تین روز قبل خورخے کا انتقال ہو گیا۔ اس سے دو روز قبل پنجاب اور خیبر پختونخوا کے تمام تعلیمی بورڈز کے نتائج کا اعلان ہوا۔ یہ دونوں واقعات کرہ ارض کے دو مختلف حصوں میں پیش آئے جو ایک دوسرے سے ہزاروں میل کی دوری اور سات سمندروں کے فاصلے پر ہیں۔ بظاہر ان واقعات کا آپس میں کوئی تعلق بھی نہیں لیکن غور کریں تو ان میں ایک بہت باریک سا تعلق نظر آئے گا۔ وہ یوں کہ خورخے نے ہمارے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بہت بڑی مثال قائم کی ہے۔ اس نے ایک خواب دیکھا اور اس کی تعبیر حاصل کرنے کے لیے ہر مشکل سے ٹکرا گیا۔ بالآخر اپنی موت سے چند ہفتے قبل اس کی تعبیر اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔
انگریزی ہجوں کے باعث خورخے کے نام کو اس کی موت تک بیشتر لوگ جارج سمجھتے رہے لیکن جب اس کا انتقال ہوا تو اپنے خواب کی تعبیر کے لیے اس کی جدوجہد نے ہم ایسوں کو اس کے بارے میں مزید جاننے پر مجبور کیا اور تب کھلا کہ جسے نام کو ہم جارج سمجھتے رہے ہیں وہ دراصل خورخے ہے کیونکہ جارج کو ہسپانوی زبان میں خورخے کہتے ہیں اور خورخے ہسپانوی زبان بولنے والا شخص تھا۔جب تک وہ زندہ تھا تو اسے بہت کم لوگ جانتے تھے لیکن خورخے کا انتقال ہوا تو اس کی موت کی خبریں پوری دنیا کے میڈیا کی زینت بن گئیں۔ ایک ایسا شخص جس نے اپنی زندگی میں خود کبھی نمایاں ہونے کی کوشش نہیں کی، اس کے خواب کی تعبیر نے موت کے وقت اسے گمنامی سے نکال کر ایک شہرہ آفاق شخصیت کے منصب پر بٹھا دیا۔ اس سارے عمل کے پیچھے اس شخص کا خواب کو تعبیر میں بدلنے کا یقین کارفرما تھا۔ وہ یقین ایسا ناقابل یقین تھا کہ حقیقت ہونے کے باوجود کوئی فسانہ محسوس ہوتا ہے۔خورخے یا جارج ایک باپ تھا جسے اپنے بیٹے پر اتنا یقین تھا کہ اس یقین کی دولت سے اس نے اپنے اس بیٹے کو زمین سے اٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا جو جسمانی طور پر عام بچوں کی نسبت کمزور تھا۔ ایسا بچہ شاید کسی اور کے گھر پیدا ہوتا تو معذوری، لاچاری یا ناکامی کی زندگی گزار دیتا لیکن خورخے کے گھر جنم لینا اسے ایک ایسا اساطیری کردار بنا گیا جو اب دنیا کی تاریخ میں ایک ناقابل فراموش حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
آج کی یہ تحریر خورخے سے متعلق ہے لیکن جب تک اس کے خواب کی تفصیل بیان نہ ہو تحریر سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ سو یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ خورخے فٹبال کی دنیا کے لمحہ موجود میں بہترین کھلاڑی لیونل میسی کے والد کا نام تھا۔ خورخے کو ہر باپ کی طرح اپنی اولاد سے بہت سی توقعات ہوں گی اور اس نے اپنے سب بچوں کے لیے بہت سے خواب دیکھے ہوں گے لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اسے اپنے خواب کی تعبیر جس بچے میں نظر آئی، وہ اس کے چار بچوں میں جسمانی طور پر سب سے کمزور تھا۔ خورخے جو کبھی خود بھی مقامی سطح کا فٹبال کا کھلاڑی رہا تھا، غم روزگار کی ہاتھوں مجبور ہو کر فیکٹری میں کام کرنے لگا لیکن اپنے تیسرے بیٹے لیونل میسی کا فٹبال کے لیے جنون دیکھ کر اسے فٹبال کھیلنا سکھاتا رہا تاہم جب یہ بچہ دس گیارہ سال کی عمر کو پہنچا تو خورخے پر منکشف ہوا کہ اس کا بیٹا ایک ایسے مرض میں مبتلا ہے جس میں جسم کی نشوونما رک جاتی ہے۔ اس کے اپنے شہر اور ملک میں ایسے کمزور بچے کے کسی فٹبال کلب کا حصہ بننے کا کوئی امکان نہیں تھا، اس نے کوشش بھی لیکن کامیاب نہیں ہوا مگر ہمت نہیں ہاری۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اس صورت حال میں اپنے بیٹے سے کہتا کہ فٹبال چھوڑے اور پڑھائی پر توجہ دے کر ڈاکٹر، انجینئر، استاد یا وکیل وغیرہ بننے کی کوشش کرے لیکن وہ اپنے ساری جمع پونجی خرچ کر کے اپنے اسی بیٹے کے ہمراہ ارجنٹائن سے سات سمندر پار کا سفر کر کے سپین جا پہنچا اور بیٹے کو سپینش لیگ کے سب سے بڑے کلب بارسلونا کی فٹبال اکیڈمی میں ٹرائل دلوایا۔ اتنا بڑا رسک کوئی جنونی ہی لے سکتا ہے۔ بارسلونا کی انتظامیہ کو بچے کا کھیل تو بہت پسند آیا لیکن کمزور جسامت کی وجہ سے اس کے ساتھ معاہدہ کرنے سے گریزاں تھی۔ خورخے نے انہیں ارجنٹائن واپس جانے کی دھمکی دے دی۔ یہ کام بھی کوئی جنونی ہی کر سکتا تھا۔ بارسلونا کی انتظامیہ پر خورخے کے اس جنون کا خاطر خواہ اثر ہوا اور انہوں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اس کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ یہ معاہدہ اس قدر عجلت میں کیا گیا کہ جس جگہ بیٹھ کر یہ بات چیت ہو رہی تھی، وہاں کوئی کاغذ موجود نہ ہونے کے باعث کلب منتظمین نے ایک ٹشو پیپر پر تحریر لکھ کر اور اپنے دستخط کر کے خورخے کے حوالے کر دیا۔ اس معاہدے میں میسی کا علاج بھی شامل تھا۔
میسی 2000 میں 13 سال کی عمر میں بارسلونا کا حصہ بنا اور صرف چھ سال بعد 2006 میں 19سال کی عمر میں ارجنٹائن کی طرف سے پہلا فیفا ورلڈ کپ کھیلا، بہت سی ٹرافیاں جیتیں، 2022 میں ارجنٹائن کو فیفا ورلڈ کپ جتوایا اور2026 کے گزشتہ ماہ ختم ہونے والے ورلڈ کپ میں ”گوٹ“ یعنی دنیا کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز پایا۔ خورخے نے میسی کے اس عروج کی صورت اپنے خواب کو تعبیر کی منزل تک پہنچتے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس دوران میسی کو اس کی ہر طرح کی مدد اور حمایت حاصل رہی۔ گویا خورخے نے جو خواب دیکھا، اس کی تعبیر پانے کے لیے پورے یقین سے جتا رہا اور تعبیر حاصل کر ہی لی۔ آج دنیا میسی کو فٹبال کا سب سے بڑا کھلاڑی مانتی ہے تو اس کے پیچھے ایک باپ کا خواب کی تعبیر کے لیے پختہ یقین کارفرما ہے۔ خورخے دنیا سے رخصت ہو گیا لیکن اس اطمینان کے ساتھ کہ جو خواب اس نے دیکھا تھا، اس کی تعبیر پا لی۔ یہ سارا قصہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ خواب کی تعبیر یوں حاصل کی جاتی ہے جیسے خورخے نے کی۔ ہم لوگ اپنے بچوں سے توقعات تو وابستہ کر لیتے ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ ان توقعات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ساری کوشش بچے خود ہی کرتے رہیں، ہمیں خود کچھ نہ کرنا پڑے۔ کئی لوگ بہت کچھ کرتے بھی ہیں لیکن پھر بھی شاید اتنا نہیں کر پاتے جتنا خورخے نے کیا یہی وجہ ہے کہ جب میٹرک یا انٹرمیڈیٹ وغیرہ کے نتائج میں بچوں کے نمبر کم آئیں تو ہمیں بعض اوقات بچوں کے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کرنے جیسی افسوسناک خبریں بھی پڑھنے کو ملتی ہیں۔ اس بار بھی پشاور اور مظفر گڑھ سے ایسی دو افسوس ناک خبریں دیکھنے میں آئیں۔ بچوں کا اچھے نمبر لینا اچھی بات ہے لیکن صرف نمبروں کو ان کی زندگی کا مقصد بنا دینا بھی دانشمندی نہیں۔ بچوں کو زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دینا چاہیے، ناکامی کی صورت میں ان کی دل جوئی کرنی چاہیے اور جو راستہ وہ اپنانا چاہیں، خورخے کی طرح اس پر چلنے میں ان کی مدد کرنی چاہیے۔ اسی صورت میں خوابوں کو تعبیریں مل سکتی ہیں۔
تعبیر کا یقین
09:26 AM, 11 Aug, 2026