ریڑھ کی ہڈی کو وطن واپسی پر پنشن کیوںنہیں ؟؟؟

11:51 AM, 10 Jul, 2025

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں سمندرپارپاکستانیوں کے بچوں کا 5 فیصد کوٹا مختص کیا جارہا ہے، جامعات میں 10 ہزار سیٹوں میں سے 5 فیصد نشستیں اوورسیز پاکستانیوں کی ہوں گی اور میڈیکل کالجز میں اوور سیزپاکستانیوں کا کوٹا 15 فیصد ہوگا۔ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھاکہ اوورسیز پاکستانیوں کے 3 ہزار بچوں کو میڈیکل کالج میں داخلہ دیا جائے گا، اوورسیز پاکستانیوں کے 5 ہزار بچوں کو ہنر سکھایا جائے گا، اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سرکاری ملازمتوں میں عمرکی حد میں پانچ سال کی چھوٹ ہے یہ بیانات کتنے خوش کن ہیں کانوںکو اچھے لگتے ہیں مگرجب بھی اوورسیز پاکستانی حکومتوںکے اسطرح کے اعلان کردہ بیانات کو سامنے رکھ کر اپنے نونہالوں کیلئے ان کالجوں ، یونیورسٹیوں کا رخ کرتے ہوئے تو پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا لقب پانے والے اوورسیز پاکستانیوںکو پاکستانی تعلیمی ادارے ریڑھ کی ہڈی کے بجائے سونے کا انڈہ دینے والی مشین سمجھتے ہیںاور ان سے داخلے کے وقت لاکھوں روپیہ ــ تعلیمی ادارے کے ’’فنڈ‘ کے نام پرطلب کرتے ہیں اور وزراء اعظم کے خوبصورت اعلانات دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اوورسیز پاکستانیوںکی خوشیوں کی حد صرف وہیںتک ہے کہ انہیں زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ بھیجنے پر معیشت کی ریڑھ ہڈی کہہ دیا جاتا ہے یا انہیں بیرون ملک ’’پاکستان کا سفیر‘‘ کہہ دیا جاتا ہے ۔ مارچ2025 میں سمندرپار پاکستانیوں نے 4.1 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات بھیجیں، بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات ہماری مجموعی ایکسپورٹس سے زیادہ ہیں۔ وزیراعظم کے اعلان کے مطابق زیادہ ترسیلات بھیجنے والے 15 پاکستانیوں کو ایوارڈز دیئے جائیں گے۔ یہ بیان بھی بہت خوبصورت ہے مگر ہوگا ایساہی جیسا سب سے زرمبادلہ بھیجے جانے والے سعودی عرب سے آئے ہوئے پاکستانیوں کے ساتھ ماضی قریب میں اوورسیز کنونشن میں ہوا کہ وہاں انکا ’’ذکر بھی نہیں تھا داستانوں میں‘‘ کچھ واقعی سرمایہ کار گئے تھے جو پاکستان میںبھی سرمایہ کاری کرتے ہیں باقی ایک ہجوم تھا جو اس امید پر وہاںگیا تھا کہ ’’ساڈی میاںصاحب سے ملاقات ہو گی ‘‘ مگر وہ بھی نہ ہوئی ۔ گزشتہ مالی سال کے دوران اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے حکومت نے پاکستان میں ترسیلات زر کا نیا سنگ میل عبورکیا اورسالانہ بنیادوں پر55 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق فروری 2025ء میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر 3 ارب 10 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں۔ مالی سال 25ء کے پہلے8 ماہ جولائی تا فروری کے دوران ترسیلات زر 23 ارب 97 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں ۔ پاکستان کو سب سے زیادہ سعودی عرب سے 74 کروڑ 44 لاکھ ڈالر موصول ہوئے، متحدہ عرب امارات سے 65کروڑ 22 لاکھ ڈالر، برطانیہ سے 50کروڑ اور امریکاسے 30 کروڑ 94 لاکھ ڈالر ملے۔ گزشتہ ماہ مارچ 2025ء میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ترسیلات زر کی مد میں 4.1 ارب ڈالر آئے امیگریشن کے مطابق رواں سال پہلے 3 ماہ میں ایک لاکھ72ہزار 144پاکستانی ملازمت کی غرض سے بیرون ملک گئے سمندر پار پاکستانی تو وطن سے محبت کا اپنا فرض ادا کر رہے ہیں اس تمام تحریر کا مقصد یہ ہے افرادی قوت تو پاکستان برآمد کرتا رہے گا، شاید زرمبادلہ میں اضافہ بھی ہوتا رہے ، مگر کیا کبھی پہلے یا آج کی حکومت کے پاس ان معیشت کی ریڑھ کی ہڈیوں کے لئے بیرون ملک ملازمت ختم ہونے کے گھر لوٹ جانے پر کوئی پالیسی ہے ؟؟؟نہیںایسا کچھ نہیں ،تو کیوں نہ حکومت یہ قدم اٹھانے پر سوچے کہ ملازمت کے خاتمے پر وطن واپس ہونے پر قانونی طور پر زرمبادلہ بھیجنے والوںکے لئے کوئی پنشن سکیم کا اجرا کیا جائے مگر یہ کام اسلئے مشکل ہے کہ نہ ہی حکومت ، نہ ہی بیرون ملک سفارت خانوں ، نہ ہی بیرون ملک قونصل خانوں کے پاس ان ملکوں خاص طور خلیج یا سعودی عرب میں پاکستانیوںکا کوئی DATA نہیں، زرمبادلہ کتنا بھیجا اسکی تفصیل تو بعد کی بات ہے۔ پاکستانی معیشت کا بھٹہ بٹھانے میں اگر یہ کہا جائے کہ ان لوگوںکو دی جانے والی پنشن جو حکومتی سطح پر کام کرنے والے چاہے سابق نوکر شاہی ہو ، مسلح افواج سے تعلق رکھنے والے ہوں، سابق جج صاحبان ہوں، صدور ہوں، وزراء اعظم ہوں انہیں دی جانے والی بعد ا ز ملازمت پنشن کا بڑا ہاتھ ہے ۔ اعداد شمار کے مطابق حکومتی خزانے سے ان لوگوںکی پنشن کی مد میں 1.04ٹریلین ، جو 3.5ملین ڈالر بنتا ہے دی جاتی ہے جبکہ انہوں نے دوران ملازمت ملکی معیشت کو زرمبادلہ دینے کا کوئی کارہائے نمایاں انجام نہیں دیا۔ یہاں تک اراکین قومی اسمبلی بھی ’’سابق ‘‘ہونے کے بعد پنشن کی اس لوٹ مار میں شامل ہیں، ان میں سے بیشتر تو کرپشن کے ذریعے بھی اربوںکے مالک بن جاتے ہیں یہ پیسہ بھی تو ملک کا پیسہ ہوتا ہے اور عام عوام کا ہوتا ہے جس سے وہ بیرون ملک جائیدادوں کے مالک بنے ہوئے ہیں تمام منتخب اراکین قومی اسمبلی (MNAs) اور سینیٹرز کم از کم 1 مدت (جلد تحلیل ہونے کی صورت میں 5 سال یا اس سے بھی کم) مکمل کرنے کے بعد تاحیات پنشن کے حقدار ہیں۔ سابق فوجی حضرات میںشہداء کے گھروں کو نکال کر 662 بلین روپیہ پنشن،شہری پنشن۔ بشمول سابق ججز، سابق بیوروکریٹس اور دیگر وفاقی ملازمین: تقریباً۔ 228 بلین پنشن قومی خزانے سے وصول کرتے ہیں عہدہ کی مناسبت سے انہیں اس پنشن کے 
علاوہ دیگر مراعات بھی جاری رہتی ہیںمثال کے طور پر ،ذاتی ملازم، سکیورٹی سٹاف ، کار، گھر ، اور ایک حد تک پیٹرول بھی شامل ہے پنشن کی اس رقم پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں چونکہ کہا جاتا ہے کہ دوسرے کو ملنے والی مراعات پر نظر نہ رکھو اللہ انہیں اور دے مگر یہاں میرامقصد یہ ہے کہ بیرون ملک ریڑھ کی ہڈی کہلانے والوںکو وطن واپس آنے پر کوئی تو مراعات ملیں اگر dataموجود ہو تو یہ بات پتہ لگ سکتی ہے کہ کس نے کتنا پیسہ بھیجا بیرون ملک ملازمت کے دوران ، پاکستان کیلئے یہ کوئی انہونی یا مشکل بات نہیں ہندوستان، بنگلہ دیش ، فلپائن اور شایدکسی اور ملک میںبھی ہو وطن واپس آنے پر زرمبادلہ بھیجنے کے ریکارڈ کے مطابق مراعات حاصل ہوتی ہیں پاکستان اگر پنشن اور وطن واپسی پر مراعات کا اعلان کرے تو اعتماد اور مستقبل میں ترسیلات زر کو بھی فروغ ملے گا، فلپائن کے پاس اپنے بیرون ملک کارکنوںکی مدد کا سب سے اچھا اور منظم نظام موجود ہے،ہندوستان کے پاس اپنے بیرون ملک مقیم کارکنوں کے لیے سماجی تحفظ اور پنشن سکیمیں ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو خلیجی ممالک یا دیگر ممالک میں کام کررہے ہیں، پاکستان میں کوئی مستحکم حکومت ہو تو پاکستانی تارکین وطن کیلئے سکیموں کا اعلان کوئی مشکل کام نہیں۔

مزیدخبریں