عرفان صدیقی صاحب یادیں اور باتیں…!

09:07 AM, 10 Feb, 2026

برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفورکے حوالے سے یادوں اور باتوں کا تذکرہ ایسا نہیں ہے جو آسانی سے ختم ہو۔ میں کبھی تنہائی میں انہیں یاد کرتا ہوں تو یادوں اور باتوں کا ایک وسیع سلسلہ ذہن کے نہاں خانے میں جگمگانے لگتا ہے۔ مجھے یا د آ رہا ہے کہ عرفان صاحب کی معیت اور رفاقت میں مَیں نے بیرونِ ملک سنگا پور اور بینکاک کے ایک سفر سمیت اندرونِ ملک مختلف شہروں اور مقامات کے کتنے ہی سفر کیے ۔ دو بار گلگت بلتستان جس میں ایک دفعہ آگے گل مت اور سوست تک جانا ہوا اور ایک بار سکردو اور وہاں سے آگے دیو سائی کے چودہ ہزار فٹ بلند و بالا میدان تک برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی صاحب کی ہمراہی میں جانے کا موقع ملا۔ اِن اسفار میں بہت کچھ دیکھنے، جاننے ، سمجھنے اور پرکھنے کے ساتھ جہاں مہربانوں اور قدر دانوں کی طرف سے پُر تکلف مہمان نوازی کے مواقع ملتے رہے وہاں کئی قابلِ قدر شخصیات سے عرفان صاحب کی وساطت سے تعارف اور شناسائی بھی ہوئی۔ پروفیسر سید رزاق صاحب جو ایک زمانے میں ایف جی ڈگری کالج گلگت میں کیمسٹری کے استاد کے طور پر متعین تھے اور بعد میں ایف جی ڈگری کالج سکردو میں ٹرانسفر ہوئے، ان شخصیات میں سے ایک ہیں جن سے ایسا تعار ف ہوا کہ بعد میں وہ ہمارے اُس دور کے مختصر حلقہِ احباب کے ایک اہم رُکن سمجھے جانے لگے۔ پروفیسر سید رزاق صاحب سے ہمارا تعارف کیسے ہوا اس کی محاکات بڑی دلچسپ ہے۔
 ہوا یُوں کہ اپریل 1985 ء میں فیڈرل بورڈ کے امتحان ہو رہے تھے تو میری اسلام آباد ماڈل کالج F-8/4 میں جہاں معروف ماہرِ تعلیم جناب شاہد شمسی پرنسپل تھے، بطور سنٹر سپرنٹنڈنٹ ڈیوٹی لگی۔ عرفان صاحب اپنی گونا گوں مصروفیات یا کسی اور بنا پر اس طرح کی ڈیوٹی دینے کے لئے آمادہ نہیں ہوتے تھے لیکن اُس سال کچھ ایسا ہوا کہ انہوں نے بورڈ کے انٹرمیڈیٹ امتحان میں بطور سنٹر سپرنٹنڈنٹ ڈیوٹی کے لئے رضا مندی کا اظہار کر دیا۔ عرفان صاحب کی امتحانی ڈیوٹی کے لئے رضا مندی کیسے ہوئی، اس بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا تاہم میرا خیال ہے کہ وہ اپنے والدِ گرامی محترم قاضی عبدالحق عبدی کے انتقال کی وجہ سے جو کچھ عرصہ قبل اس دنیا سے رخصت ہوئے تھے غمگین اور اُداسی کا شکار رہتے تھے اور شہر سے باہر بھرپور مصروفیت کے متلاشی تھے کہ اس سے غم اور اُداسی میں کچھ کمی آئے گی۔ اس طرح وہ دور شمالی علاقہ جات میں ایف جی ڈگری کالج گلگت میں بطور سنٹر سپرنٹنڈنٹ امتحانی ڈیوٹی دینے پر تیار ہو گئے۔ امتحان کے انعقاد سے دو تین دن قبل اُن کا گلگت جانے کا پروگرام بنا تو موسم کی خرابی کی وجہ سے پی آئی اے کی پروازیں معطل تھیں۔ مجبوراً انہیںسڑک کے راستے گلگت جانے کا فیصلہ کرنا 
پڑا۔ وہ میرے ہمراہ پیرودہائی لاری اڈہ کے بالمقابل آئی جے پی روڈ سے ملحق NATCO (ناردرن ایریا ٹرانسپورٹ کمپنی ) کے اڈے پر گئے اورگلگت کے لئے بس کا ٹکٹ خریدا ۔ اگلے دن عرفان صاحب بس کے ذریعے گلگت کے لئے روانہ ہو گئے ۔ گلگت میں انہوں نے ایف جی ڈگری کالج جو شہر سے باہر دریائے گلگت کے کنارے واقع ہے کے ہاسٹل کو اپنا مسکن بنایا اور امتحان کے اختتام تک ایک ماہ یا کچھ زائد دن وہاں قیام پذیر رہے۔ 
کالج ہاسٹل میں کیمسٹری کے اُستاد پروفیسر سید رزاق جن کا تعلق پشاور سے ہے اور جن کا اوپر ذکر آیا ہے بھی رہائش پذیر تھے۔ عرفان صاحب کی اُن سے جلد ہی اچھی شناسائی اور ایک طرح کی دوستی ہو گئی۔ عرفان صاحب گلگت سے واپس آئے تو اکثر وہاں کی باتیں وغیرہ کرتے جن میں پروفیسر سید رزاق کا بھی تذکرہ ہوتا۔اس طرح پروفیسر سید رازاق صاحب کا ہمارے ساتھ بھی ایک طرح کا غائبانہ تعارف ہوا اور وہ ہمیں بڑی دلچسپ شخصیت کے مالک لگے ۔ایک دو ماہ بعد پروفیسر سید رزاق پشاور سے گلگت جانے کے لئے راولپنڈی آئے تو عرفان صاحب کے ہاں میری ، شیخ طارق الہٰی آف لالکڑتی(جو مرحوم و مغفور ہو چکے ہیں)اور ڈاکٹر شاہد رفیق آف واہ (جو پچھلے تقریباً تین عشروں سے امریکہ میں ایک معروف اور کامیاب فزیشن کی حیثیت سے مقیم ہیں) سے ملاقات ہوئی۔ حسبِ توقع ہم اُن کی دلچسپ باتوں اور اُن کی خوبصورت شخصیت سے اس طرح متاثر ہوئے کہ ہم اُن کے گرویدہ ہی نہ ہوگئے بلکہ انہیں اپنے اُس دور کے مختصر حلقہ احباب کا ایک اہم رُکن اور ہم نوالہ اور ہم پیالہ ساتھی (ہم پیالہ محض قافیہ کے لیے لکھا ہے ورنہ ہمارا ہم پیالہ ہونا سادہ پانی پینے یا زیادہ سے زیادہ سبز چائے کے قہوے تک ہی محدود رہا ہے) ہی نہ سمجھنے لگے بلکہ جلد ہی اُن کے پاس گلگت جانے کے پروگرام کے بارے میں بھی منصوبہ بندی شروع ہو گئی۔ 
ستمبر 1985 ء میں گلگت جانے کا پروگرام بنا توڈاکٹر شاہد رفیق تو کسی وجہ سے نہ جا سکے البتہ میں، شیخ طارق الہٰی مرحوم و مغفور اور برادرِ مکرم ومحترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور باہم ہم سفر تھے۔ پی آئی اے کے فوکر فرینڈشپ طیارے جس میں زیادہ سے زیادہ 40 مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہوتی تھی ہم گلگت پہنچے۔ کوئی یقین کرے گا کہ اُس دور میں پی آئی اے کا اسلام آباد سے گلگت اور واپسی کا کرایہ محض 360 روپے تھا۔ گلگت میں پروفیسر سید رزاق نے NATCOکے ریسٹ ہائوس میں ہماری رہائش کا انتظام کر رکھا تھا۔ یہ ایک کھلی اور کشادہ جگہ تھی جس کے لان میں بادام کے اُونچے اُونچے پیڑ بھی تھے ۔ ہمارا گلگت میں تین دن رہنے کا پروگرام تھا لیکن خراب موسم کی بنا پر پی آئی اے کی فلائٹ کے معطل ہونے کی وجہ سے اس میں ایک دو دنوں کا اضافہ ہو گیا۔ اس دوران پروفیسر سید رزاق کی معیت میں ہم نے گلگت اور آس پاس کے مقامات کی جہاں سیر کی وہاں شاہراہِ قراقرم پر ہنزہ کی حدود میں کریم آباد اور علی آباد تک بھی گئے ۔ اس کے ساتھ ہمیں سید رزاق صاحب کی فرضی خیالی یا حقیقی عشق و محبت کی داستانوں کے واقعات بھی سننے کو ملے۔ یہ واقعات باوجود المیہ انجام کے اس بنا پر دلچسپ تھے کہ ہر واقعے میں کوئی نہ کوئی شخص بطورِ رقیب پروفیسر صاحب کے راستے میں رکاوٹ بن کر کھڑا ہوتا ۔ پروفیسر صاحب کو در پیش اس رکاوٹ کی بنا پر عرفان صاحب نے اُن کے لیے "رخنہ" بمعنی رکاوٹ کا لقب تجویز کیا، جو خوب مستعمل ہوا۔ 
گلگت سے واپسی کا سفر کیسے کٹا اس کی تفصیل بڑی دلچسپ ہے ۔ ہوا یوں کہ موسم صاف ہونے پر پی آئی اے کی فلائٹ آئی تو ہم ائیرپورٹ پہنچے ۔ ہمیں بتایا گیا کہ ہم تینوں میں سے دو ہی اس جہاز پر جا سکیں گے، سواریوں کے ساتھ اتنی ہی گنجائش ہے۔ اب فیصلہ کرنا تھا کہ ہم میں سے کون دو ہوائی جہاز سے جائیں اور کون پیچھے رہ جائے اور بعد میں سڑک کے ذریعے لمبی مسافت طے کر کے پنڈی پہنچے ۔ شیخ طارق الہٰی مرحوم و مغفور کی کچھ کاروباری مصروفیات تھیں جس کے لئے انہیں واپس پنڈی پہنچنا ضروری تھا ۔ عرفان صاحب کی ریڈیو کے ڈرامے کی ریہر سل اور فنکاروں سے ملاقات تھی اُن کا بھی پنڈی پہنچنا بھی ضروری تھا۔ اس طرح دونوں مہربان ہوائی جہاز میں سوار ہو گئے اور میں پروفیسر سید رزاق صاحب کے ساتھ پیچھے رہ گیا۔ سید رزاق صاحب مجھے قریب ہی NATCO کے بسوں کے اڈے پر لے گئے۔ پتہ چلا کے 4 بجے والی بس میں سیٹ مل سکتی ہے۔ ابھی دن کا ایک بجا تھا میں نے سید رزاق صاحب کے ساتھ وہاں قریب کے ہوٹل سے کھانا کھایا اور اُن سے الوداع ہو کر NATCOکے اڈے پر آ گیا جہاں مجھے کم و بیش 2 گھنٹے بس کی روانگی کے لئے انتظار کرنا تھا۔ مجھے فکر کھائے جا رہی تھی کہ میں گلگت سے راولپنڈی کا تقریباً480 کلو میٹر کے لگ بھگ طویل سفر بس کے ذریعے کیونکر کر سکوں گاجبکہ مجھے بس کے سفر کے دوران متلی اور قے آنے کی پرانی بیماری بھی ہے۔ خیر قہر درویش بر جانِ درویش اب اسے برداشت کرنا ہی تھا۔ 4 بجے بس روانہ ہوئی تو اُسے چلاس پہنچنے میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ لگا۔ بس وہاں کچھ دیر رُکی ،دوبارہ چلی تو میرا دل کچھ متلا رہا تھا ۔ کوشش کی کہ قے نہ ہونے پائے لیکن ایک دو گھنٹوں کے بعد قے کا ایسا سلسلہ شروع ہو ا کہ بس رات کے اندھیرے میں بس چلتی رہی اور مجھے کچھ سُدھ بُدھ نہیں تھی کہ بس کہاں سے گزر رہی ہے۔ صبح تقریباً سورج طلوع ہو رہا تھا کہ بس پشاور روڈ پر پیرودہائی موڑ پر پہنچی اور میں اسی حالت میں بس سے اُتر کر گھر کے لئے روانہ ہوا۔ بس کا یہ سفر مجھے اب بھی یاد آتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دو سال بعد دوبارہ براردِ مکرم ومحترم عرفان صدیقی ، عزیزِ گرامی شیخ طارق الہٰی اور عزیزی ڈاکٹر شاہد رفیق کے ساتھ گلگت کاجو سفر کیا اُس کی خوشگوار یادوں کا تذکرہ ان شاء اللہ آئندہ کسی کالم میں ہو گا ۔     (جاری ہے)

مزیدخبریں