افواج پاکستان: پریس کانفرنس اور ملک دشمن عناصر کا تعاقب

09:09 AM, 10 Dec, 2025

تاریخ پاکستان کے حوالے سے بغور مشاہدہ کرنے کے بعد یہ بات من و عن واضح ہو جاتی ہے کہ افواج پاکستان کا کردار ہمیشہ سے ملکی ترقی و خوشحالی اور امن عامہ کے اعتبار سے مثالی رہا ہے۔ ماضی میں لڑی جانے والی بڑی جنگیں ہوں ، یا دہشت گرد عناصر کے خلاف بنیان مرصوص " سیسہ پلائی دیوار" بن کر مردانہ وار مقابلہ ہو۔ افواج پاکستان نے کبھی ملکی سالمیت پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ پاکستان کی زمین پر افواج پاکستان وہ چٹان ہے جو نہ صرف ملک کی سلامتی کی ضامن ہے بلکہ سماجی استحکام اور ترقی کی بھی بنیاد ہے۔ ماضی میں بھی حتی الوسع کوشش کی گئی کہ اندرونی خلفشار اور سیاسی تنازعات سے ماورا ہو کر ملکی سرحدوں کی پاسداری کی جائے مگر حالیہ چند برسوں میں دیکھا گیا کہ ایک سیاسی جماعت کی جانب سے پاک فوج کو زبردستی سیاسی چکی میں پیسنے کی کوشش کی گئی ۔ جس سے ناصرف ملکی دفاعی ساکھ کو نقصان پہنچا بلکہ پاکستان کے تشخص پر بھی حرف آیا۔ تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے کی گئی پریس کانفرنس کو تنقید کا نشانہ بنانے والے شاید کچھ حقائق سے نابلد ہو کر ملکی تشخص کو بالائے طاق رکھنا چاہتے ہیں۔
درحقیقت ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے بیانیے اور کچھ عناصر کی ملک دشمن سرگرمیوں پر شک و شبہ ظاہر کیا گیا ہے، جنہوں نے افواج پاکستان کے خلاف بیانات اور افواہوں کے ذریعے ملک کی سالمیت کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کی۔افواج پاکستان نے ہر دور میں اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ملک کی حفاظت کی ہے۔ چاہے وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا قدرتی آفات سے نمٹنا، افواج پاکستان نے ہمیشہ اپنی خدمات کو اولین ترجیح دی ہے۔ پاکستان کی افواج صرف سرحدوں کی حفاظت نہیں کرتیں بلکہ اندرونی مسائل کو بھی حل کرتی ہیں۔پی ٹی آئی کی جانب سے ملک دشمنی کی جو فضا قائم کی گئی ہے وہ کافی حد تک ملک کو نقصان پہنچا چکی ہے۔ حالیہ چند ماہ میں ان کی جانب سے کیا گیا ہر فیصلہ ملک مخالف پراپیگنڈے کی کڑی نظر آرہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پی ٹی آئی کے ان بیانیات کا پردہ چاک کیا جن کا مقصد ملک میں افواج کے خلاف نفرت پھیلانا ہے۔ عمران خان صاحب کے حکومت مخالف بیانیے سے ایک غلط تاثر پیدا کیا گیا ہے کہ جیسے افواج پاکستان کسی گروہ کی طرف داری کر رہی ہیں۔ یہ بیانیہ ان قوتوں کو تقویت دیتا ہے جو پاکستان میں انتشار اور عدم استحکام کی خواہاں ہیں۔افواج پاکستان نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن کی دنیا معترف ہے۔ لیکن کچھ عناصر ملک میں ان تنظیموں کی حمایت کر کے امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ کسی قسم کی ہمدردی یا حمایت قومی مفاد کے خلاف ہے اور افواج پاکستان اس سلسلے میں بالکل واضح نقطہ نظر رکھتی ہیں۔مگر افسوس کہ پی ٹی آئی نے ہر اس پلیٹ فارم کی حمایت کی جو دہشت گردی کی پشت پناہی کرتا ہے۔ وہ چاہے ٹی ٹی پی کا محاذ ہو یا پی ٹی ایم کا پراپیگنڈا، پی ٹی آئی نے فوج مخالف بیانیوں کو نہ صرف سپورٹ کیا بلکہ خود فوج مخالف بیان بازی کر کے ملکی وقارکو حد درجہ متاثر کیا ہے۔
دوسری جانب ایک اور حقیقت بھی عیاں ہے کہ عمران خان صاحب اپنے دور حکومت میں تو محض نعرے بازی اور ناچ گانوں کے جلوسوں میں ہی محو رہے اور کوئی خاطر خواہ منصوبہ نہ بنا سکے اور نہ ہی عملدرآمد کرا سکے۔ تاہم مسلم لیگ نواز کی کامیاب پالیسیاں اورمنصوبہ بندیوں سے لیکر سفارتی کوششوں کی مد میں بہترین کارکردگی نے شاید پی ٹی آئی کا ہاضمہ خراب کر رکھا ہے ۔ چنانچہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر جھوٹے بیانات اور افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائیاں اب سخت کی جائیں گی۔ سوشل میڈیا پر افواج کے خلاف جھوٹے بیانات اور بے بنیاد الزامات پوری قوم کے خلاف چال ہیں۔ یہ وقت ہے کہ سب مل کر منافرت پھیلانے والوں کا محاسبہ کریں۔ملک پاکستان کسی ایک شخص کی ملکیت نہیں اور نہ ہی آماجگاہ ہے، یہاں شخصیت پرستی کی سیاست نہیں بلکہ اصولوں کی سیاست اور آئین پاکستان کی پاسدار حکومت ہے۔ آج پی ٹی آئی کے حکومت اور فوج مخالف پراپیگنڈے سے ایک پورا صوبہ (خیبر پختونخوا) متاثر ہوا ہے اور ڈر ہے کہ ان کی جانب سے بویا ہوا نفرت کا یہ بیج ملک کو شدید حالات کی لپیٹ میں نہ لے لے۔
افواج پاکستان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانا اور ملک کے خلاف سازشیں کرنا قابل مذمت ہیں۔ پاکستانی عوام اور تمام سیاسی قوتیں مل کر ملکی سلامتی کے خلاف ہونے والی ہر کوشش کو ناکام بنائیں۔ افواج پاکستان کی حمایت اور ان کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم قومی مفاد کو پہلی ترجیح دیں اور ملک کو ترقی کی راہوں پر گامزن کریں۔ ہمیں چاہیے کہ بحیثیت قوم اتحاد کا مظاہرہ کریں، ملک کو کسی ایسے شخص کے حوالے نہ کریں جو خود ذہنی مریض ہو، اور جس کا قول اس کے عمل سے اختلاف رکھتا ہو۔ بلکہ ہمیں چاہئے کہ افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ہر قسم کے چیلنج کا سامنا کریں۔ افواج پاکستان ہماری قوم کا فخر ہیں اور ان کی خدمات کا اعتراف ہر محب وطن شہری کی ذمہ داری ہے۔

مزیدخبریں