مزید صوبے نہیں، نئے انتظامات!

09:29 AM, 11 Aug, 2026


قومیں محض نقشوں سے نہیں بنتیں، نظاموں سے بنتی ہیں۔ ریاستیں رقبے اور آبادی کے اعداد و شمار سے نہیں بلکہ اداروں کی کارکردگی، قیادت کی اہلیت، انتظامی صلاحیت، قانون کی بالادستی اور عوام کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں جب بھی حکمرانی کا بحران شدت اختیار کرتا ہے، بنیادی اصلاحات کے بجائے نظام کی ظاہری ساخت بدلنے کی بحث شروع ہو جاتی ہے۔ کبھی صدارتی نظام کو نجات کا نسخہ قرار دیا جاتا ہے اور کبھی نئے صوبوں کے نقشے بنا کر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان کے مسائل کا حل نئی سیاسی حد بندیوں میں پوشیدہ ہے۔آج بھی یہی ہو رہا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ پنجاب کی آبادی بہت زیادہ ہے، اسے کئی صوبوں میں تقسیم کیا جائے؛ کبھی سندھ اور بلوچستان کے رقبے کا دنیا کے مختلف ممالک سے تقابل کرکے نئے صوبوں کی ضرورت ثابت کی جاتی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کسی صوبے کا رقبہ یا آبادی کسی ملک سے زیادہ ہونا اسے تقسیم کرنے کی دلیل بن سکتا ہے؟ اگر یہی معیار ہو تو دنیا کے کئی بڑے ممالک کو درجنوں حصوں میں تقسیم کرنا پڑے گا۔ہر ریاست اپنی تاریخ، تہذیب، تمدن، شناخت، آئین اور سیاسی ارتقا کے نتیجے میں تشکیل پاتی ہے۔ پاکستان کو بھی محض نقشے پر کھینچی ہوئی لکیروں سے نہیں بلکہ اس کی تاریخی اور تہذیبی حقیقتوں کے تناظر میں دیکھنا ہو گا۔ اصل مسئلہ صوبوں کی تعداد نہیں، انتظام کی کمزوری ہے۔انتظامی تقسیم اور سیاسی تقسیم میں بنیادی فرق ہے۔ کسی بڑے صوبے کو بہتر حکمرانی کے لیے انتظامی اکائیوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، مگر اس کے لیے نئے صوبے، نئی اسمبلیاں اور نئے سیاسی عہدے پیدا کرنا ضروری نہیں۔ پنجاب کے موجودہ ڈویژنوں کو مضبوط انتظامی یونٹ بنایا جا سکتا ہے۔ ہر ڈویژن میں بااختیار انتظامی سربراہ، علاقائی پولیس سربراہ، صحت، تعلیم، محصولات اور دوسرے اہم محکموں کے ذمہ دار افسران ہوں، انہیں وسائل اور اختیار دیا جائے اور کارکردگی کی واضح ذمہ داری بھی عائد کی جائے۔ صوبہ پنجاب اپنی آئینی حیثیت کے ساتھ برقرار رہے، مگر انتظام عوام کے دروازے تک پہنچ جائے۔یہی اصول سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا پر بھی لاگو ہو سکتا ہے۔ہمارے اپنے ریاستی اداروں میں اس انتظامی اصول کی مثالیں موجود ہیں۔ کسٹمز اور ایف بی آر جیسے اداروں میں کام کے پھیلاو¿ کے ساتھ مختلف کلیکٹریٹس اور علاقائی انتظامی یونٹ قائم کیے گئے، مگر مرکزی سربراہی اور پالیسی کا نظام اپنی جگہ برقرار رہا۔ اگر ایک وفاقی ادارہ انتظامی ضرورت کے تحت اپنے یونٹ بڑھا سکتا ہے تو صوبائی حکومتیں ایسا کیوں نہیں کر سکتیں؟مسئلہ یہ ہے کہ ہم اختیار نچلی سطح تک منتقل کرنے کے بجائے عہدے پیدا کرنے کو اصلاح سمجھ لیتے ہیں۔اسی لیے نئے صوبوں کی بحث میں سیاسی مفاد کے امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نیا صوبہ صرف ایک نئی انتظامی حد نہیں ہوتا؛ اس کے ساتھ نئی اسمبلی، نیا وزیراعلیٰ، نئی وزارتیں، نئی بیوروکریسی اور نئے سیاسی مراکز پیدا ہوتے ہیں۔ ہمیں یہ ضرور پوچھنا چاہیے کہ نئے صوبوں کی خواہش واقعی عوامی ضرورت ہے یا اقتدار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی خواہش؟ اصل مسئلہ نظام کے نام سے زیادہ نظام چلانے والے اداروں کا ہے۔ ہمارے انتظامی ڈھانچے میں ایک عمومی مقابلے کا امتحان پاس کرنے والے افسر کو مختلف اوقات میں ایسے شعبوں کا سربراہ بنا دیا جاتا ہے جن میں اس کی باقاعدہ پیشہ ورانہ تربیت نہیں ہوتی۔ آج تعلیم، کل صحت، پرسوں محصولات اور اس کے بعد کسی دوسرے شعبے کی ذمہ داری۔جدید ریاست اتنے پیچیدہ معاملات کو عمومی انتظامی صلاحیت کے سہارے نہیں چلا سکتی۔ ریاست کو عمومی منتظمین کے ساتھ ساتھ پیشہ ور افراد کی ضرورت ہے۔ جو شخص پولیس میں جائے، اسے پولیسنگ، فوجداری انصاف، تفتیش اور قانون نافذ کرنے کی باقاعدہ تعلیم دی جائے۔ جو محصولات اور مالیاتی امور میں جائے، اسے مالیاتی انتظام اور محصولات کے علم سے آراستہ کیا جائے۔ صحت، تعلیم، شہری منصوبہ بندی، توانائی، انفراسٹرکچر اور دوسرے اہم شعبوں کے لیے متعلقہ پیشہ ورانہ تخصص لازمی ہو۔ مقابلے کا امتحان دروازہ کھول سکتا ہے، مگر اس کے بعد تخصص ہی افسر کو اس شعبے کا اہل بناتا ہے۔ایک جدید ریاست میں ڈاکٹر کو انجینئر کا کام نہیں دیا جاتا؛ پھر ریاستی انتظام میں یہ اصول کیوں نظر انداز کیا جائے؟بیوروکریسی کی تعمیر نو کا مطلب محض پرانے ڈھانچے کو توڑنا نہیں بلکہ اسے زیادہ پیشہ ور، جواب دہ اور عوام دوست بنانا ہے۔ اس کے ساتھ سیاسی قیادت کو بھی حقیقی اختیار دینا ہو گا۔ وزیراعلیٰ صرف علامتی سربراہ نہ ہو بلکہ انتظامی کارکردگی کا ذمہ دار ہو۔ ہر وزیر اپنے محکمے کی حقیقی ذمہ داری قبول کرے، مگر اختیار کے ساتھ احتساب بھی ہو۔ تبادلے، تعیناتیاں اور پالیسی کے فیصلے آئینی حدود میں منتخب حکومت کی ذمہ داری ہوں اور نگرانی کرنے والے ادارے خود کسی محکمے کو ذاتی چراگاہ نہ بنائیں۔یہ بحث سیاسی جماعتوں کی اصلاح کے بغیر بھی مکمل نہیں ہو سکتی۔سیاسی جماعتیں صرف خاندانوں، شخصیات، انتخابی نعروں اور موروثی عہدوں کا نام نہیں۔ ایک زندہ سیاسی جماعت فکر، نظریے، تنظیم، جمہوری تربیت اور مسلسل تجدید کا نام ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے ہماری بیشتر جماعتوں میں وقت کے ساتھ نئی فکر اور نئی قیادت کے لیے جگہ کم ہوتی گئی۔ اختلافِ رائے کو دشمنی اور سوال کو بغاوت سمجھا جانے لگا۔ یوں تحریکیں تنظیموں، تنظیمیں گروہوں اور گروہ محض انتخابی ڈھانچوں میں تبدیل ہوتے گئے۔یہ روش بدلنا ہوگی۔جو جماعت اپنے اندر نئی قیادت پیدا نہیں کرتی، وہ آہستہ آہستہ اپنی سیاسی زندگی کھو دیتی ہے۔ جمہوریت کی اصل بنیاد صرف پارلیمنٹ نہیں بلکہ زندہ، متحرک اور اندر سے جمہوری سیاسی جماعتیں ہیں۔ سندھ اور بالخصوص کراچی کے مسائل بھی صرف نقشے بدلنے سے حل نہیں ہوں گے۔ آبادی، ہجرت، نمائندگی اور وسائل کے سوالات کا جواب انصاف، مساوی مواقع، مو¿ثر بلدیاتی نظام، شفاف وسائل کی تقسیم اور سیاسی اعتماد میں تلاش کرنا ہوگا۔آخرکار سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اپنے شہری تک پہنچ رہی ہے؟وہ عام آدمی جو اپنے بچوں کو موٹر سائیکل پر بٹھا کر روزگار کی تلاش میں نکلتا ہے، جسے علاج، تعلیم، انصاف اور روزگار کے لیے دروازے کھٹکھٹانا پڑتے ہیں، اسے نئے صوبے کے نام سے زیادہ ریاست کی کارکردگی درکار ہے۔اسے نیا صوبہ نہیں، اچھا انتظام چاہیے۔اسے نیا عہدہ نہیں، اہل قیادت چاہیے۔ اسے نئی سیاسی حد بندی نہیں، انصاف اور اختیار چاہیے۔لہٰذا پاکستان کو نقشے پر مزید لکیروں سے زیادہ نظام میں نئی روح کی ضرورت ہے۔ موجودہ صوبوں کے اندر مضبوط انتظامی اکائیاں قائم کی جائیں، اختیار نچلی سطح تک منتقل کیا جائے، بیوروکریسی کو تخصص اور پیشہ ورانہ اہلیت کی بنیاد پر ازسرِنو منظم کیا جائے، سیاسی قیادت کو اختیار کے ساتھ جواب دہ بنایا جائے اور سیاسی جماعتوں کو موروثی جمود سے نکال کر فکری و تنظیمی تجدید کی طرف لے جایا جائے۔ کسی ریاست کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ اس کے کتنے صوبے ہیں؛ اصل پیمانہ یہ ہے کہ اس کا شہری کتنا باعزت، محفوظ، خوش حال، آزاد اور بااختیار ہے۔

مزیدخبریں