عرفان صدیقی صاحب یادیں اور باتیں ....!

09:04 AM, 10 Jan, 2026

برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کی یادوں اور باتوں کے سلسلے کو آگے لے کر چلتے ہوئے کچھ مزید احباب کا ذکر کرتے ہیں جو ہمارے مشترکہ دوست ہونے کے ساتھ ہماری تاش کھیلنے کی چوکڑی کا بڑا پُر جوش اور سرگرم حصہ ہوا کرتے تھے۔ میں یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارے تاش کھیلنے میں کوئی بازی یا شرط قطعاً نہیں لگتی تھی البتہ سیپ کا بڑا کانٹے دار مقابلہ ہوتا تھا۔ عرفان صاحب مرحوم و مغفور نے سیپ کھیلنا شروع کی تو جلد ہی اس میں مہارت حاصل کر لی ۔ میں جو اُن سے پہلے سیپ کھیلنے کی سُدھ بدھ رکھتا تھا اُن کا مستقل ساتھی ہوا کرتا تھا جبکہ مقابلے میں چار پانچ احباب میں سے جوڑیاں سامنے آتی رہتی تھیں۔جناب محمد افضل فردوسی جن کا تعلق لاہور سے تھا پنجاب یونیورسٹی سے ایم ایڈ کرنے کے بعد کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی میں ایجوکیشن سپرنٹنڈنٹ تعینات ہوئے ۔ لالکڑتی راولپنڈی میں ولو بائی روڈ پر اُن کو محکمہ کی طرف سے ملا ہوا تھا جس میں ہماری تاش کی بازیاں لگا کرتی تھیں۔ فردوسی صاحب کا عرفان صاحب سے دوستی کا تعلق بنا تو میں بھی اس کا ایک حصہ بن گیا جو بتدریج بہت گہرا ہو گیا۔ فردوسی صاحب جو بعد اپنے اہلِ خانہ سمیت امریکہ چلے گئے اور پچھلے تقریباً دو عشروں سے اُن سے کوئی رابط نہیں۔ بہت باغ و بہار شخصیت کے مالک اور دوستوں کے دوست تھے۔ وہ اپنے منصب اور محکمانہ ذمہ داریوں کے لحاظ سے بظاہر ہمارے سینئر اور افسر شمار ہوتے تھے لیکن اُن کے ہمارے ساتھ بالخصوص برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی صاحب کے ساتھ بہت ہی بے تکلفانہ تعلقات تھے ۔ ہمارے لئے ”ٹانگہ“ کا لفظ اُن کا تکیہ کلام تھا عرفان صاحب سے ملتے اور میں ہمراہ نہ ہوتا تو ضرور پوچھتے کہ دوسرا ٹانگہ کدھر ہے۔ مجھ سے ملتے اور عرفان صاحب ہمراہ نہ ہوتے تو پھر ٹانگہ کا لفظ عرفان صاحب کے لئے استعمال ہوتا۔ اُن کی نگرانی میں کینٹ بورڈ کے تعلیمی اداروں کے لئے ”معلّم“ کے نام سے ایک تعلیمی جریدہ بھی شائع ہونا شروع ہوا جو کچھ عرصہ شائع ہوتا رہا۔ عرفان صاحب اس کے ایڈیٹر تھے اور میں ڈپٹی ایڈیٹر کے طور پر اس کے ادارتی عملے میں شامل تھا۔ سی بی پرائمری سکول نیو بلڈنگ لالکڑتی کے بزرگ ہیڈ ماسٹر ایم آڑ خاکی مرحوم بھی اس کے ادارتی عملے میں شامل تھے۔ سچی بات ہے وہ اور اُس دور کے کنٹونمنٹ بورڈ کے تعلیمی اداروں بالخصوص پرائمری اور مڈل سکولوں کے بزرگ ہیڈ ماسٹرز فردوسی صاحب کی ہمارے ساتھ بے تکلفی اور دوستی کو پسند نہیں کرتے تھے لیکن فردوسی صاحب کو اس کی کم ہی پروا تھی۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ 1968 ءمیں سنٹرل ٹریننگ کالج لاہور سے بی ایڈ کرنے کے بعد جنوری 1969 ءمیں پہلے ایف جی ٹیکنیکل ہائی سکول لالکڑتی میں بطور مڈل سکول ٹیچر میری تقرری ہوئی اور بعد میں سی بی سرسید سائنس کالج دی مال راولپنڈی میں بطورِ سینئر ماسٹر میری ترقی میں فردوسی صاحب نے ڈنکے کی چوٹ پر اہم کردار ادا کیا اس کے لئے میں ہمیشہ سے اُن کا ممنون ہی نہیں ہوں بلکہ اُن کو یاد کرتے ہوئے آج بھی میری آنکھیں احسان مندی سے جُھک رہی ہیں۔ 
محترم فردوسی صاحب کا ذکر کچھ طویل ہو رہا ہے ۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ 16 دسمبر 1971ءکو سقوطِ مشرقی پاکستان کی خبر ہم نے اُن کے گھر پر جہاں میں عرفان صاحب، ملک غلام رسول مرحوم اور شاید راجہ اشتیاق مرحوم بھی موجود تھے سُنی تھی۔ 20 دسمبر 1971 ءکو جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے بطور صدرِ مملکت اور سویلین چیف مارشل ایڈمنسٹریٹر اقتدار سنبھالا تو رات گئے تھے طول طویل خطاب کیا تو یہ خطاب بھی ہم نے ٹی وی فردوسی صاحب کے گھر پر ہی دیکھا سُنا۔ میں نے بتایا کہ فردوسی صاحب تاش (سیپ) کھیلنے کے بہت شوقین تھے ۔ ملک غلام رسول مرحوم جو سرسید سکول میں بہت عرصہ میرے رفیقِ کار رہے اوربعد میں میری ہی طرح بطورِ پرنسپل ریٹائر ہوئے اُن کے ساتھی ہوتے تو کبھی راجہ اشتیاق مرحوم جو سی بی پرائمری سکول اولڈ بلڈنگ میں عرفان صاحب کے رفیقِ کار رہے تھے اُن کے ساتھی ہوتے۔ کبھی کبھار راجہ عنایت الرحمان آف دیوی جو بفضلِ تعالیٰ بقیدِ حیات ہیں فردوسی صاحب کے ساتھ جوڑی کا حصہ ہوتے ۔ دونوں راجگان تاش کھیلنے کے دوران بڑے جذباتی پن کا مظاہرہ کرتے اور ہارتے ہوئے اُن کا کچھ بس نہ چلتا تو جھگڑے پر آ جاتے۔ ملک غلام رسول مرحوم اللہ کریم انہیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے بڑے حلیم الطبع اور شریف النفس شخصیت کے مالک تھے ۔ فیصل آباد سے اُن کا تعلق تھا اپنی بیگم سے جو ہمیں بھائیوں کی طرح سمجھتی تھی سے ذرا دبے دبے رہتے تھے۔ دوستوں اور احباب کا کام کرنے میں کبھی عار محسوس نہیں کرتے تھے ۔سٹیٹ بینک آف پاکستان میں تعینات عاصی صاحب جو اسلام آباد میں رہائش پذیر تھے وہ بھی کبھی کبھار تاش کی اس چوکڑی میں شریک ہوتے۔ فردوسی صاحب امریکہ چلے گئے وہاں سے بھی اُن کا آنا کچھ عرصے تک جاری رہا جب وہ کچھ دنوں کے لئے پاکستان آتے تو اُن کی خواہش ہوتی کہ ہم پھر اکٹھے ہوں ، مل کر کھانا کھائیں اور تاش کی بازی بھی ضرور لگائیں۔ عرفان صاحب اس دنیا سے اُٹھ گئے ہیں اللہ کریم اُن کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے، اُن کی محبت تھی کہ میری اُن سے ملاقات ہوتی تو بعض اوقات وہ ان احباب اور ان کے ساتھ گزرے وقت کا بھی ذکر ہو جاتا۔ اب کوئی نہیں ہے کہ میں جس کے ساتھ اِن احباب کے تذکرے کو زندہ کروں یہی ہے کہ میں یہی سطور لکھ کر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ 
آخر میں ، میں عرفان صاحب کی ایک غزل جو میری لکھائی کی میز پر شیشے کے نیچے میری ٹوٹی پھوٹی لکھائی میں پچھلے کئی برسوں سے نامکمل صورت میں کاغذ پر لکھی ہوئی رکھی ہے کے چند اشعارنقل کرنا چاہتا ہوں ۔ یہ اشعار ایسے ہیں کہ جن پر میں روزانہ ہی ایک نگاہ ڈال لیتا ہوں ورنہ عرفان صاحب کی شاعری کے مجموعے ”گریز پا موسموں کی خوشبو“میں کتنی ہی ایک سے ایک بڑھ کر اعلیٰ پائے کی نظمیں اور غزلیں موجود ہیں۔ خیر اشعار ملاحظہ ہوں:۔
عجب فریب مسلسل ہے آدمی کے لئے
 کہ سانس اپنے لئے زندگی کسی کے لئے 
اب اُس کے دوست بہت اُس کے رابطے بھی بہت
 مجھے وہ یاد کرے بھی تو کس کمی کے لئے 
تمام عمر یوں ہی دائروں میں چلتے رہے
 کبھی خود اپنے لئے اور کبھی کسی کے لئے 
کوئی سزا کہ نصیحت ہو سات پُشتوں کو
 صلیب کافی نہیں جُرم ِ آ گہی کے لئے 
عجیب والئی شہر ستم کا فرماں ہے
 کہ چاند قتل کئے جاﺅ چاندنی کے لئے 
(جاری ہے)

مزیدخبریں