ہمارے ایک دوست جو لاہور کلکٹریٹ میں کسٹم آپریزر رہے، بتاتے ہیں کہ قبلہ محمد صادق صاحب سے پہلے ایسے ایسے کلکٹرز بھی تعینات رہے جن کا طریقہ کار تھا کہ لاہور کے تمام کسٹم سٹیشن یعنی ائیرپورٹ ٹریفکنگ، اے ایف یو، ڈرائی پورٹ مغل پورہ، این ایل سی ڈرائی پورٹ پریم نگر، ریلوے سٹیشن واہگہ، اینٹی سمگلنگ، جی پی او اور تمام دیگر جگہوں جو اُن کے کنٹرول میں آئیں اس کی سپاہی سے لے کر ایڈیشنل تک کی تعیناتی طے شدہ شرح کے تحت کرتے اور حکمرانوں کی ستم ظریفی یہ رہی کہ ان کو تین ، تین بار سے زیادہ لاہور میں تعینات کیا گیا پھر کچھ رئیس المنافقین بھی آئے مگر جب قبلہ محمد صادق صاحب آئے تو بالکل ہی ناقابل یقین حد تک شفقت، شفافیت، حساسیت، رواداری، انفورسمنٹ اینڈ فیسلیٹیشن جو کسٹم کی روح کے نفاذ کے ساتھ اور کرپشن کا تدارک بھی کیا۔ ٹینٹ ایکسپورٹ کرنے والی کمپنی کا بدنام زمانہ کروڑوں روپے کا فراڈ بھی دراصل انہیں کے دور میں پکڑا گیا اور کارروائی کی گئی مگر اچانک ان کی جگہ جس کو لگایا گیا اس نے اس کارنامے کے سہرے کے لیے اپنا سر آگے دے دیا، اُس کے شدت پسندی، خود ستائشی اور خود نمائشی مزاج ہونے کی وجہ سے اس نے حقیقت سے تجاوز کیا اور کیس کا بیڑا غرق کر دیا۔ قبلہ محمد صادق صاحب مثبت کام کی حوصلہ افزائی اور منفی کام کا تدارک کرتے کچھ اس عاجزی انکساری اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ کہ ایسا کبھی پہلے نہ دیکھا گیا۔ ایک ماتحت نے منو بھائی کے کالم کا ایک اقتباس ان کو سنایا ”کہ ایک مزدور سردیوں کی برسات میں گندم کے وزنی تھیلے اپنی پیٹھ پر رکھ کر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اوپر کی منزل پر ایک ایک کر کے پہنچا رہا تھا۔ گندم کے مالک چودھری نے جیب سے ماچس نکالی جس میں ایک تیلی تھی دونوں موسم کی وجہ سے سیلاب زدہ تھیں ، اندھیرا ہو چکا تھا، شعلہ پکڑتے ہی بجھ گئی تو مزدور کو لمحہ بھر روشنی کے بعد اندھیرا مزید گہرا لگا۔ مزدور نے بے اختیارکہا چودھری جی تسی تے ساڈا ہنیرا وی گوایا اے۔ محترمہ بے نظیر کا دور ضیاءکے ظالمانہ دور کے بعد صرف 20ماہ کے لئے آیا تھا جس پر منو بھائی نے لکھا کہ ہمیں تو ظلمت میں رہنے کی عادت پڑ چکی تھی۔ آپ کے بیس ماہ کی روشنی نے ہمارا اندھیرا بھی گنوا دیا۔ یہی مراد قبلہ محمد صادق صاحب کے ماتحت افسر کی تھی کہ اس کو منافق، فاسق، بدعنوان، ظالم، انسانیت سے عاری کلکٹرز کسٹم کے ماتحت کام یعنی سرکاری غلامی کرنے کی عادت پڑ چکی تھی۔ آپ کی آمد نے جو اجالا دیا وہ بعد میں آنے والوں نے بھیانک اندھیرے میں بدل دیا۔ دراصل عاجزی، نرمی، دیانت، امانت، شرافت، صداقت، حلیمی، علم و ادب، قانون کی حکمرانی، اپنی ذات کی نفی، عدم خوشامد ، عدم خود ستائشی کیا کیا کمالات، قبلہ کی ایک شخصیت میں دیکھ کر ماتحت پیٹ بھر کا سانس لینے لگے۔ رواداری، عزتِ نفس کو انجوائے کرنے لگے۔ گویا ظلمتوں کے دور کے تسلسل میں وقفہ، قبلہ محمد صادق صاحب کی ذات سُکھ کی گھڑی ثابت ہوئی۔
قبلہ محمد صادق صاحب کے ہاں غیبت و خوشامد کا شائبہ تک نہیں۔ قبلہ کی حقیقت پر مبنی کوئی ستائش کر دے تو ان کی جیسے سانس رک گئی ہو جبکہ ایسے ایسے زمانہ باز شہرت یافتہ بھی دیکھے کہ ستائش، خوشامد تعریف بند ہو تو اُن کی سانس رک جائے۔ قبلہ محمد صادق خان تنولی صاحب کے سامنے غیبت یا کسی کی عیب جوئی جو حقیقت بھی ہو کوئی بھولے سے بھی کر دے تو جناب محمد صادق صاحب کو جیسے اُبکائی آنے لگتی اور فوراً منع کر دیتے۔ میری رائے میں جناب محمد صادق صاحب اپنے نام کی مکمل تشریح ہیں۔
قبلہ جناب محمد صادق خان صاحب ایسی نہایت ہی روح پرور ہستی ہیں جنہیں انسانیت اور دین کی تبلیغ کے لیے کبھی زبان کا سہارا نہیں لینا پڑا، جن کی شخصیت وذات خود ایک درسگاہ ہے۔ اللہ سلامت اور باوقار رکھے دلوں کو روشن کرنے والی، باوقار مخلص اور باکمال ہستی کو! انسان تو انسان پتوں، بوٹوں، پودوں، جانوروں، پرندوں سے بھی محبت رکھتے ہیں۔
آپ کے روحانی اوصاف اور دل نشین انداز ہر ملاقات کو یادگار بنا دیتے ہیں۔ قبلہ کو متقی اور عظیم المرتبت نظر آنے کے لیے کسی بناوٹ یا اہتمام کی ضرورت نہیں آپ کی سادہ و پر نور شخصیت ہی آپ کے رتبے کی گواہی دیتی ہے۔
دعا ہے کہ رب کریم قبلہ کے علم و عرفان اور بندگی میں برکت عطا فرمائے، آپ کے دل کی ہر تمنا کو شرف قبولیت بخشے ، اور آپ واہل خانہ کو ہمیشہ اپنی رحمت و عنایت کے سائے میں رکھے۔ ایک شخصیت، ایک آفیسر ہی نہیں ایک عہد ہیں۔
ایک دفعہ قبلہ محمد صادق صاحب کے ایک ایڈیشنل کلکٹر نے ان سے کہا کہ ملتان میں میرے باغ کا فلاں پھل بہت نایاب اور دنیا میں پسندیدہ ہے۔ قبلہ نے کہا کہ جب میری مدت ملازمت ختم ہو گی تو ضرور لوں گا۔ اسی طرح ایک بار محترمہ طیبہ کیانی صاحبہ کے پاس ان کے دفتر میں چار کولیگز آ گئے ان کی مہمان نوازی کے لیے چائے کا کہا گیا جونیئر آفیسر نے پانچ برگر بھیج دئیے، ایک برگر واپس آ گیا کیونکہ کیانی صاحبہ نے وہ برگر نہیں کھایا تھا کہ وہ کسی کولیگ سے سادہ پانی پینا بھی جائز نہیں سمجھتیں۔ اور بہت سے واقعات ہیں جو آتے رہیں گے یہ اس محکمہ کی بات ہے جس کا اپریزر اور ایگزامینیر کراچی میں پانچ لاکھ سے کم کی دیہاڑی لگے تو سمجھتا ہے آج مندہ ہے۔ مجھے ایک تحریر ودیعت ہوئی، جس کو کتاب کی شکل دی۔ 2017-18 میں یہ کتاب مکمل ہو گئی اور خواہش تھی کہ آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر انتساب کی صورت میں لکھی گئی کتاب کی اشاعت کا وسیلہ کسی طریقہ سے انتہائی موزوں شخصیت ہو۔ اس کا حل خدا تعالیٰ نے یوں نکالا کہ محترمہ طیبہ کیانی اور قبلہ محمد صادق صاحب نے جو ہائی کورٹس کے محکمہ کی طرف سے مقدمات دئیے، ان کی کل فیس سے میں نے کتاب ”میں اور میری روح“ شائع کرا دی۔ یہ کتاب میں ان دونوں شخصیات کے نام کرتا ہوں۔ قبلہ محمد صادق اور محترمہ طیبہ کیانی کے۔ آج اسی کالم کی اشاعت میں لکھ رہا ہوں کہ میں محکمہ کسٹم کے پینل سے بطور وکیل استعفیٰ دے رہا ہوں، جس کی وجوہات استعفیٰ میں لکھی جا چکی ہیں۔ محترمہ طیبہ کیانی جو میری بہن ہیں اور قبلہ محمد صادق صاحب جن کے حلقہ ارادت میں شمار ہونا میرا فخر ہے، میں ان کے نام کرتا ہوں۔ یہ دونوں افسران کسی پر احسان کریں تو ایسے لگتا ہے یہ خود اُس کے احسان مند ہو رہے ہیں۔ کتابوں، افسانوں اور قرون اولیٰ میں پائے جانے والے یہ عظیم لوگ آج میرے کالم کا موضوع رہے۔ اللہ کریم میری کوتاہیوں سے درگزر فرمائے اور ان کو ہمیشہ باوقار رکھے، کبھی تنہا چھوڑے نہ بھلائے۔
قبلہ محمد صادق کسٹم آفیسر، ایک عہد
09:03 AM, 10 Jan, 2026