر صرف اینٹوں اور دیواروں کا مجموعہ رہ جاتا ہے۔ یہی حال اس ملک کا ہوتا جا رہا ہے۔ جب عوام کو یقین ہو جائے کہ ان کے ساتھ ظلم ہو گا اور داد رسی کی کوئی سبیل نہیں تو وہ قانون شکنی کو بقا کی راہ سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ لاعلاج مایوسی آج عام شہری کے دل میں سرایت کر چکی ہے۔ لوگ پولیس سے تو ڈرتے ہیں، مگر عدالت سے نہیں ۔کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ عدالت میں جانا ایک ایسا سفر ہے جس کا نہ اختتام ہے نہ حاصل۔
کچھ مجرم واردات کے فوراً بعد روپوش ہو جاتے ہیں، تین چار سال گزرنے کے بعد عدالت میں پیش ہوتے ہیں تو نظام انہیں گلے لگا لیتا ہے، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اس دوران اصل متاثرہ فریق لوئر کورٹ میں خوار ہوتا رہتا ہے۔ وقت، پیسہ، عزت ، سب لٹ جاتی ہے، اور آخرکار وہ ہار مان کر خاموش ہو جاتا ہے۔ یہ انصاف کی شکست ہے، قانون کی بے توقیری ہے اور عدلیہ کی ناکامی کا اظہار ہے۔
قانون اندھا ہوتا ہے، اسی لیے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی جاتی ہے تاکہ وہ امیر اور غریب میں تمیز نہ کرے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ بہرہ بھی ہے؟ کیا اس کے کان ان مظلوموں کی آہوں کو نہیں سن سکتے جو برسوں سے فیصلے کے انتظار میں اپنی زندگیاں گزار دیتے ہیں؟ دنیا بھر میں انصاف کی فراہمی کے نظام کو بہتر کیا گیا ہے۔ ٹیکنالوجی، شفافیت اور وقت کی پابندی کے ذریعے وہ نظام قائم کیا گیا ہے جس میں انصاف جلدی، سستا اور غیرجانبدار ہوتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں یہ ایک خواب ہی رہا۔
میرے ایک قریبی دوست کی تیرہ سالہ ملازمہ اغوا ہو گئی۔ ان کے پاس پیسہ نہیں، وکیل کی فیس نہیں دے سکتے، پولیس بھی دھیان نہیں دیتی۔ آج وہ انصاف کے حصول کے لیے بھیک مانگنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ وہ عدلیہ کو بددعائیں دے رہے ہیں۔ وہ بچی کہاں گئی، زندہ ہے یا نہیں، کچھ پتہ نہیں۔ اگر عدالت کا دروازہ بھی ان کے لیے بند ہے، تو وہ کہاں جائیں؟ کیا صرف اس لیے کہ وہ غریب ہیں، ان کی فریاد بے وزن ہو گئی؟
ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ قانون بنانے والے ہی ناانصافی کے علمبردار بن چکے ہیں۔ ایک بار ایک محفل میں بیٹھا تھا، میرے دوست کو پولیس کی جانب سے فون آیا کہ ایک کیس میں مطلوب ہو، تھانے آؤ۔ اس نے صاف انکار کر دیا۔ میں نے کہا، نہ گئے تو اشتہاری ہو جاؤ گے۔ وہ بولا، یہی تو میں چاہتا ہوں۔ اس جواب نے میرے دل کو لرزا دیا ۔ قانون کا خوف ختم ہو جانا ایک قومی المیہ ہے اور عدلیہ کی کارکردگی اس کی ایک بنیادی وجہ ہے۔
عدالتوں میں مقدمات کے فیصلے دہائیوں تک لٹکے رہتے ہیں۔ بعض مقدمات ایسے بھی ہیں جو ساٹھ سال سے زائد عرصے سے زیر التوا ہیں۔ کسی کیس میں گواہ وفات پا گیا، کسی میں مدعی، اور کسی میں ملزم۔ لیکن عدالت اب بھی اس پر تاریخیں دیتی ہے۔ یہ تماشا بند ہونا چاہیے۔ کیا عدلیہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کوئی سو موٹو نوٹس ان بے کسوں کی حالت پر بھی لیا جا سکتا ہے؟۔ لوگ یہاں تک کہنے لگے ہیں کہ اگر ممکن ہو تو عدلیہ کو بھی پرائیویٹائز کر دیا جائے، شاید پھر کسی قابل بن جائے۔ یہ آوازیں مایوسی کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں، اور ان کا ذمہ دار وہ نظام ہے جو انصاف کو مراعات یافتہ طبقے کی جاگیر بنا چکا ہے۔ میں خود کئی معزز ججوں سے واقف ہوں، کچھ بہت قابل اور دیانت دار ہیں، مگر بہت سے ایسے بھی ہیں جو اپنے فرائض سے غفلت برتتے ہیں، یا معاملات کو عدالت کی دیواروں کے اندر ہی طے کر لیتے ہیں۔
یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ماتحت عدلیہ کس حال میں ہے۔ وہاں کے عملے سے لے کر فیصلوں تک، کئی چیزیں شک و شبہ میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ رشوت، سفارش، تعلقات یہ سب کچھ عدالتوں کے ماحول کو آلودہ کر چکا ہے۔ انصاف صرف وہی پا سکتا ہے جس کے پاس طاقت یا پیسہ ہو، اور جس کے پاس یہ دونوں نہ ہوں، وہ رْل جاتا ہے۔
محترم چیف جسٹس، میری یہ تحریر آپ تک کسی دروازے، کسی سکرین، کسی قاصد کے ذریعے پہنچے ، میری صرف اتنی گزارش ہے کہ میری امید مرنے نہ دیں۔ یہ سطریں کسی خاص فرد کی حمایت یا مخالفت میں نہیں لکھی گئیں، بلکہ ان لاکھوں بے کسوں کی ترجمانی کر رہی ہیں جو روز عدالتوں کے باہر دھکے کھا رہے ہیں۔ یہ آوازیں بے نوا ہو رہی ہیں، ان کی آہیں نظام کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آتی ہیں۔ آپ ان کا آخری سہارا ہیں۔
خدارا، عدلیہ کو اس قابل بنائیں کہ عام آدمی جب اس کے در پر آئے تو اسے انصاف ملے، اور وقت پر ملے۔ اگر ہم نے یہ موقع گنوا دیا تو اس قوم کا عدالتی نظام صرف تاریخ کی کتابوں میں رہ جائے گا، عوام کے دلوں سے اس کا احترام ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ اور پھر جو بچے گا، وہ ہوگا محض اندھیرا، ناانصافی، اور ایک بے حس معاشرہ۔
ہمیں امید ہے کہ آپ اس سچائی کو پہچانیں گے، اور فیصلہ سازوں کی توجہ مظلوم کی پکار پر مبذول کرائیں گے۔ انصاف صرف لفظوں سے نہیں، عمل سے قائم ہوتا ہے۔ اور یہ عمل آج، ابھی، اور یہیں سے شروع ہونا چاہیے۔

مزیدخبریں