سوار محمد حسین شہید کا 54واں یومِ شہادت: بہادری اور قربانی کی ایک عظیم داستان

09:20 AM, 10 Dec, 2025

راولپنڈی : 1971 کی جنگ میں اپنی بے مثال جرات اور قربانی سے پاکستان کا نام روشن کرنے والے سوار محمد حسین شہید کا آج 54واں یومِ شہادت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ سوار محمد حسین نے شکرگڑھ سیکٹر میں دشمن کی فوج کے خلاف ایسی بہادری دکھائی کہ ان کا نام ہمیشہ کے لیے تاریخ میں سنہری حروف میں لکھ دیا گیا۔

پاک فوج، بحریہ اور فضائیہ کے افسران نے سوار محمد حسین شہید کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور ایڈمرل نوید اشرف نے ان کی قربانیوں کو قومی فخر قرار دیا اور کہا کہ سوار محمد حسین کی بہادری آج بھی ہماری مسلح افواج کے عزم کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق، سوار محمد حسین نے 1971 کی جنگ میں شجاعانہ انداز میں دشمن کے بڑھتے ہوئے ٹینکوں کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے ریکوئیلس رائفلز کے عملے کی رہنمائی کی اور متعدد بھارتی ٹینکوں کو تباہ کیا، جس کے نتیجے میں جنگ کا رخ پاکستان کے حق میں بدل گیا۔ تاہم، اسی دوران وہ دشمن کی فائرنگ کا نشانہ بنے اور جامِ شہادت نوش کر گئے۔

سوار محمد حسین شہید کی قربانی اور جرات نے نہ صرف جنگ کے میدان میں پاکستان کی فتح میں اہم کردار ادا کیا بلکہ ان کا جذبہ آج بھی ہمارے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ ان کی قربانی کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں اپنے شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے اور ان کی جرات و بہادری کے اصولوں پر چلتے ہوئے پاکستان کو مزید مضبوط اور محفوظ بنانا چاہیے۔

قوم نے سوار محمد حسین کی قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے یہ عہد کیا کہ ہم اپنے وطن کے دفاع میں کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، اور ہمیشہ اپنے شہداء کے نقشِ قدم پر چل کر ایک مضبوط، محفوظ اور باوقار پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں گے۔

مزیدخبریں