ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں ہونے والے عام انتخابات نہ صرف ملکی سیاست بلکہ پورے خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے والے قرار دیئے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ کے 15 سالہ دور کے خاتمے نے بھارت کے لیے جو خلا پیدا کیا تھا، چین اسے تیزی سے پُر کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق چینی سفیر یاو وین ڈھاکہ کے سیاسی و سماجی حلقوں میں غیر معمولی طور پر متحرک نظر آ رہے ہیں۔چینی سفیر کی جانب سے بی این پی (BNP) اور جماعتِ اسلامی سمیت دیگر سیاسی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ حالیہ ملاقاتوں کو مستقبل کے تعاون کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت کے لیے سب سے بڑی تشویش کا باعث وہ حالیہ دفاعی معاہدہ ہے جس کے تحت چین بنگلہ دیش کی شمالی سرحد (بھارتی سرحد کے قریب) پر ایک جدید ڈرون فیکٹری قائم کر رہا ہے۔شیخ حسینہ کی بھارت میں موجودگی اور ان کی حوالگی کے مطالبات نے دونوں ممالک کے درمیان تلخی کو عروج پر پہنچا دیا ہے۔ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے لیے سیاحتی ویزوں کے اجراء میں سخت کمی کر دی ہے۔
بھارت نے اپنے حالیہ بجٹ (فروری 2026) میں بنگلہ دیش کے لیے ترقیاتی امداد کو نصف کر دیا ہے، جو سرد مہری کا واضح ثبوت ہے۔
کرکٹ کے میدان میں بھی تناؤ دیکھا جا رہا ہے، جہاں پاکستانی اور بنگلہ دیشی شائقین نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے مبینہ اثر و رسوخ کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلا رکھی ہے۔بنگلہ دیش کی معیشت اب تیزی سے چین کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ سالانہ 18 ارب ڈالر کی تجارت اور انفراسٹرکچر میں چینی کمپنیوں کی کروڑوں ڈالر کی نئی سرمایہ کاری نے ڈھاکہ کو بیجنگ کے قریب کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگرچہ بنگلہ دیش جغرافیائی طور پر بھارت سے کٹا ہوا نہیں رہ سکتا، لیکن نئی حکومت معاشی فوائد کے لیے "چائنا کارڈ" کا بھرپور استعمال کرے گی۔
ڈھاکہ اب دہلی کے زیرِ اثر نہیں رہا: انتخابات 2026 میں چین کی 'ڈرون ڈپلومیسی' کا چرچا
03:37 PM, 10 Feb, 2026