غزہ: اسرائیل کی غزہ میں جارحیت جاری ہے، جہاں اسرائیلی فوج نے مزید 4 فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ عرب میڈیا کے مطابق، اسرائیل نے غزہ سٹی میں بے گھر افراد کی ایک عمارت کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مزید نقصان ہوا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کی سخت مذمت کی اور کہا کہ یہودی بستیوں کی تعمیر عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ مغربی کنارے پر اپنے قبضے کے فیصلے کو واپس لے۔
حماس نے غزہ میں جنگ بندی کو بے معنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی کارروائیوں نے امن کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ حماس کے مطابق، اسرائیل نے ثالثوں کی امن کوششوں کو نظر انداز کیا ہے اور امریکا سمیت دوسرے ممالک کو اسرائیل کو جنگ بندی کی خلاف ورزیوں سے روکنا چاہیے۔
اس کے علاوہ، امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن میں ایک اہم میٹنگ کے لیے دعوت نامے ارسال کیے گئے ہیں، جس کی میزبانی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر اہم ارکان کریں گے۔ یہ میٹنگ غزہ بورڈ آف پیس کے تحت ہوگی، جس کے چیئرمین ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔
تاہم، برطانیہ، فرانس اور ناروے جیسے اہم یورپی ممالک نے اس بورڈ میں شمولیت سے انکار کر دیا ہے، کیونکہ ان کے مطابق یہ اقدام اقوام متحدہ کی حیثیت کو چیلنج کرتا ہے۔ اس بورڈ کا مقصد حماس کو غیر مسلح کرنا اور غزہ کی دوبارہ تعمیر کرنا ہے۔
اب تک میٹنگ کے ایجنڈے کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن امریکی میڈیا کے مطابق یہ اقدام صدر ٹرمپ کی پیش کردہ غزہ ڈیل کے دوسرے حصے کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔