بسنت کا تین روزہ میلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ ان تین روز کے دوران بہت سی یادیں تازہ ہوئیں اور کئی نئی چیزیں بھی سامنے آئیں۔ زندگی کے ہر معاملے کی طرح بسنت کے حوالے سے بھی دو طرح کے طبقات سامنے آئے۔ ایک بسنت کا حامی اور دوسرا مخالف۔ حامی طبقے کے مطابق بسنت کے تینوں دن آسمان رنگی برنگی پتنگوں سے بھرا رہا جبکہ مخالف طبقے کے مطابق انھیں ایک بھی پتنگ دکھائی نہیں دی جبکہ حقیقت اس کے کہیں درمیان میں چھپی ہے۔
لاہوریوں نے یوں تو بسنت روایتی جوش و خروش سے منائی البتہ اس بار یہ ماضی سے قدرے مختلف رہی۔ اس کی وجہ شاید ایک طویل عرصے بعد اس کا منایا جانا تھا۔ ماضی میں جب بسنت منائی جاتی تو وہ سال میں صرف ایک دن کا تہوار ہوتا تھا لیکن پتنگ بازی سارا سال جاری رہتی تھی، اس لیے بسنت منانے والوں کو ایسا کوئی لالچ نہیں ہوتا تھا کہ ساری کی ساری پتنگ بازی ایک ہی بار کر لی جائے بلکہ یوں سمجھئے کہ پتنگ بازوں کی تو ہر چھٹی کے دن مِنی بسنت ہوا کرتی تھی۔ اس زمانے میں بسنت کی رونق دن کے اوقات میں زیادہ ہوتی تھی۔ رات کو بسنت منانے کا زیادہ رواج رواں صدی کے آغاز پر پڑا لیکن انہی دنوں میں کیمیکل اور دھاتی ڈور سے گلے کٹنے کے واقعات بھی بڑھنے لگے تو صدی کی پہلی دہائی میں ہی بسنت اور پتنگ بازی پر پابندی عائد کر دی گئی۔ شوقین پتنگ باز چوری چھپے راتوں کو پتنگیں اڑانے لگے جس کے اثرات حالیہ بسنت پر بھی مرتب ہوئے۔ اس بار بسنت کے تینوں دن پتنگ بازی کا زیادہ زور رات کے اوقات میں رہا۔ رات بھر پتنگیں اڑانے والے صبح دم نیند کی آغوش میں چلے جاتے اور سات آٹھ گھنٹے سونے کے بعد سہ پہر کو بیدار ہوتے۔ دوبارہ پتنگ بازی کے لیے چھتوں پر آتے آتے پھر سے شام ہو جاتی۔ یوں اس بار بسنت رات کا تہوار بن کر رہ گیا۔ بیشتر جگہوں پر دن کے اوقات میں وہ رونق نظر نہیں آئی جو کبھی بسنت کا خاصہ ہوا کرتی تھی۔ اسی لیے مخالفین کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ انھیں کوئی پتنگ نظر نہیں آئی جبکہ حامی چونکہ رات بھر پیچ لڑاتے رہے اس لیے انھیں پتنگیں ہی پتنگیں دکھائی دیتی رہیں۔
بسنت مخالف طبقہ یہ بھی کہتے پایا گیا کہ بسنت کی اجازت ایک سیاسی جماعت کی پہیہ جام ہڑتال کی کال کو غیر موثر کرنے کے لیے ہے۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر ایسی پوسٹیں بھی گردش کرتی رہیں کہ بسنت ہندوؤں کا تہوار ہے لیکن بسنت منانے والوں میں اسی سیاسی جماعت کے کارکن بھی شامل رہے اور مذہب کی بنیاد پر اس کی مذمت کرنے والے بھی۔ اس طرح لوگوں نے بسنت منا کر یہ پیغام دیا کہ اس قوم کو تفریح کے مواقع کی بہت ضرورت ہے اور لوگ اپنے تمام تر تحفظات اور اختلافات کے باوجود بھی ایسا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، پھر چاہے وہ ہندوؤں کا تہوار بسنت ہو یا یہود و نصاریٰ کا کھیل کرکٹ ہو یا کوئی اور سرگرمی۔
متعدد سیاسی و صحافتی شخصیات کی طرف سے یہ جملہ بھی بہت سننے کو ملتا رہا کہ بسنت 25سال بعد دوبارہ آئی ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ پہلے بسنت مارچ میں منائی جاتی تھی، اس بار سردی میں منائی جا رہی ہے۔ یہ دونوں باتیں حقائق کے منافی ہیں۔ بسنت پر پابندی2007میں لگی تھی، اس طرح بسنت پچیس نہیں بلکہ انیس سال بعد بحال ہوئی ہے جبکہ یہ تہوار ہمیشہ سے فروری کے مہینے ہی میں منایا جاتا رہا ہے۔
طویل عرصے بعد بسنت منانے کا ایک پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ نئی نسل کو بسنت اور پتنگ بازی سے متعلق اصطلاحات کا بھی علم نہیں۔ ایک دوست سے اس کی بیٹی نے تقاضا کیا بابا مجھے بھی پتنگا لا دیں، میں نے بھی بسنت منانی ہے۔ مراد یہ کہ بچوں کو اب پتنگ اور پتنگے کے فرق کا بھی علم نہیں رہا جبکہ بسنت کی بندش سے پہلے طرح طرح کی پتنگیں اور ڈوریں فروخت ہوا کرتی تھیں جن کے الگ الگ نام بھی ہوتے تھے۔ ڈور میں پانچ ریچھ، آٹھ چین، پانڈا اور تندی وغیرہ مشہور ہوتی تھیں۔ پتنگوں میں پری، کْپ، لکھنؤکاٹ، شرلا، مچھر وغیرہ کے نام زبان زد عام تھے۔ پھر پتنگ بازی کے دوران مختلف طنابیں ڈالنا، کنی باندھنا، کنی دینا، جھپ نکالنا، تْنکے لگانا، کھینچامارنا، ڈور دینا، گڈی چمبوڑنا جیسی بہت سی اصطلاحات بھی روزمرہ بول چال کا حصہ تھیں۔ ایک ویڈیو میں ایک پتنگ باز باپ اپنے نوجوان بیٹے کو پتنگ اڑانے کی تربیت دیتا دکھائی دیا جبکہ بیٹا نے جتنی بار ڈور ہاتھ میں پکڑی، اس سے پتنگ سنبھالی ہی نہیں گئی۔
بسنت کے موقع پر ایک تکلیف دہ پہلو یہ رہا کہ حکومت کی طرف سے کیے گئے انتظامات کے نتیجے میں گلا کٹنے کے واقعات تو بہت کم رہے لیکن چھتوں سے گرنے اور پتنگیں لوٹتے ہوئے کرنٹ لگ کر مرنے کے متعدد واقعات ضرور سامنے آئے بلکہ ایک نوجوان صحافی بھی چھت سے گر کر زندگی کی بازی ہار گیا۔ بسنت کے پہلے دن جمعہ کے روز اسلام آباد کی ایک امام بارگاہ میں دہشت گردی کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا جس میں 33 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے جس کے باعث صوبائی حکومت کو بسنت کی سرکاری تقریبات بھی منسوخ کرنا پڑیں۔
کیمیکل ڈور اورہوائی فائرنگ پر پابندی اور پولیس کی جانب سے موٹر سائیکل سواروں کو جگہ جگہ روک کر حفاظتی راڈ لگانے کی بدولت بسنت کا تہوار عمومی طور پر محفوظ رہا تاہم حفاظتی راڈ میں کچھ مسائل بھی سامنے آئے۔ کئی لوگوں کو راڈ لگنے کے بعد موٹرسائیکل چلانے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض راڈ اتنے ناقص تھے کہ موٹرسائیکل چلانے کے دوران ٹوٹ گئے۔ کچھ لوگوں کے راڈ لگے ہونے کے باوجود ڈور پھر گئی۔ دوسرے لفظوں میں راڈ کے بھی کسی نہ کسی حد تک غیر محفوظ ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
حکومت اگر بسنت منانے کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے تو حفاظتی راڈ کی بجائے حفاظتی تار کی تنصیب کا حل زیادہ بہتر ہے۔ اس حوالے سے پہلے بھی انہی سطور میں عرض کیا جا چکا ہے کہ سڑکوں کے دونوں اطراف اور بعض جگہ درمیان میں پہلے سے نصب بجلی کے کھمبوں اور سٹریٹ لائٹ پولز پر تاریں لگا دے۔ بہت سی جگہوں پر تو یہ تاریں پہلے ہی موجود ہیں۔ جہاں نہیں ہیں وہاں نئی لگوائی جا سکتی ہیں۔ ان کا فائدہ یہ ہو گا کہ پتنگ کٹنے کی صورت میں ڈور سڑک پر نہیں گرے گی بلکہ کھمبوں پر نصب تاروں کے اوپر سے گزر جائے گی۔ یہ ایک انتہائی کم خرچ اور بالا نشین نسخہ ہے۔ حکومت کو یہ ایک بار ضرور آزما کر دیکھنا چاہیے۔ امید ہے کہ اس کے استعمال سے بسنت یا پتنگ بازی پر پابندی لگانے کی ضرورت بھی نہیں رہے گی اور موٹر سائیکل سواروں کو بھی بسنت راڈ لگوانے کا تکلف نہیں کرنا پڑے گا۔
بسنت: تجربات، مشاہدات اور تجاویز
09:06 AM, 10 Feb, 2026