پنجاب میں حالیہ برسوں کے دوران جو انتظامی اور سماجی تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں، وہ محض اعلانات تک محدود نہیں رہیں بلکہ عملی سطح پر ان کے اثرات عام شہری کی روزمرہ زندگی میں واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ ان اقدامات میں سب سے نمایاں اور تاریخی قدم صوبے بھر میں ویسٹ مینجمنٹ کے نظام کی مکمل ازسرِ نو تشکیل ہے، جسے بجا طور پر دنیا کے بڑے ترین ویسٹ مینجمنٹ منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ایک ایسا صوبہ جہاں ماضی میں پی ٹی آئی کی حکومت نے عوام کو بدحال کیا ، کروڑوں افراد برسوں تک باقاعدہ کچرا جمع کرنے کے نظام سے محروم رہے، وہاں اب روزانہ پچاس ہزار میٹرک ٹن کچرے کو جمع کر کے عالمی نظام کے تحت ڈمپ کیا جارہا ہے۔ پنجاب کی اس کاوش سے کئی ممالک فائدہ اٹھا رہے ہیں جیسا کہ برمنگھم میں ویسٹ مینجمنٹ کے لئے ستھرا پنجاب اتھارٹی نے برطانوی حکام کی مدد کی۔ یہ پاکستان کے لئے بھی اعزاز کی بات ہے کہ ستھرا پنجاب عالمی سطح پر تسلیم کرلیا گیا ہے۔ پنجاب کی آبادی کا بڑا حصہ دیہی علاقوں میں رہائش پذیر ہے، جہاں صفائی کا تصور عموماً شہری حدود تک محدود سمجھا جاتا تھا۔ ماضی میں دیہات میں کچرا کھلے مقامات، نالوں یا کھیتوں میں پھینک دیا جاتا تھا جس کے نتیجے میں نہ صرف ماحولیاتی آلودگی بڑھتی تھی بلکہ صحت کے سنگین مسائل بھی جنم لیتے تھے۔ ستھرا پنجاب اتھارٹی کے قیام اور ڈیجیٹل ویسٹ کلیکشن سسٹم کے نفاذ نے اس پرانے تصور کو بدل دیا ہے۔ اب دیہی یونین کونسلز بھی اسی طرح مانیٹرنگ ہو رہی ہے جیسے بڑے شہروں میں ہوتی ہے۔ اس منصوبے کی ایک اہم خصوصیت اس کا مکمل طور پر ڈیجیٹل ہونا ہے۔ جدید کنٹرول روم سے صوبے کی ہر یونین کونسل کی ریئل ٹائم نگرانی کی جا رہی ہے۔ گاڑیوں کی نقل و حرکت، عملے کی حاضری، کچرا اٹھانے کے اوقات اور شکایات کے ازالے تک ہر مرحلہ ڈیجیٹل نظام کے تحت ریکارڈ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بڑی ورک فورس کو گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کرانے کی بھی کوششیں ہو رہی ہیں۔ایک لاکھ سے زائد ملازمین اور ہزاروں گاڑیوں پر مشتمل بیڑا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ منصوبہ محض کاغذی کارروائی نہیں بلکہ عملی بنیادوں پرتاریخ رقم کر رہا ہے۔ نجی شعبے کی شمولیت اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری نے اسے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی ایک کامیاب مثال بنا دیا ہے، جس سے روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہوئے اور معیشت کو بھی تقویت ملی۔اس منصوبے کی پائیداری کے لیے حکومت نے گھریلو سطح پر معمولی ماہانہ فیس متعارف کرائی ہے۔اسی طرح ماحولیات کی بہتری پنجاب حکومت کا ایک اہم کارنامہ ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے نہ صرف سموگ جیسے ماحولیاتی مسائل کی نگرانی کی جا رہی ہے بلکہ کلائمیٹ چینج جیسے عوامل پر بھی نظر رکھی جارہی ہے اور ڈیٹا مرتب کیا جارہا ہے۔ یہ جدید طریقے اس بات کا ثبوت ہیں کہ صوبائی حکومت مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھ کر منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ویسٹ ٹو انرجی پاور پلانٹ کا منصوبہ اس پورے ویژن کی تکمیل کی طرف ایک اور قدم ہے۔ کچرے کو بجلی میں تبدیل کرنا نہ صرف ماحول دوست حل ہے بلکہ توانائی کے بحران سے نمٹنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔ بین الاقوامی کمپنیوں کی دلچسپی ظاہر کرتی ہے کہ پنجاب اب سرمایہ کاری کے لیے ایک سنجیدہ اور پ±رکشش مقام بن رہا ہے۔ ویسٹ مینجمنٹ کے ساتھ ساتھ پنجاب میں تجاوزات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی بھی ایک بڑی پیش رفت ہے۔ برسوں سے سڑکوں، فٹ پاتھوں اور سرکاری زمینوں پر قابض مافیا کے خلاف مو¿ثر آپریشن کا فقدان تھا۔ مگر اب پیرا فورس اور ضلعی انتظامیہ کی مدد سے منظم انداز میں تجاوزات کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ٹریفک کی روانی بہتر ہوئی بلکہ شہروں کی مجموعی خوبصورتی اور شہری نظم و ضبط میں بھی بہتری آئی ہے۔ پنجاب حکومت کی ایک اور اہم کاوش سماجی سطح پر شخصی وقار میں اضافہ کرنا بھی ہے۔ سماجی سطح پر ایک اہم قدم امام مسجد صاحبان کے لیے فنڈز کی فراہمی ہے۔ یہ اقدام مذہبی طبقات کو معاشی استحکام دینے کے ساتھ ساتھ سماجی ہم آہنگی کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ امام صاحبان معاشرے میں ایک مو¿ثر کردار ادا کرتے ہیں، اور جب انہیں ریاستی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے تو وہ مثبت پیغام کو زیادہ مو¿ثر انداز میں آگے پہنچا سکتے ہیں۔ امن و امان کے حوالے سے بھی پنجاب میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ جرائم کی شرح میں کمی اس بات کی علامت ہے کہ پولیس اصلاحات اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال نتیجہ خیز ثابت ہو رہا ہے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ستھرا پنجاب منصوبہ محض صفائی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک جامع اصلاحاتی عمل کا حصہ ہے جس میں ماحولیاتی تحفظ، معاشی ترقی، سماجی استحکام اور جدید طرزِ حکمرانی یکجا نظر آتی ہے۔ اگر یہی تسلسل اور شفافیت برقرار رہی تو یہ اقدامات نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک مثالی ماڈل ثابت ہو سکتے ہیں اور فی الوقت یہی لگ رہا ہے کہ یہ مشن تیزی سے اپنے اہداف حاصل کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے اندر سے بھی پنجاب کی ترقی کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ باقی صوبوں سے آنے والے شہری جب پنجاب کی حدود میں داخل ہوتے ہیں تو تعریف کرتے نہیں تھکتے۔ اسی طرح لاہور کو حقیقی معنوں میں اب روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ دوسری جانب اگر خیبر پختونخوا کی بات کریں تو عوام کی بدحالی ، روزگار کے محدود مواقع اور صفائی کی ابتر صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ سہیل آفریدی کے پاس اپنے قائد کورہا کرانے کے سوا کوئی ایجنڈا نہیں۔ ہر تقریر میں ایک کی راگ عوام کو بھی بدظن کر رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کے عوام یقینی طور پر ان کھوکھلے نعروں سے تنگ آچکے ہیں۔ اس صوبے میں ترقی کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے۔
یہ ہے حقیقی ستھرا پنجاب....!!
09:03 AM, 10 Jan, 2026