پاکستان میں کرپشن اور گورننس بارے قرض دینے والے بین الاقوامی ادارے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (IMF) نے گزشتہ ماہ ایک تحقیقاتی و تفتیشی رپورٹ جاری کی ہے جس کا عنوان ’’پاکستان: گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک رپورٹ‘‘ ہے یعنی پاکستان میں گورننس و کرپشن بارے تشخیصی رپورٹ ہے۔ ڈائیگناسٹک یعنی تشخیص ہے جو عام طور پر ڈاکٹر اپنے مریض کے مرض بارے کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف ہمارے معاشی امراض کا ڈاکٹر ہے وہ ہماری معیشت کو توانا اور صحت مند رکھنا چاہتا ہے، اسے پھلتا پھولتا اور جاری و ساری رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس کی دلچسپی اس لئے بھی ہے کہ ہم اس کے مستقل گاہک ہیں۔ اس سے قرض لیتے رہتے ہیں ، اسے لوٹاتے بھی ہیں،پھر لیتے ہیں بمع سود واپس بھی کرتے ہیں ہم اس کے مستقل اور اچھے گاہک ہیں۔ آئی ایم ایف اپنے گاہکوں کو مختلف معاملات میں فنی مہارت بھی بہم پہنچاتا ہے تاکہ قرض لینے والوں کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہو اور وہ بہتر انداز میں قرض حاصل کرنے کے اہداف حاصل کر سکیں۔ زیرنظر رپورٹ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی آئی ایم ایف کو کی گئی درخواست کے نتیجے میں تیار کی گئی اور پھر شائع/ جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ اگر 30 دنوں کے اندر اندر رپورٹ کے مندرجات پر اعتراض نہ کیا گیا تو یہ رپورٹ من و عن فنڈ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی جائے گی۔ ہمیں معلوم نہیں کہ ابھی تک حکومت پاکستان نے رپورٹ کے مندرجات پر کوئی اعتراض کیا ہے اس لئے تصور کر لیتے ہیں کہ رپورٹ قبول ہے، درست ہے، فنڈ کرپشن اور گورننس کے ان ایشوز پر توجہ دیتا ہے جن کا تعلق کلی معاشیات سے ہوتا ہے یعنی ایسے عوامل جو معیشت پر اثرانداز ہوتے ہیں کلی معیشت پر اثرانداز ہونے والے معاملات و احوال بارے تحقیق و تفتیش کر کے حکومت کو بہتری کی تجاویز دی جاتی ہیں۔ یہ رپورٹ ورلڈ بینک کے ساتھ مل کر تیار کی گئی ہے۔ اس میں فیلڈ مشنز کے ساتھ سرکاری اہلکاروں، ریگولیٹری باڈیز، عدلیہ، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے نمائندوں کے ساتھ کی گئی مشاورت اور مہیاکردہ معلومات اور اعدادوشمار شامل کر کے نتائج اخذ کئے گئے ہیں۔ تشخیص کے لئے وفاقی حکومت کے پانچ بنیادی شعبہ جات کو جانچا گیا۔ مالیاتی کارکردگی، مارکیٹ ریگولیشن، فنانشل سیکٹر، اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لئے کی جانے والی فنانسنگ کا مقابلہ جیسے اہم امور شامل ہیں۔ تشخیص و تحقیق کے نتیجے میں پتا چلا کہ یہاں بڑے پیمانے پر کرپشن پائی جاتی ہے اور یہ پھیل رہی ہے۔ ریاستی غلبے میں چلنے والی معیشت میں اداروں کی کارکردگی پست اور صلاحیت کمزور ہے بازپرس کا نظام مسلسل بھی نہیں ہے اور کمزور بھی ہے احتساب کا عمل ٹھیک نہیں ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ پھر رپورٹ میں تجاویز بھی دی گئی ہیں کہ معاملات سے کس طرح نمٹا جا سکتا ہے اور بہتری کی صورت پیدا کی جا سکتی ہے۔
ویسے رپورٹ میں کوئی ایسی بات نہیں کی گئی ہے جو پہلے سے ہمیں پتا نہیں ہے ۔ ہمیں اپنے اداروں کی صلاحیت اور کارکردگی کے بارے میں پہلے ہاتھ کی معلومات حاصل ہیں۔ ہم ان اداروں سے انٹرایکٹ بھی کرتے ہیں ہمیں ان سے براہ راست معاملات کرنے کا بھی تجربہ حاصل ہے۔ کلرک یا چپڑاسی سے لے کر چیف سیکرٹری یا کمشنر تک کی صلاحیت اور کارکردگی ہمارے سامنے ہے، نظام ہمارے اردگرد پھیلا ہوا ہے، اس کی سڑانڈ ہمارے سامنے ہے ہمیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے مالیاتی ادارے ہوں یا زری محکمے، ہماری عدلیہ ہو یا ہمارے کاروباری و تجارتی ادارے ہمیں ان کے بارے میں ان کی اہلیت و کارکردگی بارے سب معلوم ہے۔ ہمارے ہاں پایا جانے والا ’’سول سوسائٹی طبقہ‘‘ بھی ہماری آنکھوں کے سامنے سب کچھ کرتا ہے ہمیں کسی اعلیٰ یا ادنیٰ عالمی ادارے کی رہنمائی کی ضرورت ہرگز ہرگز نہیں ہے۔ اگر ہم بہتری لانا چاہتے ہیں تو ہمیں کسی بھی ادارے کی تجاویز کی ضرورت نہیں ہے۔ سوال صرف کرنے یا نہ کرنے کا ہے، اس طرح کی اور اس سے بھی اعلیٰ و ارفع رپورٹیں ہم نے دیکھی ہیں۔ ان کا حشر بھی ہمارے سامنے ہے کہ ایسی رپورٹیں ہمارے گلے سڑے نظام کی بحر ظلمات میں تھوڑی دیر کے لئے ہلچل مچاتی ہیں اور پھر یہ جا وہ جا ۔ ہمارا ایک عام شہری، ریڑھی بان، مزدور، کارکن بھی جاری نظام کی کمزوریوں اور کوتاہیوں سے مکمل طور پر واقف نظر آتا ہے۔ اسے نظام کے کمزور پہلوئوں کا ٹھیک ٹھیک پتا ہے اس لئے اسے بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ معاملات کہاں کہاں بگڑے ہوئے ہیں۔ پھر جہاں تک معاملات ٹھیک کرنے کا تعلق ہے تو اسے پوچھ کر دیکھ لیں وہ روانی سے، ذہانت سے بتائے گا کہ گلے سڑے نظام کو کیسے ٹھیک کرنا ہے۔ ایک زمانے میں انقلاب ایران ہمارے ہاں نمونے کے طورپر پیش کیا جاتا تھا۔ عام آدمی کہتا تھا کہ خمینی کے طریقے پر حالات ٹھیک کئے جا سکتے ہیں، خونی انقلاب کی باتیں عام تھیں، پھر ماضی قریب میں سعودی محمد بن سلمان نے جس طرح سعودی اشرافیہ میں کرپشن کے خاتمے کی کاوش کی اس کا تذکرہ بھی یہاں ہوتا رہا کہ کرپٹ لوگوں بشمول اشرافیہ و سرکاری عمال کے ساتھ ویسا ہی سلوک کر کے ان سے لوٹا ہوا مال برآمد کیا جائے اور اس طرح باقی ماندہ کے لئے مثال قائم ہو جائے گی۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اصلاح احوال کی تمام کاوشیں یہاں ہمارے ہاں ناکام ہو جاتی ہیں۔
اب تو صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ کسی بھی مجرمانہ واقعہ کا فیصلہ ہونے سے پہلے ہی ہر شخص اس کا متوقع فیصلہ بیان کر دیتا ہے اور عملاً ایسا ہی ہوتا ہے۔ حال ہی میں اسلام آباد میں ایک جج کے بیٹے نے اپنی V8 کے ذریعے سکوٹی پر سوار دو لڑکیوں کو کچل کر مار ڈالا۔ جج کا لڑکا انڈر ایج بھی تھا اور بغیر لائسنس کے بھی۔ بہیمانہ واقعہ قومی میڈیا میں آیا، عام لوگوں کا تاثر یہی تھا کہ جج کے بیٹے کو کچھ نہیں ہو گا۔ ایسا ہی ہوا۔ واقعہ میڈیا سے غائب کر دیا گیا، کہا گیا کہ فریقین میں صلح ہو گئی ہے۔ اس نظام سے عام آدمی مکمل طور پر مایوس نظر آتا ہے۔ ہر سال اوسطاً 7،8 لاکھ افراد ہجرت کر رہے ہیں ان میں ڈاکٹر بھی ہیں اور انجینئر بھی۔ قومی معیشت قرضوں کی بھاری زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے،عام آدمی کی معیشت مہنگائی اور بے روزگاری کی بھاری زنجیروں میں جکڑی کراہ رہی ہے۔ ملک دشمن پاکستان کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان، تحریک طالبان افغانستان کے بل بوتے پر پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہے ہیں اور طالبان رجیم ہندوستان کے بل بوتے پر پاکستان کے خلاف برسرپیکار ہے۔ اندرون ملک ان کے حمایتی و حواری بھی فعال ہیں۔ ریاست دشمنوں کے خلاف بڑی جرأت و استقامت کے ساتھ ڈٹی ہوئی ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ پاکستان کی حفاظت صرف فوج کا کام نہیں پوری قوم کو اس میں شامل ہونا چاہئے اور قوم کی نمائندگی حکمران و سیاستدان کر رہے ہیں۔
گورننس و کرپشن بارے آئی ایم ایف کی رپورٹ اور ہم
09:08 AM, 10 Dec, 2025