اسلام آباد: سینیٹ کے تازہ ترین اجلاس میں ملک کی سولر پالیسی اور نیٹ میٹرنگ کے مستقبل پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید لفظی جنگ چھڑ گئی۔ جہاں اپوزیشن نے نیٹ میٹرنگ میں ممکنہ تبدیلیوں کو صارفین کا 'استحصال' قرار دیا، وہی حکومت نے اسے توانائی کے شعبے میں ناگزیر اصلاحات قرار دے کر اپنا دفاع کیا۔
سینیٹر ڈاکٹر زرقاء سہروردی کی جانب سے پیش کردہ قرارداد پر بحث کرتے ہوئے اپوزیشن اراکین نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹر علی ظفر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ عوام نے حکومت کی ترغیب پر لاکھوں روپے لگا کر سولر سسٹم لگوائے، مگر اب نیٹ میٹرنگ کے قواعد بدل کر انہیں دھوکہ دیا جا رہا ہے۔
سینیٹر شیری رحمان نے آئی پی پیز (IPPs) کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کو ملکی معیشت کے لیے 'اژدھا' قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کے بلوں میں ٹیکسوں کا بوجھ عوام کی سکت سے باہر ہو چکا ہے۔وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے حکومتی وژن کا دفاع کیا۔ ان کے موقف کے اہم نکات درج ذیل تھے۔
حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک بجلی کی کل پیداوار کا 60 فیصد گرین انرجی پر منتقل کر دیا جائے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ڈالر کی قدر اور ماضی کے غلط معاشی فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ حکومت ایک شفاف منتقلی (Transition) چاہتی ہے تاکہ سسٹم پر موجود مالی بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
گرما گرم بحث کے دوران ایوان نے اپنی قانون سازی کی ذمہ داریاں بھی پوری کیں۔سینیٹ میں ہونے والی اس بحث نے واضح کر دیا ہے کہ نیٹ میٹرنگ کا مسئلہ آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ صارفین میں بے چینی برقرار ہے کہ آیا ان کی سرمایہ کاری کو قانونی تحفظ ملے گا یا نہیں۔
سینیٹ میں سولر پالیسی پر ہنگامہ آرائی: نیٹ میٹرنگ کے تحفظ پر حکومت اور اپوزیشن میں ٹکراؤ
08:27 PM, 10 Feb, 2026